رباعی شمارهٔ 43

اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا

His wine turned my cup into Jamshid’s cup

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: مکرد

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
سفالم را می او جام جم کرد
1
سفالم را می او جام جم کرد
درون قطره ام پوشیده یم کرد

اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا —

میرے قطرہ کے اندر سمندر پوشیدہ کر دیا ۔

His wine turned my cup into Jamshid’s cup —

A sea poured into me, a tiny drop.

2
خرد اندر سرم بتخانه ئی ریخت
خلیل عشق دیرم را حرم کرد

خرد نے میرے دماغ میں بت خانہ کھڑا کیا —

خلیل عشق نے اس بت کدہ کو حرم بنا دیا۔

While reason built an idol's temple in my thought's domain —

The Abraham of Love transformed it to a sacred terrain.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور