تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
دل کے نالۂ مستانہ ہی سے سخن میں سوز پیدا ہوتا ہے، اس شمع (سخن) کی چمک پروانۂ دل ہی کے سبب ہے۔
پہاڑ سے سطوت چھین کر تنکے کو بخش دیتے ہیں، جمشید کو تاج گدائے سر راہ کو دے دیتے ہیں۔
نہ آپ حرم میں سماتے ہیں ، نہ بتخانہ میں آتے ہیں، لیکن اپنے چاہنے والوں کی جانب کس شوق سے بڑھتے ہیں۔ (حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں؛ جو میری طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، میں اس کی طرف دس قدم بڑھاتا ہوں)۔
بتکدۂ (افکار ) عجم کی چمک دمک میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی ، حضور اکرم ﷺ نے ایک نگاہ سے میرے (دل کے) حجاز کو فتح کر لیا ہے۔
آئینہ کی مانند دوسروں کے حسن میں محو نہ ہو، دوسروں کا خیال اپنے دیدہ و دل سے نکال دے۔ (نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کے دیکھ، نہ کسی کو اپنے دل میں جگہ دے۔)
عشق کی دنیا میں نہ کوئی میر ہے، نہ سردار ، اس جہاں میں صرف خدمت گذاری کا قانون چلتا ہے۔
آقا تبھی ہے جب کوئی اس کی چاکری کرنے والا غلام ہو، غلام اسی صورت میں غلام ہے ، جب کوئی آقا اس کا خریدار ہو۔
اٹھ کہ بلبل شوریدہ نغمہ الاپ رہی ہے، گل لالہ کی دلہن سراپا ناز و ادا بنی ہوئی ہے۔
ہم خاک ہیں ، مگر ستارے کی مانند تیز رفتار ہیں، ہم اس نیلگوں سمندر (آسمان) میں ساحل کی تلاش میں ہیں۔
خدا کرے کہ سارے کا سارا عرب میرے خون ملے آنسوؤں سے لالہ زار ہو جائے ، اور عجم کے لیے، جو اپنی خوشبو کھو چکا ہے میری نوا (نئی) بہار ثابت ہو۔
تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور تیری خرد کوتاہ، کلیم اللہ کے تقاضے (حسن ازل کے دیدار کی خواہش) کے بغیر تو کہیں نہیں پہنچ سکتا۔
کوئی ایسا خم شکن نہیں جو آپ ﷺ کی محبت سے سر خوش نہ ہو، کوئی ایسا شیرین سخن نہیں جو آپ ﷺ کے لب لعلیں سے سرمست نہ ہو۔
اگرچہ اس کا سر تاج و کلاہ سے مزیّن نہیں ، مگر تیری گلی کا گدا کسی پادشاہ سے کم نہیں۔
میرا عشق بے نیاز اپنی آغوش میں شعلہ رکھتا ہے، مگر میرے بانجھ فلسفے کے اندر سے ایک شرربھی پیدا نہیں ہوتا۔
تجھ پر افسوس کہ تو نے نئے بت تراش لیے ہیں ، مگر (کان) دل کی کھودائی نہ کی۔