رباعی شمارهٔ 44

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے

To past and present reason is a slave

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وشاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
خرد زنجیری امروز و دوش است
1
خرد زنجیری امروز و دوش است
پرستار بتان چشم و گوش است

عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —

آنکھ اور کان کے بتوں کو پوجنے والی ہے. (حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے)

To past and present reason is a slave —

It worships images of the eye and ear.

2
صنم در آستین پوشیده دارد
برهمن زادهٔ زنار پوش است

اپنی آستین میں بت چھپائے ہوئے ہے —

یہ زنّار پوش کسی برہمن کی اولاد (معلوم ہوتی) ہے۔

It always has an idol up its sleeve —

It is a Brahmin bred and born, beware

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور