رباعی شمارهٔ 20
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟
O God, what joy is there in mere existence or being?
Toggle stanza 1چه لذت یارب اندر هست و بود است
11
چه لذت یارب اندر هست و بود است
دل هر ذره در جوش نمود است
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —
ہر ذرے کا دل اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بیتاب ہے ۔
O God, what joy is there in mere existence or being? —
Every atom's heart yearns to reveal its true being.
22
شکافد شاخ را چون غنچهٔ گل
تبسم ریز از ذوق وجود است
جب کلی شاخ کو پھاڑ کر سامنے آتی ہے —
تو ذوق نمود (کی تسکین) سے مسکرا رہی ہوتی ہے۔
When the bud bursts forth from the branch’s hold —
It smiles, fulfilling its desire to unfold.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

