وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
افکار ۔ گلِ نخستین
The First Rose
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 1 - گل نخستین
ہمیشہ کی زندگی، ابدی زندگی
Eternal Life
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 8 - حیات جاوید
صبح کی نرم و لطیف ہوا
The Morning Breeze
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 13 - نسیم صبح
تنہائی
Solitude
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 27 - تنهائی
یورپ میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے سے
To a Muslim Missionary in England
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 46 - به مبلغ اسلام در فرنگستان
جب بہار نے ساز و نغمہ کی محفل کو چمن میں سجایا تو مستانی بلبل کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (پھول کھلنے لگے) ۔
When spring made of the garden a veritable concert hall, the nightingale’s impassioned songs made buds open their eyes.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 1
مجھے اپنی دیدہ َ بینا سے اور ہی قسم کی شکایت ہے ۔ جب تو درشن دیتا ہے نظر میری آڑ بن جاتی ہے(دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی) ۔
I have this odd complaint against my seeing eyes: When You unveil Yourself, my sight acts as a veil.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 4
میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔
This is my way of finding in this company a confidant: I sing ghazals and through them I convey the message of my Friend.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 5
مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔
Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 13
شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔
Fetch wine, for the heavens have turned in our favour. Songs are germinating like buds from the branches.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 14
آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے
From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 17
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔
The intellect’s deceitfulness is worthy of remark: It is the leader of the caravan, yet fond of highway robbery.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 21
ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔
The sap in the tree of our life comes from our thirst. To seek the spring of immortality is to be unadventurous.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 23
میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔
I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 28
عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔
No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 36
(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔
Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 38
اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔
Although he does not wear a crown or diadem, the beggar in Your street is no less than a king.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 43
تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔
O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 45
Byron
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 8 - بایرن
Dialogue Between Lenin and Kaiser Wilhelm
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 17 - موسیولینن و قیصر ولیم
The Labourer’s Song
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 23 - نوای مزدور
Trifles - I am one who has walked around the Harem
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار