رباعی شمارهٔ 63
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی
When you gazed upon a mere fragment of stone
Toggle stanza 1اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
11
اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
ز فیض آرزوی تو گهر شد
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —
تو وہ تیرے فیض آرزو سے قیمتی موتی بن گیا۔
When you gazed upon a mere fragment of stone —
Through your wishful grace, it turned into a pearl, all on its own.
22
به زر خود را مسنج ای بندهٔ زر
که زر از گوشهٔ چشم تو زر شد
اے زر پرست ! اپنی قیمت زر سے نہ لگا —
کیونکہ زر کو زر بنانے والی تو خود تیری نگاہ ہے۔
Slave of gold, value not yourself in its glow —
For it's your own gaze that makes the gold so.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

