صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. اوزان
  2. »فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
  3. »علامہ اقبال / زبور عجم

وزن کے تحت کتاب

وزنِ فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف) میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف وزنِ فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔

19 نظمیں

نظمیں

وزنِ فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف) میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

  1. زندہ رود
  2. »اوزان
  3. »فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
  4. »علامہ اقبال / زبور عجم

به خوانندهٔ کتاب زبور

کتاب زبور کے قاری سے خطاب

To the Reader

علامہ اقبال » زبور عجم » به خوانندهٔ کتاب زبور

اردوEnآڈیو
3 اشعار

غزل شمارهٔ 7–خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است

عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 7

اردوEn
2 اشعار

غزل شمارهٔ 9–لاله این چمن آلودهٔ رنگ است هنوز

اس چمن کے لالہ کا پھول (مسلمان) ابھی زنگ آلودہ ہے ۔ (ابھی مسلمان دنیا کی آلائشوں میں پھنسا ہوا ہے) اس لیے اپنے ہاتھ سے ابھی ڈھال مت رکھ کہ جنگ ابھی جاری ہے (اہل ایمان کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی) ۔

The tulip of this meadowland is yet all flecked with hue; cast not the shield out of thy hand, for battle flares anew.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 9

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 10–تکیه بر حجت و اعجاز و بیان نیز کنند

(حق پھیلانے اور اس کی مدافعت کے لیے) کبھی کبھی دلیل اور اعجاز بیان پر بھی بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی حق کا قیام تلوار اور نیزے کی طاقت سے بھی لیا جاتا ہے ۔

Faith depends on arguments and on magic eloquence; yet anon men serve the Lord with the lance and fearless sword.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 10

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 11–گرچه شاهین خرد بر سر پروازی هست

اگرچہ عقل کا شاہین اڑان کے لیے تیار ہے لیکن اس بیابان میں ایک تیر انداز بھی پوشیدہ ہے جو اسے آسانی سے شکار کر لیتا ہے ۔ عشق کی جہاں تک رسائی ہوتی ہے وہاں عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔

Though the falcon of the brain yearneth on the wing to be, archers in this desert plain wait upon him secretly!

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 11

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 12–این جهان چیست صنم خانهٔ پندار من است

اس جہان کی حقیقت کیا ہے یہ میرے تصور یا احساس کا بت خانہ ہے ۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ دراصل یہ میرے تصورات اور احساسات کی دنیا ہے ۔ اس کی حقیقت میری بیدار آنکھ کی مر ہون منت ہے ۔

What is the world? The temple of my thought, the seen projection of my wakeful eye;

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 12

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 21–باز بر رفته و آینده نظر باید کرد

(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔

Sleeper, rise thou up, and fast! Once again upon the past and the future fix thy gaze; Thou must think on other ways.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 21

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 23–ساقیا بر جگرم شعلهٔ نمناک انداز

اے ساقی میرے جگر پر نم آلود شعلہ پھینک ۔ یعنی مجھے شراب عشق پلا کر میرے اس مٹھی بھر جسم میں اپنے عشق کا شور قیامت بر پا کر دے ۔

Saki, on my heart bestow liquid flame with living glow; let the resurrection day dawn tremendous on my clay.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 23

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 26–سخن تازه زدم کس بسخن وا نرسید

میں نے اپنی شاعری میں (روایت سے ہٹ کر) باتیں کی ہیں ۔ کوئی بھی یہ باتیں پسند نہیں کرتا ۔ میرے جلوے یعنی مضامین کا خون بہہ گیا اور ایک بھی نگاہ اس کے نظارے کے لیے نہ پہنچی ( میں نے ایسے ایسے نئے مضامین پیدا کئے ہیں جنھیں لوگ پڑھنا گوارا نہیں کرتے) ۔

I uttered a new word, but there was none that heard; vision to rapture grew, but glance was none to view.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 26

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 27–عاشق آن نیست که لب گرم فغانی دارد

اسے عاشق نہیں کہتے جو اپنے لبوں سے نالہ و شیون کرتا ہے ۔ بلکہ عاشق تو وہ ہے جو دونوں جہان اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے (سچا عاشق نالہ و فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے عشق سے دنیا پر حکمرانی کرتا ہے) ۔

Never lover true is he who lamenteth dolefully; lover he, who in his bold hath the double world controlled.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 27

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 29–مرغ خوش لهجه و شاهین شکاری از تست

(اے ربِ کائنات) ایک خوش الحان پرندہ ہو یا شکار کرنے والا ایک باز ۔ دونوں تیری ہی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ اس زندگی میں نو ر اور نار کے جو راستے نظر آتے ہیں وہ بھی تیری ہی تخلیق ہیں (ہر چیز میں تیرے ہی جلوے نمایاں ہیں ) ۔

Thine is the hawk upon the wing and thine the thrush sweet-carolling, thine is the light and joy of life and thine its fire and baneful strife.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 29

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 31–بر جهان دل من تاختنش را نگرید

میرے دل کی جہان پر اس کی حملہ آوری کے انداز تو دیکھو ۔ اور مجھے مارنے اور جلانے کے بعد مجھے بنانے اور سنوارنے کا عمل بھی دیکھو ۔ مطلب یہ کہ اس کا مارنا اور جلانا میری بہتری کے لیے ہے ۔

In my heart’s empire, see how He rides spitefully, rides with imperious will to ravage, and to kill!

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 31

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 33–زندگی در صدف خویش گهر ساختن است

زندگی کا فلسفہ اپنی سیپ کے اندر موتی بنانا ہے ۔ شعلہ کے دل میں اتر جانا ہے اور اس آگ عشق میں پگھلنا نہیں (بلکہ اس مٹی کو کندن بنانا ہے) ۔

What is this life? A pearl in thy own shell to bear, in the flame’s heart to hurl thyself, nor melt to air.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 33

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 44–رمز عشق تو به ارباب هوس نتوان گفت

اے خدا! تیرے عشق کا بھید ہوس کے مارے ہوئے لوگوں کے سامنے نہیں کھولا جا سکتا ۔ شعلہ میں تڑپ کی بات گھاس کے تنکے سے کہنا فضول ہے ۔ کیونکہ وہ اس تڑپ سے ہی نا آشنا ۔ جب تک شعلہ کی تڑپ تنکے تک نہیں پہنچے گی ۔ اسے اس جلن اور تڑپ کا احساس کب ہو گا اس لیے اہل ہوس کو بھی عشق کی رمز سے کوئی سروکار نہیں ۔

To passion’s slaves let no man e’er the mystery of Thy love declare: It is not meet for straws to hear talk of the blazing brazier.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 44

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 52–می دیرینه و معشوق جوان چیزی نیست

پرانی شراب جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے اور جوان معشوق اہل نظر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اللہ کے ولیوں کی نظر میں حور اور جنت کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ان باتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں ) ۔

The young beloved, the ancient wine, the maids of Paradise; these joys men reckon rare and fine charm not the truly wise.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 52

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 55–ما که افتنده‌تر از پرتو ماه آمده‌ایم

(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔

Tremulous as the moon-light to our far abode we came; and no man knoweth how we trod this road.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 55

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 62–بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔

Eschew the West, and do not be bewitched by Europe’s wizardry; not worth barley, in my view, is all her ancient and her new.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 62

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 69–باز این عالم دیرینه جوان می‌بایست

اس پرانے بوڑھے کو پھر سے جوان ہونا چاہیے اور اسکے تنکے کو بھاری پہاڑی کی مانند ہونا چاہیے (یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی خودی سے آشنا ہو) ۔

This ancient universe new youth must now rehearse, its trembling blade of grass huge mountains should surpass.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 69

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 74–کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت

کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔

Silent rosebud in her heart had a secret, veiled apart, suffered countless aches and woes buffeted by thyme and rose.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 74

اردوEn
2 اشعار