بخش 15 - کرم کتابی

کتاب کا کیڑا

The Bookworm and the Moth

Toggle stanza 1
شنیدم شبی در کتب خانهٔ من
1

شنیدم شبی در کتب خانهٔ من

به پروانه می گفت کرم کتابی

میں نے ایک رات اپنے کتب خانے میں سنا دیمک نے پروانے سے یہ کہا ۔

I hear that in my library one night a bookworm spoke thus to a moth:

2

به اوراق سینا نشیمن گرفتم

بسی دیدم از نسخهٔ فاریابی

میں نے بوعلی سینا کی کتابوں میں گھونسلہ بنایا ۔ فاریابی کی بہیتری کتابیں دیکھ ڈالیں ۔ ( میں نے فلسفہ و ادب کی ساری کتابیں چٹ کر لیں ) ۔

I have long lodged in Sina’s tomes and have consumed much of Farabi’s manuscript.

3

نفهمیده ام حکمت زندگی را

همان تیره روزم ز بی آفتابی

میں زندگی کی حکمت سے اب تک انجان ہوں سورج کے نہ ہونے سے میرے دن اس طرح تاریک ہیں ۔ مرا د ہے میں زندگی کی اس حقیقت کو نہیں پا سکا جو تو نے پا لی ہے ۔

But I have not learned anything about life’s mystery, and am just as much in the dark about it as before.’

4

نکو گفت پروانهٔ نیم سوزی

که این نکته را در کتابی نیابی

ایک ادھ جلے پتنگے نے خوب کہا کہ تو اس بھید کو کسی کتاب میں نہیں پائے گا ۔

The half-burnt moth gave it a fine reply: ‘You will not find life’s mystery explained in books.

5

تپش می کند زنده تر زندگی را

تپش می دهد بال و پر زندگی را

تپش زندگی کو زندہ تر کرتی ہے ۔ تپش زندگی کو بال و پر دیتی ہے ۔ نوٹ: اس راز سے واقف ہونا چاہتا ہے تو عشق اختیار کر کیونکہ زندگی پرواز کا نام ہے اور یہ طاقت صرف عشق سے پیدا ہو سکتی ہے ۔

However, here it is: What gives to life intensity is ardency. It lends life wings with which to fly.’

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور