Toggle stanza 1
نفسی درین گلستان ز عروس گل سرودی
1

نفسی درین گلستان ز عروس گل سرودی

بدلی غمی فزودی ز دلی غمی ربودی

(ہنگری کا جوانمرگ شاعرجو اپنے وطن کے لیے لڑتے ہوئے مارا گیا اس کی لاش بھی نہ ملی کہ کوئی خاکی یادگار ہی باقی رہ جاتی ۔ ) مطلب: تو نے بس دم بھر کو اس گلستان میں عروس گل کا نغمہ چھیڑا ۔ کسی دل میں غم بڑھا دیا کسی دل سے غم دور کر دیا ۔

In this garden, for just one moment, you sang of the bride-like rose, you increased the sorrow of some hearts, and dispelled the sorrow of others.

2

تو بخون خویش بستی کف لاله را نگاری

تو به آه صبحگاهی دل غنچه را گشودی

تو نے اپنے لہو سے گل لالہ کی ہتھیلی پر مہندی جمائی (نقش و نگار بنائے) تو نے صبح کی آہ سے کلی کا دل کھولا ۔

You painted the tulip’s palm with y our blood; and opened the bud’s heart with your sighs at dawn.

3

به نوای خود گم استی سخن تو مرقد تو

به زمین نه باز رفتی که تو از زمین نبودی

تو اپنی نوا میں گم ہو گیا ہے ۔ تیرا کلام تیرا مرقد ہے ۔ تو زمین کی طرف نہیں پلٹا کہ تو زمین سے نہیں تھا ۔

You are lost in your song – because your verse is your tomb: You did not return to earth because you were not of earth.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور