بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس
Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس
11
از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس
کز دم بادی زجاج شاعر ما بشکند
اس کی طبع ء موشگاف کی نزاکتوں کے بارے میں نہ پوچھ، ہمارے شاعر کا شیشہ ہوا کے جھونکے سے ٹوٹ جاتا ہے۔
Do not speak to me of his sensitive, fine mind, our poet’s crystal breaks at a mere breath of wind.
22
کی تواند گفت شرح کارزار زندگی
«می پرد رنگش حبابی چون بدریا بشکند»
وہ کیسے زندگی کے کارزار کی وضاحت کر سکتا ہے، (اس کا تو یہ حال ہے کہ) 'دریا میں بلبلہ ٹوٹے تو اس کا رنگ اڑ جاتا ہے'۔
Of life’s grim war how can he ever tell the tale, when at the sight of a burst bubble he turns pale?
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

