تراجم

پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

213نظمیں

تراجم والی نظمیں

غزل شمارهٔ 8بیا که ساقی گلچهره دست بر چنگ است

آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 9صورت نپرستم من بتخانه شکستم من

میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 10هوای فرودین در گلستان میخانه می‌سازد

بہار کی ہوا نے گلستان کے اندر میخانہ بنا دیا ہے ۔ موسم بہار میں گلستان کو دیکھو تو میخانہ معلوم ہوتا ہے ۔ غنچے سے صراحی بن رہی ہے پھول کو پیالہ بنا رہی ہے یعنی غنچہ سبو ہے اور گل اس کا پیمانہ ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 11از ما بگو سلامی آن ترک تند خو را

ہماری طرف سے اس ظالم محبوب کو سلام کہنا کہ تو نے ایک نگاہ سے تمنا کا پورا شہر پھونک ڈالا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 12آشنا هر خار را از قصهٔ ما ساختی

تو نے ہر کانٹے کو میری داستان سے باخبر کر دیا (تو مجھے) دیوانگی کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 13خوش آنکه رخت خرد را به شعله‌ای می سوخت

مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 14بیار باده که گردون بکام ما گردید

شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 15تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست

تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 16دانهٔ سبحه به زنار کشیدن آموز

زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 17ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے

اردوEn

غزل شمارهٔ 18موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 19صد نالهٔ شبگیری صد صبح بلا خیزی

پچھلے پہر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں بلاخیز صبحیں ، چنگاریاں برساتی سینکڑوں آہیں اٹھتی ہیں تب کہیں دل میں کھب جانے والا شعر وجود میں آتا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 20باز به سرمه تاب ده چشم کرشمه زای را

جادو جگانے والی آنکھ کو پھر سرمے سے تیز کر لہکتے گاتے شوق میں دیوانگی کی لذت دوبالا کر دے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 21فریب کشمکش عقل دیدنی دارد

عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 22حسرت جلوهٔ آن ماه تمامی دارم

میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 23به شاخ زندگی ما نمی ز تشنه لبی است

ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 24فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 25بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان

تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 26این گنبد مینائی این پستی و بالائی

یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 27هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 28دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 29در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 30گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست

ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 31سوز سخن ز نالهٔ مستانهٔ دل است

سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 32سطوت از کوه ستانند و بکاهی بخشند

پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 33نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه می‌آیی

نہ حرم میں تیری سمائی ہے نہ بتخانے میں (خدا نہ مسجد میں ہے نہ مندر میں )لیکن آرزومندوں کی طرف تو کیسی چاہت سے آتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 34تب و تاب بتکدهٔ عجم نرسد به سوز و گداز من

عجم کے بتخانے کی چمک دمک میرے دل کے آنسو بھری آنچ کو نہیں پہنچتی (میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی) کہ محمدعربی نے ایک نگاہ میں میرا حجاز فتح کر لیا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 35مثل آئینه مشو محو جمال دگران

آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔

اردوEnآڈیو

غزل شمارهٔ 36جهان عشق نه میری نه سروری داند

عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 37خواجه ئی نیست که چون بنده پرستارش نیست

کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 38بیا که بلبل شوریده نغمه پرداز است

(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 39خاکیم و تند سیر مثال ستاره‌ایم

ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 40عرب از سرشک خونم همه لاله‌زار بادا

میرے اشک خون سے عرب سب کا سب لالہ زار بن جائے ۔ مرجھائے ہوئے عجم کو میری سانس بہار ثابت ہو ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 41نظر تو همه تقصیر و خرد کوتاهی

تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 42سر خوش از بادهٔ تو خم شکنی نیست که نیست

نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 43اگرچه زیب سرش افسر و کلاهی نیست

اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 44شعله در آغوش دارد عشق بی پروای من

میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 45بتان تازه تراشیده‌ای دریغ از تو

تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔

اردوEn

بخش 1پیام

نقشِ فرنگ ۔ پیام

اردوEn

بخش 2جمعیت الاقوام

اردوEn

بخش 3شوپنهاور و نیچه

اردوEn

بخش 4فلسفه و سیاست

اردوEn

بخش 5صحبت رفتگان (در عالم بالا)

اردوEn

بخش 6نیچه

اردوEn

بخش 7حکیم اینشتین

اردوEn

بخش 8بایرن

اردوEn

بخش 9نیچه

اردوEn

بخش 10جلال و هگل

اردوEn

بخش 11پتوفی

اردوEn

بخش 12محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور

مرد مزدور

اردوEn