بخش 18 - حکمت و شعر

فلسفہ اور شعر

Philosophy and Poetry

Toggle stanza 1
بوعلی اندر غبار ناقه گم
1

بوعلی اندر غبار ناقه گم

دست رومی پردهٔ محمل گرفت

بو علی ناقے کے اڑائے ہوئے غبار میں گم (ہو کے رہ گیا) رومی کے ہاتھ میں محمل کا پردہ آ گیا ۔

Bu Ali got lost in the dust kicked up by Layla’s dromedary. Rumi’s hand seized the curtain of her litter.

2

این فرو تر رفت و تا گوهر رسید

آن بگردابی چو خس منزل گرفت

اور یہ گہرائی میں گیا ا ور موتی تک جا پہنچا ۔ (بو علی) نے تنکے کی مانند گرداب ہی کو منزل بنا لیا ۔ (حقیقت کی رسائی کے لیے عشق اور عقل دونوں نے کوشش کی ۔ عشق پا گیا عقل محروم رہ گئی) ۔

This one dived deeper, deeper still, till he came upon the pearl he was after. But the other got caught in a whirlpool like a piece of straw.

3

حق اگر سوزی ندارد حکمت است

شعر میگردد چو سوز از دل گرفت

حقیقت اگر سوز سے خالی ہے تو فلسفہ ہے ۔ اگر وہ دل سے سوز حاصل کر لے تو شعر بن جاتا ہے ۔ حق بے سوز فلسفہ ۔ حق با سوز: شعر ۔

If the truth has no fervour, it is plain philosophy. If it has the proper fervour, it is poetry.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور