رباعی شمارهٔ 29

تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا

You will find only loss in exploring my orchard

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ونیست

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
زیان بینی ز سیر بوستانم
1
زیان بینی ز سیر بوستانم
اگر جانت شهید جستجو نیست

تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا —

اگر تیری روح حقیقت ازلی کی متلاشی نہیں۔

You will find only loss in exploring my orchard —

If your soul does not seek the eternal truth.

2
نمایم آنچه هست اندر رگ گل
بهار من طلسم رنگ و بو نیست

میں وہ آشکار کرتا ہوں جو پھول کی رگوں میں چھپا ہے —

میری بہار ظاہری رنگ و بو کا طلسم نہیں ہے۔

I reveal what is hidden in the veins of the flower —

My spring is not merely a charm of outward color and fragrance.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور