رباعی شمارهٔ 38

کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے

You ask me what is this heart in your breast

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: لشد

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
چه میپرسی میان سینه دل چیست
1
چه میپرسی میان سینه دل چیست
خرد چون سوز پیدا کرد دل شد

کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے —

جب عقل نے سوز پیدا کیا تو وہ دل بن گیا ۔

You ask me what is this heart in your breast —

It is your intellect that has been blessed with feeling.

2
دل از ذوق تپش دل بود لیکن
چو یک دم از تپش افتاد گل شد

دل اس حرارت کی لذت سے ہی دل تھا لیکن —

جو دم بھر بھی اس سے محروم ہوا تو مٹی ہو گیا ۔

While it feels, it is alive —

But when it ceases to feel, it is dust

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور