تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے، مچھلی کی مانند ہم سوائے تپش کے اور کچھ نہیں رکھتے ۔
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو ، اگر وہ ہمیں بتوں کے سامنے سجدہ کے لیے کہتا ہے۔
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں ، لیکن وہ ابھی تک ہست و بود کے سومنات میں پڑے ہیں۔
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں، آ تو بھی میرے (کھیت کے) حاصل سے کچھ فائدہ اٹھا۔
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں، میں نے اپنے ساتھ تعلق منقطع کیا اور اس کے ساتھ تعلق بنایا۔
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے، میں آب و گل کے بندھن سے آزاد تھا۔
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟ مجھ سے باہر راز ہی راز ، یہ کیا؟
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے؛ تڑپنا، جلنا، گداز ہونا، نے نوازی کرنا (یہ میرا کام ہے)۔
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے ، تو اپنی شبنم (ہی) کو سمندر میں تبدیل کر۔
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں؛ دل حلقۂ ہست و نیست سے باہر ہے۔
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے؛ میری گدڑی شاہوں کے لباس سے بہتر ہے۔
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو ، وہ جو اللہ تعالیٰ کے متلاشی اور حقیقت آشنا ہیں۔
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر یہاں سے نہ گزر، تو اس خوشبو کی مانند نہ ہو جو غنچۂ پیچیدہ ہی میں رہ جاتی ہے۔
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں؛ میں اپنا معبود اپنی ہی صورت پر بناتا ہوں۔
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا ؛ ہم چمن میں پیدا ہونے والوں کی نگاہ حقیقت تک نہیں ( تو جو آسمان سے ٹپکتی ہے تو ہمیں بتا)۔
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ، مکاں کو لا مکاں کے معنی کی شرع خیال کر۔
جہان ہست و بود کا ضمیر (معنیء پہچان) تیرے سوائے اور کوئی نہیں ، صرف تو ہی اس بے نشاں (اللہ تعالیٰ ) کا نشان ہے۔
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے، چرخ گرداں ہمارے پیمانے کی ایک گردش ہے۔
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے، شہروں سے وصول کیا ہوا خراج ، کان سے نکالا ہوا خزانہ اور سمندر سے حاصل کئے ہوئے موتی سب گئے۔
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا؛ میرا (قیمتی) خزانہ لے گئے۔
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں ؛ نہ زمین ہے ، نہ آسمان، نہ چار سو۔
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں، ہمارے ہر لمحے کے اندر ابد پوشیدہ ہے۔
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے، لیکن قبروں اور مزاروں پر سجدے کرتا ہے۔
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟ کب تک چیونٹیوں کی طرح خاک میں گھر بنائے گا؟
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا، نغمہ سرا پرندوں سے آہ و فغان سیکھ۔
مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا ہے، نظارے کے شوق میں اس نے اس پھول کو دو رو بنا دیا ہے۔ (حواس بدنی ہی کے ذریعے اس دنیا کو دیکھ جا سکتا ہے)۔
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی، کہ قبر میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔
اس مشت غبار (انسان) سے نا امید نہ ہو، کہ اس کا جلوۂ نا پائیدار پریشاں ہے۔
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے؛ یہ دنیا لا انتہا ہے (یہ کبھی ختم نہیں ہو گی)۔
میرا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے؛ میرے جام میں قیمتی شراب بھی نہیں۔
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا؛ اگر تو اپنے اندر دیکھے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔
ہر دل میں عشق ننے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے؛ کبھی یہ پتھر سے موافقت کرتا ہے اور کبھی شیشے سے۔
ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا، تو کہتا ہے کہ میں رومی ہوں، میں افغانی ہوں۔
ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے؛ میں جو غبار راہ تھا اس نے میری خاک کو شرر بنا دیا ہے۔