رباعی شمارهٔ 12
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی
I do not seek the beginning or the end
Toggle stanza 1نه من انجام و نی آغاز جویم
11
نه من انجام و نی آغاز جویم
همه رازم جهان راز جویم
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —
میں خود سراپا راز ہوں اور رازوں ہی کے جہان کو تلاش کرتا ہوں ۔
I do not seek the beginning or the end —
I am full of mystery and seek the realm of mysteries.
22
گر از روی حقیقت پرده گیرند
همان بوک و مگر را باز جویم
اگر وہ حقیقت کے چہرے سے پردہ ہٹا بھی دیں —
تو میں پھر بھی شکوک و شبہات کو متلاشی رہوں گا۔
Even if the face of truth was unveiled —
I would still seek the same doubts and uncertainties.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

