رباعی شمارهٔ 45

ہر ایک سر میں خرد موجود ہے

Wisdom resides in every head, as is known

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وناست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
خرد اندر سر هر کس نهادند
1
خرد اندر سر هر کس نهادند
تنم چون دیگران از خاک و خون است

ہر ایک سر میں خرد موجود ہے —

میرا بدن بھی دوسروں کی مانند خاک و خون سے بنا ہے۔

Wisdom resides in every head, as is known —

My body, like others, from dust and blood has grown.

2
ولی این راز کس جز من نداند
ضمیر خاک و خونم بیچگون است

مگر یہ راز میرے سوائے اور کسی کو معلوم نہیں —

کہ میرے خاک و خون کا جوہر بے مثل ہے۔

But this mystery, none but I can comprehend —

The spirit in my blood and dust, is of an extraordinary blend.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور