صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا —
مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا —
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی —
اس مشت غبار (انسان) سے نا امید نہ ہو —
بے شک یہ جہانِ رنگ بو اس قابل ہے کہ اسے سمجھا جائے —
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے —
میرا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے —
میرے سوز سے مسلمان کی رگوں میں خون تڑپ رہا ہے —
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا —
ہر دل میں عشق ننے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے —
ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا —
ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے —
بالاخر اقبال نے عقل چالاک کو چھوڑ دیا —
سمندر کی آزادی
Trifles - How nice a thing it were