تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
رباعی شمارهٔ 117دوام ما ز سوز ناتمام است
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے، مچھلی کی مانند ہم سوائے تپش کے اور کچھ نہیں رکھتے ۔
رباعی شمارهٔ 118مرنج از برهمن ای واعظ شهر
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو ، اگر وہ ہمیں بتوں کے سامنے سجدہ کے لیے کہتا ہے۔
رباعی شمارهٔ 119حکیمان گرچه صد پیکر شکستند
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں ، لیکن وہ ابھی تک ہست و بود کے سومنات میں پڑے ہیں۔
رباعی شمارهٔ 120جهانها روید از مشت گل من
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں، آ تو بھی میرے (کھیت کے) حاصل سے کچھ فائدہ اٹھا۔
رباعی شمارهٔ 121هزاران سال با فطرت نشستم
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں، میں نے اپنے ساتھ تعلق منقطع کیا اور اس کے ساتھ تعلق بنایا۔
رباعی شمارهٔ 122به پهنای ازل پر می گشودم
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے، میں آب و گل کے بندھن سے آزاد تھا۔
رباعی شمارهٔ 123درونم جلوهٔ افکار این چیست؟
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟ مجھ سے باہر راز ہی راز ، یہ کیا؟
رباعی شمارهٔ 124بخود نازم گدای بی نیازم
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے؛ تڑپنا، جلنا، گداز ہونا، نے نوازی کرنا (یہ میرا کام ہے)۔
رباعی شمارهٔ 125اگر آگاهی از کیف و کم خویش
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے ، تو اپنی شبنم (ہی) کو سمندر میں تبدیل کر۔
رباعی شمارهٔ 126چه غم داری ، حیات دل ز دم نیست
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں؛ دل حلقۂ ہست و نیست سے باہر ہے۔
رباعی شمارهٔ 127تو ای دل تا نشینی در کنارم
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے؛ میری گدڑی شاہوں کے لباس سے بہتر ہے۔
رباعی شمارهٔ 128ز من گو صوفیان با صفا را
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو ، وہ جو اللہ تعالیٰ کے متلاشی اور حقیقت آشنا ہیں۔
رباعی شمارهٔ 129چو نرگس این چمن نادیده مگذر
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر یہاں سے نہ گزر، تو اس خوشبو کی مانند نہ ہو جو غنچۂ پیچیدہ ہی میں رہ جاتی ہے۔
رباعی شمارهٔ 130تراشیدم صنم بر صورت خویش
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں؛ میں اپنا معبود اپنی ہی صورت پر بناتا ہوں۔
رباعی شمارهٔ 131به شبنم غنچهٔ نورسته می گفت
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا ؛ ہم چمن میں پیدا ہونے والوں کی نگاہ حقیقت تک نہیں ( تو جو آسمان سے ٹپکتی ہے تو ہمیں بتا)۔
رباعی شمارهٔ 132زمین را رازدان آسمان گیر
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ، مکاں کو لا مکاں کے معنی کی شرع خیال کر۔
رباعی شمارهٔ 133ضمیر کن فکان غیر از تو کس نیست
جہان ہست و بود کا ضمیر (معنیء پہچان) تیرے سوائے اور کوئی نہیں ، صرف تو ہی اس بے نشاں (اللہ تعالیٰ ) کا نشان ہے۔
رباعی شمارهٔ 134زمین خاک در میخانهٔ ما
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے، چرخ گرداں ہمارے پیمانے کی ایک گردش ہے۔
رباعی شمارهٔ 135سکندر رفت و شمشیر و علم رفت
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے، شہروں سے وصول کیا ہوا خراج ، کان سے نکالا ہوا خزانہ اور سمندر سے حاصل کئے ہوئے موتی سب گئے۔
رباعی شمارهٔ 136ربودی دل ز چاک سینهٔ من
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا؛ میرا (قیمتی) خزانہ لے گئے۔
رباعی شمارهٔ 137ز پیش من جهان رنگ و بو رفت
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں ؛ نہ زمین ہے ، نہ آسمان، نہ چار سو۔
رباعی شمارهٔ 148مگو کار جهان نااستوار است
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں، ہمارے ہر لمحے کے اندر ابد پوشیدہ ہے۔
رباعی شمارهٔ 149رمیدی از خداوندان افرنگ
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے، لیکن قبروں اور مزاروں پر سجدے کرتا ہے۔
رباعی شمارهٔ 150قبای زندگانی چاک تا کی
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟ کب تک چیونٹیوں کی طرح خاک میں گھر بنائے گا؟
رباعی شمارهٔ 151میان لاله و گل آشیان گیر
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا، نغمہ سرا پرندوں سے آہ و فغان سیکھ۔
رباعی شمارهٔ 152بجان من که جان نقش تن انگیخت
مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا ہے، نظارے کے شوق میں اس نے اس پھول کو دو رو بنا دیا ہے۔ (حواس بدنی ہی کے ذریعے اس دنیا کو دیکھ جا سکتا ہے)۔
رباعی شمارهٔ 153به گوشم آمد از خاک مزاری
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی، کہ قبر میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔
رباعی شمارهٔ 154مشو نومید ازین مشت غباری
اس مشت غبار (انسان) سے نا امید نہ ہو، کہ اس کا جلوۂ نا پائیدار پریشاں ہے۔
رباعی شمارهٔ 156تو می گوئی که من هستم خدا نیست
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے؛ یہ دنیا لا انتہا ہے (یہ کبھی ختم نہیں ہو گی)۔
رباعی شمارهٔ 157بساطم خالی از مرغ کباب است
میرا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے؛ میرے جام میں قیمتی شراب بھی نہیں۔
رباعی شمارهٔ 159بحرف اندر نگیری لامکانرا
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا؛ اگر تو اپنے اندر دیکھے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔
رباعی شمارهٔ 160بهر دل عشق رنگ تازه بر کرد
ہر دل میں عشق ننے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے؛ کبھی یہ پتھر سے موافقت کرتا ہے اور کبھی شیشے سے۔
رباعی شمارهٔ 161هنوز از بند آب و گل نرستی
ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا، تو کہتا ہے کہ میں رومی ہوں، میں افغانی ہوں۔
رباعی شمارهٔ 162مرا ذوق سخن خون در جگر کرد
ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے؛ میں جو غبار راہ تھا اس نے میری خاک کو شرر بنا دیا ہے۔

