تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
غزل شمارهٔ 31سوز سخن ز نالهٔ مستانهٔ دل است
دل کے نالۂ مستانہ ہی سے سخن میں سوز پیدا ہوتا ہے، اس شمع (سخن) کی چمک پروانۂ دل ہی کے سبب ہے۔
غزل شمارهٔ 32سطوت از کوه ستانند و بکاهی بخشند
پہاڑ سے سطوت چھین کر تنکے کو بخش دیتے ہیں، جمشید کو تاج گدائے سر راہ کو دے دیتے ہیں۔
غزل شمارهٔ 33نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه میآیی
نہ آپ حرم میں سماتے ہیں ، نہ بتخانہ میں آتے ہیں، لیکن اپنے چاہنے والوں کی جانب کس شوق سے بڑھتے ہیں۔ (حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں؛ جو میری طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، میں اس کی طرف دس قدم بڑھاتا ہوں)۔
غزل شمارهٔ 34تب و تاب بتکدهٔ عجم نرسد به سوز و گداز من
بتکدۂ (افکار ) عجم کی چمک دمک میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی ، حضور اکرم ﷺ نے ایک نگاہ سے میرے (دل کے) حجاز کو فتح کر لیا ہے۔
غزل شمارهٔ 35مثل آئینه مشو محو جمال دگران
آئینہ کی مانند دوسروں کے حسن میں محو نہ ہو، دوسروں کا خیال اپنے دیدہ و دل سے نکال دے۔ (نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کے دیکھ، نہ کسی کو اپنے دل میں جگہ دے۔)
غزل شمارهٔ 36جهان عشق نه میری نه سروری داند
عشق کی دنیا میں نہ کوئی میر ہے، نہ سردار ، اس جہاں میں صرف خدمت گذاری کا قانون چلتا ہے۔
غزل شمارهٔ 37خواجه ئی نیست که چون بنده پرستارش نیست
آقا تبھی ہے جب کوئی اس کی چاکری کرنے والا غلام ہو، غلام اسی صورت میں غلام ہے ، جب کوئی آقا اس کا خریدار ہو۔
غزل شمارهٔ 38بیا که بلبل شوریده نغمه پرداز است
اٹھ کہ بلبل شوریدہ نغمہ الاپ رہی ہے، گل لالہ کی دلہن سراپا ناز و ادا بنی ہوئی ہے۔
غزل شمارهٔ 39خاکیم و تند سیر مثال ستارهایم
ہم خاک ہیں ، مگر ستارے کی مانند تیز رفتار ہیں، ہم اس نیلگوں سمندر (آسمان) میں ساحل کی تلاش میں ہیں۔
غزل شمارهٔ 40عرب از سرشک خونم همه لالهزار بادا
خدا کرے کہ سارے کا سارا عرب میرے خون ملے آنسوؤں سے لالہ زار ہو جائے ، اور عجم کے لیے، جو اپنی خوشبو کھو چکا ہے میری نوا (نئی) بہار ثابت ہو۔
غزل شمارهٔ 41نظر تو همه تقصیر و خرد کوتاهی
تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور تیری خرد کوتاہ، کلیم اللہ کے تقاضے (حسن ازل کے دیدار کی خواہش) کے بغیر تو کہیں نہیں پہنچ سکتا۔
غزل شمارهٔ 42سر خوش از بادهٔ تو خم شکنی نیست که نیست
کوئی ایسا خم شکن نہیں جو آپ ﷺ کی محبت سے سر خوش نہ ہو، کوئی ایسا شیرین سخن نہیں جو آپ ﷺ کے لب لعلیں سے سرمست نہ ہو۔
غزل شمارهٔ 43اگرچه زیب سرش افسر و کلاهی نیست
اگرچہ اس کا سر تاج و کلاہ سے مزیّن نہیں ، مگر تیری گلی کا گدا کسی پادشاہ سے کم نہیں۔
غزل شمارهٔ 44شعله در آغوش دارد عشق بی پروای من
میرا عشق بے نیاز اپنی آغوش میں شعلہ رکھتا ہے، مگر میرے بانجھ فلسفے کے اندر سے ایک شرربھی پیدا نہیں ہوتا۔
غزل شمارهٔ 45بتان تازه تراشیدهای دریغ از تو
تجھ پر افسوس کہ تو نے نئے بت تراش لیے ہیں ، مگر (کان) دل کی کھودائی نہ کی۔

