تراجم

پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

213نظمیں

تراجم والی نظمیں

پیشکش به حضور اعلیحضرت امیرامان الله خان فرمانروای دولت مستقلهٔ افغانستان خلد الله ملکه و اجلاله

پیش کش بہ حضور اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ خان فرمانروای دولت مستقلہ افغانستان خلد اللہ ملکہ و اجلالہ

اردوEn

رباعی شمارهٔ 1شهید ناز او بزم وجود است

ساری کائنات اسی (اللہ تعالیٰ) کی کبریائی پر نثار ہے ۔ بندگی تمام موجودات کی سرشت میں ہے ۔ دستور قدیم کے مطابق اقبال نے اس میں حمد باری تعالیٰ بیان کی ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 2دل من روشن از سوز درون است

میرا دل (سوز درون) باطن کی آنچ سے روشن ہے ۔ میری آنکھ خون کے آنسووَں کے باعث دنیا دیکھتی ہے یعنی رموز و اسرار جہان کو دیکھنے والی ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 3به باغان باد فروردین دهد عشق

عشق باغوں کی بہار کو ہوا دیتا ہے ۔ عشق جنگلوں کو ستاروں کی مانند گچھے ایسی کلیاں سفید غنچے بخشتا ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 4عقابان را بهای کم نهد عشق

عشق عقابوں کا مول گھٹا دیتا ہے (عشق کی نظر میں عقاب کوئی شے نہیں ) ۔ عشق چکوروں کو بازوں پر فوقیت دیتا ہے ۔ مراد ہے عشق کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 5به برگ لاله رنگ آمیزی عشق

گل لالہ کی پنکھڑیوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے ۔ ہماری جانوں میں عشق کی بلا انگیزی ہے یعنی شور ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 6نه هر کس از محبت مایه دار است

ہر شخص محبت کی دولت نہیں رکھتا نہ محبت ہر کسی کو موافق آتی ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 7درین گلشن پریشان مثل بویم

میں ا س باغ (دنیا) میں خوشبو کی طرح سرگرداں (پریشان) ہوں ۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیا چاہتا ہوں کیا ڈھونڈتا ہوں ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 8جهان مشت گل و دل حاصل اوست

یہ دنیا مٹھی بھر مٹی (خاک) ہے اور دل اس کا حاصل ہے ۔ یہی ایک بوند لہو اس کی مشکل ہے (اسی قطرہَ خون کو سنبھالنا مشکل ہے) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 9سحر می گفت بلبل باغبان را

صبح کے وقت بلبل نے باغبان سے کہا کہ اس مٹی میں غم کے پودے کے سوا اور کچھ نہیں اگتا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 10جهان ما که نابود است بودش

ہمارا جہان جس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ نقصان یہاں کے فائدے کا ہمزاد ہے یہاں فائدے کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 11نوای عشق را ساز است آدم

عشق کے نغمے کے لیے آدمی ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں ) ۔ آدمی خالق حقیقی کے بھید کھولتا ہے مگر خود راز ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 12نه من انجام و نی آغاز جویم

نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی ۔ میں خود تمام کا تمام راز ہوں اور جہان راز کو ڈھونڈتا ہوں ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 13دلا نارائی پروانه تا کی

اے دل! پروانے کی سی نادانی کب تک (کب تک بے عقلی سے بے مقصدیت کی زندگی بسر کرتا رہے گا) ۔ تو کب تک مردوں کا انداز اختیار نہیں کرے گا(کب ہمت سے کام لے گا) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 14تنی پیدا کن از مشت غباری

اس مٹھی بھر خاک سے ایک ایسا پیکر (بدن) پیدا کر ۔ جو چٹانی قلعے سے زیادہ مضبوط پیکر ہو ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 15ز آب و گل خدا خوش پیکری ساخت

خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا ۔ خوبصورت کائنات تخلیق کی ۔ جنت سے زیادہ خوشنما دنیا بنائی ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 16به یزدان روز محشر برهمن گفت

قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا ۔ زندگی کا فروغ اجالا چمک (گویا) چنگاری کی چمک تھی مراد آدمی کی زندگی جلد گزرنے والی ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 17گذشتی تیز گام ای اختر صبح

اے صبح کے ستارے تو بہت تیزی سے گزر گیا شاید تو ہماری غفلت سے بیزار گیا (تو ہم سے ناراض ہو گیا) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 18تهی از های و هو میخانه بودی

تو یہ میخانہ (دنیا) ہاے و ہو سے خالی ہوتا ۔ ہماری مٹی چنگاری (کی چمک) سے خالی رہتی ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 19ترا ای تازه پرواز آفریدند

اے تازہ پرواز پرندے (انسان) تجھے خدا نے (صرف اس لیے) بنایا کہ تو سر سے پاؤں تک اڑان کی لذت لے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 20چه لذت یارب اندر هست و بود است

یارب ہونے اور ہو جانے (وجود ہستی) میں کیا لذت رکھی ہے ۔ ہر ذرے کا دل اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بیتاب ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 21شنیدم در عدم پروانه میگفت

میں نے عدم میں پروانے کو یہ کہتے سنا مجھے زندگی بھر میں سے ایک پل کی تپش اور تڑپ بخش دے یعنی میں دنیا میں عاشقانہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 22مسلمانان مرا حرفی است در دل

اے مسلمانو! میرے دل میں ایک حرف (رمز) ہے جو جبرئیل کی روح سے زیادہ روشن ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 23به کویش رهسپاری ای دل ای دل

اے دل اے دل تو اس کی گلی میں پھرتا رہتا ہے تو نے مجھے اکیلا چھوڑ رکھا ہے ۔ اے دل اے دل ( میں بے راہ و منزل آوارہ و پریشان ہوں ) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 24رهی در سینهٔ انجم گشائی

تو ستاروں کے سینے میں راستہ بنا لیتا ہے ۔ (تیری ستاروں تک رسائی ہے) لیکن اپنے آپ سے بے خبر ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 25سحر در شاخسار بوستانی

صبح کے وقت کی بہت سی ٹہنیوں والے درخت کی شاخ پر ایک چہچہانے والا پرندہ کیا خوب کہہ رہا تھا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 26ترا یک نکتهٔ سر بسته گویم

میں تجھ سے ایک راز کی بات کہتا ہوں ۔ اگر تو زندگی کا سبق مجھ سے لے یا لینا چاہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 27بهل افسانهٔ آن پا چراغی

چھوڑ اس پتنگے (پروانہ بے قرار) کی داستان اس کے جلنے کا بیان کانوں کے لیے تکلیف دہ ہے(شمع اور پروانہ کے قصہ کو کون نہیں جانتا) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 28ترا از خویشتن بیگانه سازد

(جو) تجھے خود سے بیگانہ بنا دے میں وہ سرور پیدا کرنے والی شراب نہیں رکھتا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 29زیان بینی ز سیر بوستانم

تو میرے باغ کی سیر سے نقصان کی بات دیکھے گا ۔ اگر تیری جان جستجو کی ماری ہوئی نہیں ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 30برون از ورطهٔ بود و عدم شو

ہونے اور نہ ہونے کے بھنور سے نکل جا ، کیسے اور کتنے کی اس دنیا سے بلند ہو جا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 31ز مرغان چمن نا آشنایم

میں چمن کے پرندوں سے نا آشنا ہوں ۔ آشیانے کی شاخ پر اکیلا گاتا ہوں ( میں منفرد شاعر ہوں میری شاعری کی اپنی انفرادیت ہے) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 32جهان یارب چه خوش هنگامه دارد

یارب اس دنیا میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے ۔ تو نے سب کو ایک ہی پیالے سے مست کر دیا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 33سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت

سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی ہے ۔ بحر و بر کے سوز و ساز میں حصہ دار ہو (شریک ہو جا) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 34سریر کیقباد ، اکلیل جم خاک

(ایران کے بادشاہ) کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں ۔ (مادی ہیں مٹ جانے والے ہیں ) گرجا اور مندر اور کعبہ سب مٹی سے بنے ہوئے ہیں ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 35اگر در مشت خاک تو نهادند

اگر خدا نے تیرے بدن میں خون کے آنسو برسانے والا سو ٹکڑے ہوا دل رکھا ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 36دمادم نقش های تازه ریزد

زندگی ہر پل نئی نئی صورتیں ڈھالتی ہے (ایک نیا نقش پیدا کرتی ہے) ۔ (کسی) ایک صورت پر زندگی کا ٹھہراوَ نہیں (زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں ) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 37چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد

جب نغمہ سرائی کا ذوق جب مجھے مجلس میں لے آتا ہے تو میں اپنی محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہوں (انقلاب برپا کر دیتا ہوں ) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 38چه میپرسی میان سینه دل چیست

تو کیا پوچھتا ہے کہ سینے میں دل کیا ہے ۔ عقل نے جب سوز پیدا کر لیا تو وہ دل بن گیا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 39خرد گفت او بچشم اندر نگنجد

عقل کہتی ہے کہ وہ محبوب خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا (آنکھ دیکھ نہیں سکتی) عشق کی نظر آس اور دھڑکے میں ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 40کنشت و مسجد و بتخانه و دیر

آتشکدہ اور مسجد اور مند اور گرجا نے تو بس یہ مٹھی بھر گارا پیدا کیا (تو نے اپنی ساری توجہ چونے اور پتھر کی عمارتوں کے بنانے میں صرف کر د ی ان میں خدا کو تلاش کرنا شروع کر دیا)

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 41نه پیوستم درین بستان سرا دل

میں نے اس باغ (دنیا) میں دل نہیں لگایا میں اس کے بندھنوں (دنیاوی علائق و آلائش) سے آزاد رہا ہوں ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 42به خود باز آورد رند کهن را

پرانے مست (شرابی) کو اپنے آپ میں لوٹا لاتی ہے (دوبارہ ہوش میں لے آتی ہے) ۔ وہ نئی جوان شراب جو میں نے پیالے میں بھری ہے

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 43سفالم را می او جام جم کرد

اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جمشید کا پیالہ بنا دیا ۔ میرے قطرے میں دریا چھپا دیا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 44خرد زنجیری امروز و دوش است

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے ۔ آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 45خرد اندر سر هر کس نهادند

عقل تو ہر شخص کے سر میں رکھی گئی ہے (تھوڑی ہو یا بہت) دوسروں کی طرح میرا بدن (بھی) مٹی اور خون سے بنا ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 46گدای جلوه رفتی بر سر طور

تو دیدار کا منگتا خدا کی تجلی کا طالب بن کر طور پر گیا کیونکہ تو خود اپنے آپ سے انجان ہے ۔ (تیری جان اپنے آپ سے ناشنا ساتھی تجھ کو معلوم نہیں کہ جس تجلی کو تو کوہ طور پر ڈھونڈتا ہے وہ تیرے اندر موجود ہے شرط خود کو پہچاننے کی ہے) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 47بگو جبریل را از من پیامی

جبریل کو میرا ایک پیغام دو مجھے وہ نور پیکر نہیں بخشا گیا (مجھے خالق نے تجھ جیسا نورانی جسم عطا نہیں کیا ) ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 48همای علم تا افتد بدامت

اگر تو چاہتا ہے کہ علم کا ہما تیرے جال میں آ پھنسے تو یقین کم کر ، شک میں گرفتار رہ ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 49خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت

عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن دیئے ہیں اور میں دیدار کی پیاسی ایک نظر رکھتا ہوں (میری نگاہ دیدار کی پیاسی ہے) ۔

اردوEnآڈیو