Toggle stanza 1
ایکه از خمخانه فطرت بجامم ریختی
1

ایکه از خمخانه فطرت بجامم ریختی

ز آتش صهبای من بگداز مینای مرا

اے کہ (وہ ذات) تو نے فطرت کے میخانے سے میرا پیالہ بھرا ۔ میری شراب کی آگ سے میرا شیشہ پگھلا دے ۔ مراد ہے میرے اندر وہ گداز پیدا کر دے کہ تیرے سوا ہر شے کو بھول جاؤں ۔

O You who filled my glass with wine galore from Nature’s own wine-store, see to it that my glass is melted by this fire sent from Your sky.

2

عشق را سرمایه ساز از گرمی فریاد من

شعلهٔ بیباک گردان خاک سینای مرا

میری فریاد کی گرمی کو عشق کا سرمایہ بنا ۔ میری سیناے وجود کی مٹی کو بھڑکتا شعلہ بنا دے تا کہ میں اس سے اپنے نفس اور غیر اللہ کے خس و خاشاک کو جلا دوں ۔

O let my spirited lament provide Love with its wealth of pride. Would that the dust of my Sinai became an all-consuming flame!

3

چون بمیرم از غبار من چراغ لاله ساز

تازه کن داغ مرا سوزان بصحرای مرا

جب مروں تو میری خاک سے گل لالہ کا چراغ بنا ۔ میرا داغ پھر سے تازہ کر، میرے صحرا میں ہوا ۔ مراد یہ ہے میرے عشق کی تاثیر کو میری زندگی کے بعد قائم رکھنا تا کہ لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں ۔

When I die, let my ashes form a bed where tulips will be bred, so that my passion’s wounds, revived, may shine in tulips’ hearts again.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور