رباعی شمارهٔ 124
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے
I take pride in myself, a beggar without need
Toggle stanza 1بخود نازم گدای بی نیازم
11
بخود نازم گدای بی نیازم
تپم ، سوزم ، گدازم، نی نوازم
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —
تڑپنا، جلنا، گداز ہونا، نے نوازی کرنا (یہ میرا کام ہے)۔
I take pride in myself, a beggar without need —
I tremble, I burn, I melt, and on the reed I play indeed.
22
ترا از نغمه در آتش نشاندم
سکندر فطرتم ، آئینه سازم
میں اپنے (آتشیں ) نغموں سے تجھے آگ میں ڈال دیتا ہوں —
پھر تجھے آئینے میں تبدیل کرتا ہوں کیونکہ میں سکندر فطرت ہوں۔
With my fiery tunes, I set you ablaze —
Alexander in nature, transforming hearts to mirrors in my ways.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

