وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔
Tumultuous Love where’er it rove unto Thy street is brought; what boasteth he who findeth Thee that for himself he sought?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 1
سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔
Out of Hijaz and the lonely plain the Guide of the Time is come, back from the far, far vale again the Caravan hastens home.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 12
اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔
Either do not tell the Muslim to put his life at risk, or else breathe a new soul into this worn-out frame. Do one thing or the other!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 19
عقل بھی عشق کی مانند ہے اور وہ ذوقِ نظر سے انجان نہیں ہے ۔ لیکن اس بے چاری کے پاس وہ ہمت و دلیری نہیں جو عشق کو حاصل ہے ۔
Intellect is passion too, and it knows the joy to view, but the poor unfortunate dares not as the inebriate.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 20
میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔
A melody swept me through and through and nobody knew; the air and the note is all they know: The high and low.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 23
میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔
I am a blossom of the plain; carry me back from the avenue to mountain and wilderness again where air’s to breathe, and the vast to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 25
سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔
Of the hirelings’s blood outpoured, lustrous rubies makes the lord; tyrant squire to swell his wealth desolates the peasant’s tillth.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 30
اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔
Although the soul, I know, one day unveiled shall be, think not it shall be so by writhing endlessly.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 31
عشق جستجو کرتا رہا اور اس کی اس جستجو کا حاصل آدم ہے ۔ اس لیے عشق نے اپنا جلوہ آب و گل یعنی جسم خاکی کے پردے سے ظاہر کیا ۔
Love went searching thro’ the earth until Adam came to birth; out of water, out of clay manifested his display.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 41
مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔
I boast a love that is not grieved by being of To Be bereaved, whose infidelity doth ne’er the girdle of existence wear.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 43
میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔
The Saqi, pouring his pure wine upon my restless heart converts this quicksilver of mine to gold, by magic art.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 44
مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں بزم طرب میں رباب اور بانسری کی لے کے ساتھ رنگ رنگ کی شرابیں پیا کرتا تھا ۔ یہ وہ وقت تھا جب شراب کا جام میرے ہاتھوں میں اور صراحی (ساقی) کے ہاتھوں میں ہوتی تھی ۔
Ah, the wine, the lute, the piping, the dear memories of old, when I held the brimming beaker and my friend a bowl of gold.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 45
اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔
Lord, who didst bring the stars to birth, look down upon my scattered earth; the atom doth itself enfold; this boundless wilderness behold.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 56
میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔
Like a tulip’s flame I burn in your presence as I turn; by my life, and yours, I swear youth of Persia ever fair!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 57
اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔
In the mead a tulip blows in whose breast no yearning glows, a narcissus, languid too, yet it lacked the eye to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 70