وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید(آدم جنت سے نکل کر کہتا ہے) ۔
Conquest of Nature
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 4 - تسخیر فطرت
عمل کی دنیا
The World of Action
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 31 - جهان عمل
اللہ کی غلامی،مقام عبودیت
Humanity
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 42 - بندگی
غلامی
Slavery
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 43 - غلامی
مصطفی کمال پاشا سے خطاب (خدا اس کی تائید کرے)
Lines Addressed to Mustafa Kamal Pasha
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 48 - خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله
میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔
Around my grave atood in a ring a bevy of fair mourners, all comely, winsome, lily-white.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 2
زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔
Learn how to put a rosary bead on the sacred thread, and if your eyes see double, then learn how not to see.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 16
میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔
O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 22
تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔
There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 25
لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔
Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 27
ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔
In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 29
پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔
The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 32
آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔
Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 35
کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔
There is no master who does not adore Him like a slave. There is no slave who, if he were a master, would not bid for Him.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 37
تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔
Your seeing is all error, your wisdom all defect. You never will get anywhere except through revelation.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 41
نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔
There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 42
نقشِ فرنگ ۔ پیام
A Message to the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 1 - پیام
The League of Nations
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 2 - جمعیت الاقوام
Philosophers
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 18 - حکما
خرابات فرنگ
The Tavern of the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 20 - خرابات فرنگ
انگلستان سے خطاب
A Word to England
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 21 - خطاب به انگلستان