تراجم
پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
پیشکش به حضور اعلیحضرت امیرامان الله خان فرمانروای دولت مستقلهٔ افغانستان خلد الله ملکه و اجلاله
پیش کش بہ حضور اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان فرمانروای دولت مستقلہ افغانستان خلد اللہ ملکہ و اجلالہ
رباعی شمارهٔ 1شهید ناز او بزم وجود است
ساری کائنات اسی (اللہ تعالیٰ) کی کبریائی پر نثار ہے ۔ بندگی تمام موجودات کی سرشت میں ہے ۔ دستور قدیم کے مطابق اقبال نے اس میں حمد باری تعالیٰ بیان کی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 2دل من روشن از سوز درون است
میرا دل (سوز درون) باطن کی آنچ سے روشن ہے ۔ میری آنکھ خون کے آنسووَں کے باعث دنیا دیکھتی ہے یعنی رموز و اسرار جہان کو دیکھنے والی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 3به باغان باد فروردین دهد عشق
عشق باغوں کی بہار کو ہوا دیتا ہے ۔ عشق جنگلوں کو ستاروں کی مانند گچھے ایسی کلیاں سفید غنچے بخشتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 4عقابان را بهای کم نهد عشق
عشق عقابوں کا مول گھٹا دیتا ہے (عشق کی نظر میں عقاب کوئی شے نہیں ) ۔ عشق چکوروں کو بازوں پر فوقیت دیتا ہے ۔ مراد ہے عشق کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ۔
رباعی شمارهٔ 5به برگ لاله رنگ آمیزی عشق
گل لالہ کی پنکھڑیوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے ۔ ہماری جانوں میں عشق کی بلا انگیزی ہے یعنی شور ہے ۔
رباعی شمارهٔ 6نه هر کس از محبت مایه دار است
ہر شخص محبت کی دولت نہیں رکھتا نہ محبت ہر کسی کو موافق آتی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 7درین گلشن پریشان مثل بویم
میں ا س باغ (دنیا) میں خوشبو کی طرح سرگرداں (پریشان) ہوں ۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیا چاہتا ہوں کیا ڈھونڈتا ہوں ۔
رباعی شمارهٔ 8جهان مشت گل و دل حاصل اوست
یہ دنیا مٹھی بھر مٹی (خاک) ہے اور دل اس کا حاصل ہے ۔ یہی ایک بوند لہو اس کی مشکل ہے (اسی قطرہَ خون کو سنبھالنا مشکل ہے) ۔
رباعی شمارهٔ 9سحر می گفت بلبل باغبان را
صبح کے وقت بلبل نے باغبان سے کہا کہ اس مٹی میں غم کے پودے کے سوا اور کچھ نہیں اگتا ۔
رباعی شمارهٔ 10جهان ما که نابود است بودش
ہمارا جہان جس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ نقصان یہاں کے فائدے کا ہمزاد ہے یہاں فائدے کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے
رباعی شمارهٔ 11نوای عشق را ساز است آدم
عشق کے نغمے کے لیے آدمی ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں ) ۔ آدمی خالق حقیقی کے بھید کھولتا ہے مگر خود راز ہے ۔
رباعی شمارهٔ 12نه من انجام و نی آغاز جویم
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی ۔ میں خود تمام کا تمام راز ہوں اور جہان راز کو ڈھونڈتا ہوں ۔
رباعی شمارهٔ 13دلا نارائی پروانه تا کی
اے دل! پروانے کی سی نادانی کب تک (کب تک بے عقلی سے بے مقصدیت کی زندگی بسر کرتا رہے گا) ۔ تو کب تک مردوں کا انداز اختیار نہیں کرے گا(کب ہمت سے کام لے گا) ۔
رباعی شمارهٔ 14تنی پیدا کن از مشت غباری
اس مٹھی بھر خاک سے ایک ایسا پیکر (بدن) پیدا کر ۔ جو چٹانی قلعے سے زیادہ مضبوط پیکر ہو ۔
رباعی شمارهٔ 15ز آب و گل خدا خوش پیکری ساخت
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا ۔ خوبصورت کائنات تخلیق کی ۔ جنت سے زیادہ خوشنما دنیا بنائی ۔
رباعی شمارهٔ 16به یزدان روز محشر برهمن گفت
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا ۔ زندگی کا فروغ اجالا چمک (گویا) چنگاری کی چمک تھی مراد آدمی کی زندگی جلد گزرنے والی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 17گذشتی تیز گام ای اختر صبح
اے صبح کے ستارے تو بہت تیزی سے گزر گیا شاید تو ہماری غفلت سے بیزار گیا (تو ہم سے ناراض ہو گیا) ۔
رباعی شمارهٔ 18تهی از های و هو میخانه بودی
تو یہ میخانہ (دنیا) ہاے و ہو سے خالی ہوتا ۔ ہماری مٹی چنگاری (کی چمک) سے خالی رہتی ۔
رباعی شمارهٔ 19ترا ای تازه پرواز آفریدند
اے تازہ پرواز پرندے (انسان) تجھے خدا نے (صرف اس لیے) بنایا کہ تو سر سے پاؤں تک اڑان کی لذت لے ۔
رباعی شمارهٔ 20چه لذت یارب اندر هست و بود است
یارب ہونے اور ہو جانے (وجود ہستی) میں کیا لذت رکھی ہے ۔ ہر ذرے کا دل اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بیتاب ہے ۔
رباعی شمارهٔ 21شنیدم در عدم پروانه میگفت
میں نے عدم میں پروانے کو یہ کہتے سنا مجھے زندگی بھر میں سے ایک پل کی تپش اور تڑپ بخش دے یعنی میں دنیا میں عاشقانہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں ۔
رباعی شمارهٔ 22مسلمانان مرا حرفی است در دل
اے مسلمانو! میرے دل میں ایک حرف (رمز) ہے جو جبرئیل کی روح سے زیادہ روشن ہے ۔
رباعی شمارهٔ 23به کویش رهسپاری ای دل ای دل
اے دل اے دل تو اس کی گلی میں پھرتا رہتا ہے تو نے مجھے اکیلا چھوڑ رکھا ہے ۔ اے دل اے دل ( میں بے راہ و منزل آوارہ و پریشان ہوں ) ۔
رباعی شمارهٔ 24رهی در سینهٔ انجم گشائی
تو ستاروں کے سینے میں راستہ بنا لیتا ہے ۔ (تیری ستاروں تک رسائی ہے) لیکن اپنے آپ سے بے خبر ہے ۔
رباعی شمارهٔ 25سحر در شاخسار بوستانی
صبح کے وقت کی بہت سی ٹہنیوں والے درخت کی شاخ پر ایک چہچہانے والا پرندہ کیا خوب کہہ رہا تھا ۔
رباعی شمارهٔ 26ترا یک نکتهٔ سر بسته گویم
میں تجھ سے ایک راز کی بات کہتا ہوں ۔ اگر تو زندگی کا سبق مجھ سے لے یا لینا چاہے ۔
رباعی شمارهٔ 27بهل افسانهٔ آن پا چراغی
چھوڑ اس پتنگے (پروانہ بے قرار) کی داستان اس کے جلنے کا بیان کانوں کے لیے تکلیف دہ ہے(شمع اور پروانہ کے قصہ کو کون نہیں جانتا) ۔
رباعی شمارهٔ 28ترا از خویشتن بیگانه سازد
(جو) تجھے خود سے بیگانہ بنا دے میں وہ سرور پیدا کرنے والی شراب نہیں رکھتا ۔
رباعی شمارهٔ 29زیان بینی ز سیر بوستانم
تو میرے باغ کی سیر سے نقصان کی بات دیکھے گا ۔ اگر تیری جان جستجو کی ماری ہوئی نہیں ہے ۔
رباعی شمارهٔ 30برون از ورطهٔ بود و عدم شو
ہونے اور نہ ہونے کے بھنور سے نکل جا ، کیسے اور کتنے کی اس دنیا سے بلند ہو جا ۔
رباعی شمارهٔ 31ز مرغان چمن نا آشنایم
میں چمن کے پرندوں سے نا آشنا ہوں ۔ آشیانے کی شاخ پر اکیلا گاتا ہوں ( میں منفرد شاعر ہوں میری شاعری کی اپنی انفرادیت ہے) ۔
رباعی شمارهٔ 32جهان یارب چه خوش هنگامه دارد
یارب اس دنیا میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے ۔ تو نے سب کو ایک ہی پیالے سے مست کر دیا ۔
رباعی شمارهٔ 33سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی ہے ۔ بحر و بر کے سوز و ساز میں حصہ دار ہو (شریک ہو جا) ۔
رباعی شمارهٔ 34سریر کیقباد ، اکلیل جم خاک
(ایران کے بادشاہ) کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں ۔ (مادی ہیں مٹ جانے والے ہیں ) گرجا اور مندر اور کعبہ سب مٹی سے بنے ہوئے ہیں ۔
رباعی شمارهٔ 35اگر در مشت خاک تو نهادند
اگر خدا نے تیرے بدن میں خون کے آنسو برسانے والا سو ٹکڑے ہوا دل رکھا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 36دمادم نقش های تازه ریزد
زندگی ہر پل نئی نئی صورتیں ڈھالتی ہے (ایک نیا نقش پیدا کرتی ہے) ۔ (کسی) ایک صورت پر زندگی کا ٹھہراوَ نہیں (زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں ) ۔
رباعی شمارهٔ 37چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد
جب نغمہ سرائی کا ذوق جب مجھے مجلس میں لے آتا ہے تو میں اپنی محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہوں (انقلاب برپا کر دیتا ہوں ) ۔
رباعی شمارهٔ 38چه میپرسی میان سینه دل چیست
تو کیا پوچھتا ہے کہ سینے میں دل کیا ہے ۔ عقل نے جب سوز پیدا کر لیا تو وہ دل بن گیا ۔
رباعی شمارهٔ 39خرد گفت او بچشم اندر نگنجد
عقل کہتی ہے کہ وہ محبوب خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا (آنکھ دیکھ نہیں سکتی) عشق کی نظر آس اور دھڑکے میں ہے ۔
رباعی شمارهٔ 40کنشت و مسجد و بتخانه و دیر
آتشکدہ اور مسجد اور مند اور گرجا نے تو بس یہ مٹھی بھر گارا پیدا کیا (تو نے اپنی ساری توجہ چونے اور پتھر کی عمارتوں کے بنانے میں صرف کر د ی ان میں خدا کو تلاش کرنا شروع کر دیا)
رباعی شمارهٔ 41نه پیوستم درین بستان سرا دل
میں نے اس باغ (دنیا) میں دل نہیں لگایا میں اس کے بندھنوں (دنیاوی علائق و آلائش) سے آزاد رہا ہوں ۔
رباعی شمارهٔ 42به خود باز آورد رند کهن را
پرانے مست (شرابی) کو اپنے آپ میں لوٹا لاتی ہے (دوبارہ ہوش میں لے آتی ہے) ۔ وہ نئی جوان شراب جو میں نے پیالے میں بھری ہے
رباعی شمارهٔ 43سفالم را می او جام جم کرد
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جمشید کا پیالہ بنا دیا ۔ میرے قطرے میں دریا چھپا دیا ۔
رباعی شمارهٔ 44خرد زنجیری امروز و دوش است
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے ۔ آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 45خرد اندر سر هر کس نهادند
عقل تو ہر شخص کے سر میں رکھی گئی ہے (تھوڑی ہو یا بہت) دوسروں کی طرح میرا بدن (بھی) مٹی اور خون سے بنا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 46گدای جلوه رفتی بر سر طور
تو دیدار کا منگتا خدا کی تجلی کا طالب بن کر طور پر گیا کیونکہ تو خود اپنے آپ سے انجان ہے ۔ (تیری جان اپنے آپ سے ناشنا ساتھی تجھ کو معلوم نہیں کہ جس تجلی کو تو کوہ طور پر ڈھونڈتا ہے وہ تیرے اندر موجود ہے شرط خود کو پہچاننے کی ہے) ۔
رباعی شمارهٔ 47بگو جبریل را از من پیامی
جبریل کو میرا ایک پیغام دو مجھے وہ نور پیکر نہیں بخشا گیا (مجھے خالق نے تجھ جیسا نورانی جسم عطا نہیں کیا ) ۔
رباعی شمارهٔ 48همای علم تا افتد بدامت
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کا ہما تیرے جال میں آ پھنسے تو یقین کم کر ، شک میں گرفتار رہ ۔
رباعی شمارهٔ 49خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن دیئے ہیں اور میں دیدار کی پیاسی ایک نظر رکھتا ہوں (میری نگاہ دیدار کی پیاسی ہے) ۔

