تراجم
یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
پیش کش بہ حضور اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان فرمانروای دولت مستقلہ افغانستان خلد اللہ ملکہ و اجلالہ
ساری کائنات اسی (اللہ تعالیٰ) کی کبریائی پر نثار ہے ۔ بندگی تمام موجودات کی سرشت میں ہے ۔ دستور قدیم کے مطابق اقبال نے اس میں حمد باری تعالیٰ بیان کی ہے ۔
میرا دل (سوز درون) باطن کی آنچ سے روشن ہے ۔ میری آنکھ خون کے آنسووَں کے باعث دنیا دیکھتی ہے یعنی رموز و اسرار جہان کو دیکھنے والی ہے ۔
عشق باغوں کی بہار کو ہوا دیتا ہے ۔ عشق جنگلوں کو ستاروں کی مانند گچھے ایسی کلیاں سفید غنچے بخشتا ہے ۔
عشق عقابوں کا مول گھٹا دیتا ہے (عشق کی نظر میں عقاب کوئی شے نہیں ) ۔ عشق چکوروں کو بازوں پر فوقیت دیتا ہے ۔ مراد ہے عشق کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ۔
گل لالہ کی پنکھڑیوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے ۔ ہماری جانوں میں عشق کی بلا انگیزی ہے یعنی شور ہے ۔
ہر شخص محبت کی دولت نہیں رکھتا نہ محبت ہر کسی کو موافق آتی ہے ۔
میں ا س باغ (دنیا) میں خوشبو کی طرح سرگرداں (پریشان) ہوں ۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیا چاہتا ہوں کیا ڈھونڈتا ہوں ۔
یہ دنیا مٹھی بھر مٹی (خاک) ہے اور دل اس کا حاصل ہے ۔ یہی ایک بوند لہو اس کی مشکل ہے (اسی قطرہَ خون کو سنبھالنا مشکل ہے) ۔
صبح کے وقت بلبل نے باغبان سے کہا کہ اس مٹی میں غم کے پودے کے سوا اور کچھ نہیں اگتا ۔
ہمارا جہان جس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ نقصان یہاں کے فائدے کا ہمزاد ہے یہاں فائدے کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے
عشق کے نغمے کے لیے آدمی ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں ) ۔ آدمی خالق حقیقی کے بھید کھولتا ہے مگر خود راز ہے ۔
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی ۔ میں خود تمام کا تمام راز ہوں اور جہان راز کو ڈھونڈتا ہوں ۔
اے دل! پروانے کی سی نادانی کب تک (کب تک بے عقلی سے بے مقصدیت کی زندگی بسر کرتا رہے گا) ۔ تو کب تک مردوں کا انداز اختیار نہیں کرے گا(کب ہمت سے کام لے گا) ۔
اس مٹھی بھر خاک سے ایک ایسا پیکر (بدن) پیدا کر ۔ جو چٹانی قلعے سے زیادہ مضبوط پیکر ہو ۔
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا ۔ خوبصورت کائنات تخلیق کی ۔ جنت سے زیادہ خوشنما دنیا بنائی ۔
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا ۔ زندگی کا فروغ اجالا چمک (گویا) چنگاری کی چمک تھی مراد آدمی کی زندگی جلد گزرنے والی ہے ۔
اے صبح کے ستارے تو بہت تیزی سے گزر گیا شاید تو ہماری غفلت سے بیزار گیا (تو ہم سے ناراض ہو گیا) ۔
تو یہ میخانہ (دنیا) ہاے و ہو سے خالی ہوتا ۔ ہماری مٹی چنگاری (کی چمک) سے خالی رہتی ۔
اے تازہ پرواز پرندے (انسان) تجھے خدا نے (صرف اس لیے) بنایا کہ تو سر سے پاؤں تک اڑان کی لذت لے ۔
یارب ہونے اور ہو جانے (وجود ہستی) میں کیا لذت رکھی ہے ۔ ہر ذرے کا دل اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بیتاب ہے ۔
میں نے عدم میں پروانے کو یہ کہتے سنا مجھے زندگی بھر میں سے ایک پل کی تپش اور تڑپ بخش دے یعنی میں دنیا میں عاشقانہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں ۔
اے مسلمانو! میرے دل میں ایک حرف (رمز) ہے جو جبرئیل کی روح سے زیادہ روشن ہے ۔
اے دل اے دل تو اس کی گلی میں پھرتا رہتا ہے تو نے مجھے اکیلا چھوڑ رکھا ہے ۔ اے دل اے دل ( میں بے راہ و منزل آوارہ و پریشان ہوں ) ۔
تو ستاروں کے سینے میں راستہ بنا لیتا ہے ۔ (تیری ستاروں تک رسائی ہے) لیکن اپنے آپ سے بے خبر ہے ۔
صبح کے وقت کی بہت سی ٹہنیوں والے درخت کی شاخ پر ایک چہچہانے والا پرندہ کیا خوب کہہ رہا تھا ۔
میں تجھ سے ایک راز کی بات کہتا ہوں ۔ اگر تو زندگی کا سبق مجھ سے لے یا لینا چاہے ۔
چھوڑ اس پتنگے (پروانہ بے قرار) کی داستان اس کے جلنے کا بیان کانوں کے لیے تکلیف دہ ہے(شمع اور پروانہ کے قصہ کو کون نہیں جانتا) ۔
(جو) تجھے خود سے بیگانہ بنا دے میں وہ سرور پیدا کرنے والی شراب نہیں رکھتا ۔
تو میرے باغ کی سیر سے نقصان کی بات دیکھے گا ۔ اگر تیری جان جستجو کی ماری ہوئی نہیں ہے ۔
ہونے اور نہ ہونے کے بھنور سے نکل جا ، کیسے اور کتنے کی اس دنیا سے بلند ہو جا ۔
میں چمن کے پرندوں سے نا آشنا ہوں ۔ آشیانے کی شاخ پر اکیلا گاتا ہوں ( میں منفرد شاعر ہوں میری شاعری کی اپنی انفرادیت ہے) ۔
یارب اس دنیا میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے ۔ تو نے سب کو ایک ہی پیالے سے مست کر دیا ۔
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی ہے ۔ بحر و بر کے سوز و ساز میں حصہ دار ہو (شریک ہو جا) ۔
(ایران کے بادشاہ) کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں ۔ (مادی ہیں مٹ جانے والے ہیں ) گرجا اور مندر اور کعبہ سب مٹی سے بنے ہوئے ہیں ۔
اگر خدا نے تیرے بدن میں خون کے آنسو برسانے والا سو ٹکڑے ہوا دل رکھا ہے ۔
زندگی ہر پل نئی نئی صورتیں ڈھالتی ہے (ایک نیا نقش پیدا کرتی ہے) ۔ (کسی) ایک صورت پر زندگی کا ٹھہراوَ نہیں (زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں ) ۔
جب نغمہ سرائی کا ذوق جب مجھے مجلس میں لے آتا ہے تو میں اپنی محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہوں (انقلاب برپا کر دیتا ہوں ) ۔
تو کیا پوچھتا ہے کہ سینے میں دل کیا ہے ۔ عقل نے جب سوز پیدا کر لیا تو وہ دل بن گیا ۔
عقل کہتی ہے کہ وہ محبوب خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا (آنکھ دیکھ نہیں سکتی) عشق کی نظر آس اور دھڑکے میں ہے ۔
آتشکدہ اور مسجد اور مند اور گرجا نے تو بس یہ مٹھی بھر گارا پیدا کیا (تو نے اپنی ساری توجہ چونے اور پتھر کی عمارتوں کے بنانے میں صرف کر د ی ان میں خدا کو تلاش کرنا شروع کر دیا)
میں نے اس باغ (دنیا) میں دل نہیں لگایا میں اس کے بندھنوں (دنیاوی علائق و آلائش) سے آزاد رہا ہوں ۔
پرانے مست (شرابی) کو اپنے آپ میں لوٹا لاتی ہے (دوبارہ ہوش میں لے آتی ہے) ۔ وہ نئی جوان شراب جو میں نے پیالے میں بھری ہے
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جمشید کا پیالہ بنا دیا ۔ میرے قطرے میں دریا چھپا دیا ۔
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے ۔ آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے ۔
عقل تو ہر شخص کے سر میں رکھی گئی ہے (تھوڑی ہو یا بہت) دوسروں کی طرح میرا بدن (بھی) مٹی اور خون سے بنا ہے ۔
تو دیدار کا منگتا خدا کی تجلی کا طالب بن کر طور پر گیا کیونکہ تو خود اپنے آپ سے انجان ہے ۔ (تیری جان اپنے آپ سے ناشنا ساتھی تجھ کو معلوم نہیں کہ جس تجلی کو تو کوہ طور پر ڈھونڈتا ہے وہ تیرے اندر موجود ہے شرط خود کو پہچاننے کی ہے) ۔
جبریل کو میرا ایک پیغام دو مجھے وہ نور پیکر نہیں بخشا گیا (مجھے خالق نے تجھ جیسا نورانی جسم عطا نہیں کیا ) ۔
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کا ہما تیرے جال میں آ پھنسے تو یقین کم کر ، شک میں گرفتار رہ ۔
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن دیئے ہیں اور میں دیدار کی پیاسی ایک نظر رکھتا ہوں (میری نگاہ دیدار کی پیاسی ہے) ۔