تراجم
پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
بخش 6نوای وقت
نوای وقت(زمانے کا گیت) وقت کہتا ہے
بخش 7فصل بهار
بہار کا موسم
بخش 8حیات جاوید
ہمیشہ کی زندگی، ابدی زندگی
بخش 9افکار انجم
ستاروں کے خیالات
بخش 10زندگی
زندگی
بخش 11محاورهٔ علم و عشق
عشق
بخش 12سرود انجم
ستاروں کا گیت
بخش 13نسیم صبح
صبح کی نرم و لطیف ہوا
بخش 14پند باز با بچهٔ خویش
باز کی نصیحت اپنے بچے کو
بخش 15کرم کتابی
کتاب کا کیڑا
بخش 16کبر و ناز
کبر و ناز
بخش 17لاله
لالے کا پھول
بخش 18حکمت و شعر
فلسفہ اور شعر
بخش 19کرمک شبتاب
رات کو چمکنے والا کیڑا یعنی جگنو
بخش 20حقیقت
حقیقت
بخش 21حدی
حدی وہ نغمہ ہے جو حجازی ساربان اپنی ناقہ کو سناتا ہے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ مسافت طے کر سکے
بخش 22قطرهٔ آب
پانی کی بوند
بخش 23محاورهٔ ما بین خدا و انسان
انسان
بخش 24ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد
ساقی نامہ(نشاط باغ کشمیر میں لکھا گیا)
بخش 25شاهین و ماهی
شاہین اور مچھلی
بخش 27تنهائی
تنہائی
بخش 28شبنم
شبنم
بخش 29عشق
عشق
بخش 30اگر خواهی حیات اندر خطر زی
اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر
بخش 31جهان عمل
عمل کی دنیا
بخش 33حکمت فرنگ
مغرب کی دانائی
بخش 34حور و شاعر در جواب نظم گوته موسوم به حور و شاعر
شاعر
بخش 35زندگی و عمل در جواب هاینه موسوم به «سؤالات»
زندگی اور عمل(جرمنی کے مشہور شاعر ہائنا کی ایک نظم سوالات کے جواب میں )
بخش 36الملک للہ
ملک اللہ کا ہے
بخش 37جوی آب
پانی کی نہر
بخش 38نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)
عالمگیر کا خط( اپنے ایک بیٹے کی طرف جو باپ کے مرنے کی دعا کیا کرتا تھا)
بخش 39بهشت
جنت
بخش 40کشمیر
کشمیر
بخش 41عشق
عشق
بخش 42بندگی
اللہ کی غلامی،مقام عبودیت
بخش 43غلامی
غلامی
بخش 44چیستان شمشیر
تلوار کی پہیلی
بخش 45جمهوریت
جمہوریت
بخش 46به مبلغ اسلام در فرنگستان
یورپ میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے سے
بخش 47غنی کشمیری
غنی کشمیری
بخش 48خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله
مصطفی کمال پاشا سے خطاب (خدا اس کی تائید کرے)
بخش 49طیاره
طیارہ
بخش 51تهذیب
تہذیب
غزل شمارهٔ 1بهار تا به گلستان کشید بزم سرود
جب بہار نے ساز و نغمہ کی محفل کو چمن میں سجایا تو مستانی بلبل کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (پھول کھلنے لگے) ۔
غزل شمارهٔ 2حلقه بستند سر تربت من نوحه کران
میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔
غزل شمارهٔ 3می تراشد فکر ما هر دم خداوندی دگر
ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا (معبود، بت) تراشتی رہتی ہے ۔ ایک قید سے چھوٹی کہ دوسری میں گرفتار ہو گئی ۔
غزل شمارهٔ 4مرا ز دیدهٔ بینا شکایت دگر است
مجھے اپنی دیدہ َ بینا سے اور ہی قسم کی شکایت ہے ۔ جب تو درشن دیتا ہے نظر میری آڑ بن جاتی ہے(دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی) ۔
غزل شمارهٔ 5به این بهانه درین بزم محرمی جویم
میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔
غزل شمارهٔ 6خیز و نقاب بر گشا پردگیان ساز را
اٹھ اور ساز کے پردے میں چھپے ہوؤں کا گھونگھٹ کھول (نقاب اٹھا) ۔ خوشنوا پرندوں کو نیا نغمہ یاد کرا (سکھا) ۔ دین اسلام کے اعلیٰ اور پاکیزہ حقائق نوجوانوں کے سامنے پیش کر تا کہ ان میں جدوجہد کا ولولہ پیدا ہو ۔ ان حقائق سے روشناس کر جو قرآن مجید کے الفاظ میں پوشیدہ ہیں ۔
غزل شمارهٔ 7به ملازمان سلطان خبری دهم ز رازی
میں سلطان کے ملازمین کو ایک بہت ہی راز کی بات بتاتا ہوں کہ جی کو نہال کر دینے والے ایک بول سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے ۔

