رباعی شمارهٔ 78

(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے

In the instrument of my soul, the melody is from Your touch

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ونی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، مستنصر میر
Toggle stanza 1
نوا در ساز جان از زخمهٔ تو
1
نوا در ساز جان از زخمهٔ تو
چسان در جانی و از جان برونی

(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —

آپ کس طرح میری جان کے اندر بھی ہیں اور جان سے باہر بھی ۔

In the instrument of my soul, the melody is from Your touch —

How are You within my being and beyond it just as much?

2
چراغم ، با تو سوزم بی تو میرم
تو ای بیچون من بی من چگونی

میں چراغ ہوں تیرے حضور جلتا ہوں ۔ تیرے بغیر میری روشنی بجھ جاتی ہے —

اے میرے بے مثال (مولا) ، تو میرے بغیر کیسے ہے؟ ‏

I am a lamp; with You, I burn, without You, I fade —

Oh my peerless Lord, how are You, when I'm unmade?

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور