تراجم
یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
نوای وقت(زمانے کا گیت) وقت کہتا ہے
بہار کا موسم
ہمیشہ کی زندگی، ابدی زندگی
ستاروں کے خیالات
زندگی
عشق
ستاروں کا گیت
صبح کی نرم و لطیف ہوا
باز کی نصیحت اپنے بچے کو
کتاب کا کیڑا
کبر و ناز
لالے کا پھول
فلسفہ اور شعر
رات کو چمکنے والا کیڑا یعنی جگنو
حقیقت
حدی وہ نغمہ ہے جو حجازی ساربان اپنی ناقہ کو سناتا ہے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ مسافت طے کر سکے
پانی کی بوند
انسان
ساقی نامہ(نشاط باغ کشمیر میں لکھا گیا)
شاہین اور مچھلی
تنہائی
شبنم
اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر
عمل کی دنیا
مغرب کی دانائی
شاعر
زندگی اور عمل(جرمنی کے مشہور شاعر ہائنا کی ایک نظم سوالات کے جواب میں )
ملک اللہ کا ہے
پانی کی نہر
عالمگیر کا خط( اپنے ایک بیٹے کی طرف جو باپ کے مرنے کی دعا کیا کرتا تھا)
جنت
کشمیر
اللہ کی غلامی،مقام عبودیت
غلامی
تلوار کی پہیلی
جمہوریت
یورپ میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے سے
غنی کشمیری
مصطفی کمال پاشا سے خطاب (خدا اس کی تائید کرے)
طیارہ
تہذیب
جب بہار نے ساز و نغمہ کی محفل کو چمن میں سجایا تو مستانی بلبل کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (پھول کھلنے لگے) ۔
میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔
ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا (معبود، بت) تراشتی رہتی ہے ۔ ایک قید سے چھوٹی کہ دوسری میں گرفتار ہو گئی ۔
مجھے اپنی دیدہ َ بینا سے اور ہی قسم کی شکایت ہے ۔ جب تو درشن دیتا ہے نظر میری آڑ بن جاتی ہے(دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی) ۔
میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔
اٹھ اور ساز کے پردے میں چھپے ہوؤں کا گھونگھٹ کھول (نقاب اٹھا) ۔ خوشنوا پرندوں کو نیا نغمہ یاد کرا (سکھا) ۔ دین اسلام کے اعلیٰ اور پاکیزہ حقائق نوجوانوں کے سامنے پیش کر تا کہ ان میں جدوجہد کا ولولہ پیدا ہو ۔ ان حقائق سے روشناس کر جو قرآن مجید کے الفاظ میں پوشیدہ ہیں ۔
میں سلطان کے ملازمین کو ایک بہت ہی راز کی بات بتاتا ہوں کہ جی کو نہال کر دینے والے ایک بول سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے ۔