رباعی شمارهٔ 39

عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا

Reason says that God cannot be contained in the eye

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یماست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
خرد گفت او بچشم اندر نگنجد
1
خرد گفت او بچشم اندر نگنجد
نگاه شوق در امید و بیم است

عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا —

جبکہ شوق سے لبریز نگاہیں امید بھی رکھتی ہیں اور خوفزدہ بھی ہیں۔

Reason says that God cannot be contained in the eye —

Yet eyes filled with passion hold both hope and fear.

2
نمیگردد کهن افسانهٔ طور
که در هر دل تمنای کلیم است

طور کا قصہ کبھی پرانا نہیں ہوتا —

کیونکہ ہر دل میں وہی تمنا ہے جس کا اظہار موسی (علیہ السلام) نے کیا۔

The tale of Mount Sinai never grows old —

For every heart harbors the same longing that Moses expressed.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور