تراجم
پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
رباعی شمارهٔ 50دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ
تیرا دل موت کے خوف سے لرزتا رہتا ہے اس کے ڈر سے تو ہلدی کی مانند پیلا پڑ گیا ہے
رباعی شمارهٔ 51ز پیوند تن و جانم چه پرسی
تو میرے جسم اور روح کے جوڑ (تعلق) کا کیا پوچھتا ہے میں کتنے اور کیسے کے جال میں نہیں پھنستا ۔
رباعی شمارهٔ 52مرا فرمود پیر نکته دانی
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا تیرا ہر آج تیرے آنے والے کل کا پیغام ہے (زمانہ حال سے فائدہ اٹھا) ۔
رباعی شمارهٔ 53ز رازی معنی قرآن چه پرسی؟
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے (خود) ہمارا دل اس کی آیتوں پر دلیل ہے ۔
رباعی شمارهٔ 54من از بود و نبود خود خموشم
میں اپنے ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں چپ ہوں ۔ اگر کہوں کہ ( میں ) ہوں (تو گویا) میں خود پرست ہوں ۔
رباعی شمارهٔ 55ز من با شاعر رنگین بیان گوی
میری طرف سے رنگا رنگ شعر کہنے والے سے کہنا (اس) جلنے سے کیا فائدہ اگر تو لالے کی طرح جلا ۔ (لالہ اپنی آگ سے نہ خود جلتا ہے اور نہ دوسرے کو جلا سکتا ہے محض دیکھنے میں آگ کی طرح کا سرخ رنگ اور سیاہ داغ رکھنے والا ہوتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 56ز خوب و زشت تو ناآشنایم
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں ) تو نے فائدے اور نقصان کو کسوٹی (معیار) بنا رکھا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 57تو ای شیخ حرم شاید ندانی
اے شیخ حرم شاید تو نہیں جانتا کہ عشق کی دنیا کے لیے بھی جزا کا ایک دن (محشر) ہے ۔
رباعی شمارهٔ 58چو تاب از خود بگیرد قطرهٔ آب
پانی کا قطرہ جب اپنے آپ سے چمک پکڑتا ہے (جو دوسروں کا محتاج نہیں ہوتا) وہ کئی سو موتیوں کے بیچ بے مثال ہو جاتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 59من ای دانشوران در پیچ و تابم
اے عقلمندو میں سخت الجھن اور بیقراری میں ہوں عقل کے لیے یہ حقیقت سمجھنا مشکل ہے
رباعی شمارهٔ 60میارا بزم بر ساحل که آنجا
کنارے پر بزم آراستہ نہ کر ۔ زندگی کا نغمہ دھیمے دھیمے اٹھان پکڑتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 61سراپا معنی سر بسته ام من
میں سر سے پاؤں تک چھپی ہوئی حقیقت ہوں ۔ حرف بننے والوں کی نگاہ برداشت نہیں کرتا ( جو کچھ میں جانتا ہوں وہ نہیں جانتے) ۔
رباعی شمارهٔ 62مگو از مدعای زندگانی
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول ۔ اس کی اداؤں پر تیری نظر نہیں ۔
رباعی شمارهٔ 63اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
اگر تو پتھر کے ٹکڑے پر نظر کرتا تو وہ تیری آرزو کے فیض سے ہیرا بن جاتا ۔
رباعی شمارهٔ 64وفا ناآشنا بیگانه خو بود
تو وفا سے انجان، سب سے الگ تھلگ رہنے والا (میرا دل ) تھا اس کی نظر (کسی کی) تلاش میں بے چین تھی ۔
رباعی شمارهٔ 65مپرس از عشق و از نیرنگی عشق
عشق اور عشق کی جادوگری کا مت پوچھ تو جس رنگ میں چاہے وہ ظہور میں آ جاتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 66مشو ای غنچهٔ نورسته دلگیر
اے تازہ تازہ اگے ہوئے غنچے اداس مت ہو تو اس باغ سے اور کیا چاہتا ہے (قدرت نے تیرا دل بہلانے کے لیے کیا کیا لوازمات رکھے ہیں ) ۔
رباعی شمارهٔ 67مرا روزی گل افسرده ئی گفت
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا کہ ہماری ہستی (تو بس) چنگاری کی اڑان ایسی ہے (بہت تھوڑی ہے) ۔
رباعی شمارهٔ 68جهان ما که پایانی ندارد
ہماری دنیا کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں (بہت وسیع ہے) مچھلی کی طرح زمانے کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 69به مرغان چمن همداستانم
میں باغ کے پرندوں کی داستان بیان کرتا ہوں ۔ (ہم نواہوں ) میں گونگی کلیوں کی زبان ہوں ۔
رباعی شمارهٔ 70نماید آنچه هست این وادی گل؟
یہ پھولوں بھری وادی (حقیقت میں ) جیسی ہے (کیا ویسی ہی) دکھائی دیتی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 71تو خورشیدی و من سیارهٔ تو
تو سورج ہے اور میں تیرا (تیرے گرد چکر لگانے والا)سیارہ ہوں ۔ میں تیرے دیدار سے سراپا نور بن گیا ہوں ۔ یعنی آدمی اس وقت تک ناقص ہے جب تک وہ اپنے خالق سے دور ہے اگر یہ دوری ہٹ جائے تو وہ اس کی صفات کا مظہر بن جاتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 72خیال او درون دیده خوشتر
آنکھوں میں اس (محبوب) کا تصور خوب ہے ۔ اس کا غم بڑھا ہوا (اور اپنی) گھلتی ہوئی جان اچھی لگتی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 73دماغم کافر زنار دار است
میرا دماغ جنیو ڈالنے والا (بت پرست) کافر ہے ۔ بت بناتا بھی ہے اور بتوں کا پجاری بھی ہے ۔
رباعی شمارهٔ 74صنوبر بندهٔ آزادهٔ او
صنوبر اس (ذات) کا آزاد کیا ہوا ایک غلا م ہے (کیونکہ اس پر دوسرے پودوں کی طرح خزاں کے اثرات نہیں ہوتے اسی لیے شاعروں نے صنوبر کو آزاد کہا ہے ۔ )پھول کے چہرے کی چمک دمک اس کی شراب (کی مستی) کی وجہ سے ہے ۔
رباعی شمارهٔ 75ز انجم تا به انجم صد جهان بود
ستاروں سے ستاروں تک سینکڑون جہان تھے ۔ جہاں جہاں عقل نے پرواز کی آسمان تھا (کائنات کی وسعت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا) ۔
رباعی شمارهٔ 76بپای خود مزن زنجیر تقدیر
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال ۔ اس (گردش کرنے والے) آسمان کے نیچے نکلنے کا ایک راستہ ہے ۔ تقدیر پر شاکر رہنے کی بجائے ہمت اور عمل سے کام لے ۔
رباعی شمارهٔ 77دل من در طلسم خود اسیر است
رباعی شمارهٔ 78نوا در ساز جان از زخمهٔ تو
اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہے ہیں روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے ۔ آپ کس طرح میری جان کے اندر بھی ہیں اور جان سے باہر بھی ۔
رباعی شمارهٔ 79نفس آشفته موجی از یم اوست
(ہماری ) سانس اس (اللہ تعالیٰ) کے سمندر کی ایک بےقرار موج ہے جو ملنے کے لیے بے قرار ہے ۔ ہماری بانسری ہمارا نغمہ اسی کے دم سے ہے ۔ (بانسری جسم ہے اور نغمہ اس کا دم اور یہ دونوں وجود خالق کے سبب سے ہیں ) ۔
رباعی شمارهٔ 80ترا درد یکی در سینه پیچید
اے خالق کائنات ایک وقت تھا کہ تو خود تو تھا لیکن اور کچھ نہ تھا ۔ اکیلے پن کا دکھ تیرے سینے میں پیچ و تاب کھا رہا تھا ۔
رباعی شمارهٔ 81کرا جوئی چرا در پیچ و تابی
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے کہ وہ (تو) ظاہر ہے (البتہ) تو خودے پردے میں ہے۔
رباعی شمارهٔ 82تو ای کودک منش خود را ادب کن
اے طفلانہ مزاج اپنا احترام کر (ادب سیکھ) تو مسلمان زادہ ہے(اولاد ) ہے حسب نسب ( کا چکر) چھوڑ (نسب پر فخر کرنا چھوڑ دے) ۔
رباعی شمارهٔ 83نه افغانیم و نی ترک و تتاریم
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری ، ہم تو چمن کی آل ہیں اور ایک ہی شاخ سے ہیں ۔
رباعی شمارهٔ 84نهان در سینهٔ ما عالمی هست
ایک دنیا جہان ہمارے سینے میں چھپی ہوئی ہے ۔ ہماری مٹی میں ایک دل ہے اور دل کے اندر غم (غم عشق) ہے ۔
رباعی شمارهٔ 85دل من ای دل من ایدل من
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے سمندر ۔ اے میری کشتی ، اے میرے ساحل ۔
رباعی شمارهٔ 86چه گویم نکتهٔ زشت و نکو چیست
میں کیا کہوں کہ نیکی اور بدی (خیر و شر) کیا ہے ۔ زبان لرزتی ہے کیونکہ (یہ) مضمون سخت مشکل ہے ۔
رباعی شمارهٔ 87کسی کو درد پنهانی ندارد
وہ شخص جو چھپا ہوا دکھ (پوشیدہ درد عشق) نہیں رکھتا وہ بدن تو رکھتا ہے لیکن روح نہیں رکھتا ۔ ( اس کا بدن تو ہے مگر اس میں جان نہیں ۔ جان جسم کی جان ہے عشق جان کی جان ہے ۔ )
رباعی شمارهٔ 88چه پرسی از کجایم چیستم من؟
تو کیا پوچھتا ہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں ۔ ان سوالوں کا جواب عقل کی دسترس سے باہر ہے ۔ خود اقبال کہتے ہیں خرد مندوں سے کیا پوچھوں کی میری ابتدا کیا ہے کہ میں ا س فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 89به چندین جلوه در زیر نقابی
اتنی (بھرپور) رونمائی کے باوجود پردے میں ہے ۔ ہماری ارمان بھری نظر کو قبول نہیں کرتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ تو اسی لیے چھپا ہوا ہے کہ تو ہماری نگاہ شوق کو برداشت نہیں کر سکتا ۔
رباعی شمارهٔ 90دل از منزل تهی کن پا بره دار
دل کو منزل سے خالی کر، قدم بڑھائے جا(منزل کا خیال دل سے نکال دے کیونکہ منزل کا نتیجہ سکون ہے اور سکون کا ثمرہ موت ہے ۔ ہر وقت سفر کے لیے آمادہ رہ) ۔ نگاہ کو سورج اور چاند کی طرح پاک رکھ (مسلسل عروج کا جذبہ پاکی نگاہ پر موقوف ہے) ۔ پاکی نگاہ عشق پر منحصر ہے
رباعی شمارهٔ 91بیا ای عشق ای رمز دل ما
آ اے عشق! اے ہمارے دل کے بھید ، کہتے ہیں عشق انسانی دل یا انسان کی حقیقت ہے ۔ عشق کو دل سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔اے ہماری کھیتی اے ہماری فصل آ جا عشق ہی مقصد حیات ہے) آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم
رباعی شمارهٔ 92سخن درد و غم آرد ، درد و غم به
شعر (اگر) درد و غم پیدا کرتا ہے تو درد و غم اچھا ہے میرے لیے یہ ہر وقت کے بین اچھے لگتے ہیں ۔
رباعی شمارهٔ 93نه من بر مرکب ختلی سوارم
نہ میں اختلافی گھوڑے پر سوار ہوں نہ کسی بادشاہ کے درباریوں میں سے ہوں ۔ (عاشق بادشاہوں سے بے نیاز ہوتا ہے) ۔
رباعی شمارهٔ 94کمال زندگی خواهی بیاموز
تو زندگی کی تکمیل چاہتا ہے تو سیکھ آنکھ کھولنا اور اپنے علاوہ (کسی اور) پر نہ جمانا (اپنی خودی اور معرفت کے جوہر پر نگاہ رکھنا) ۔
بخش 1گل نخستین
افکار ۔ گلِ نخستین
بخش 2دعا
دعا
بخش 3هلال عید
ہلال عید
بخش 4تسخیر فطرت
آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید(آدم جنت سے نکل کر کہتا ہے) ۔
بخش 5بوی گل
پھول کی خوشبو

