تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
جب بہار نے باغ میں بزم سرود سجائی، تو بلبل شوریدہ (سر گرم فغان ہوئی اور اس) کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (ہر طرف پھول کھلنے لگے)۔
کتنے دلبر، زہرہ وش، گلبدن اور سیم بر، میری قبر کے گرد حلقہ بنا کر نوحہ گری میں لگے ہوئے ہیں۔
ہمارا فکر ہر دم ایک نیا معبود (بت) تراشتا ہے، ایک بندھن سے آزار ہوتا ہے تا کہ دوسرے میں گرفتار ہو جائے۔
مجھے دیدۂ بینا سے اور (قسم کی) شکایت ہے، کہ جب تک جلوہ افروز ہوتا ہے تو میری نگاہ ہی حجاب بن جاتی ہے (دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی)۔
میں اس بہانہ سے اس بزم میں اپنا محرم (راز) تلاش کرتا ہوں ، غزل گاتا ہوں اور دوست (اللہ تعالیٰ) کا پیغام پہنچاتا ہوں (جو محرم راز ہوتا ہے، وہ اس پیغام کو سمجھ جاتا ہے)۔
اٹھ اور پردہ ہائے (اصطلاح موسیقی) ساز (کی نوا ریزی) کے لیے (اپنے چہرے پر سے) نقاب اٹھا ، اور (اس طرح) خوش نوا پرندے کو نیا نغمہ سیکھا۔
پادشاہوں کی نوکری کرنے والوں کو یہ راز بتا دو، کہ نوائے دلگداز (شاعری) سے (بھی) دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔
آ کہ ساقی گل چہرہ نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے، باد بہار کے سبب مصوّر ما فی کے نقوش کا جواب بنا ہوا ہے۔
میں صورت کی پرستش نہیں کرتا، میں نے یہ بتخانہ مسمار کر دیا ہے؛ میں تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں۔
خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے خرد کے لباس کو شعلۂ مئے سے جلا دیا ، اور گل لالہ کی مانند آگ کو اپنی متاع بنایا۔
میں تیر و سناں اور خنجر و شمشیر کی آرزو رکھتا ہوں؛ میرے ساتھ نہ آ کہ میں مسلک شبیرؓ (شہادت ) کا جویا ہوں۔
تسبیح کا دانہ ، زنّار میں پرونا سیکھ، اگر تیری نگاہ دوئی پسند ہے تو اس سے بہتر ہے کہ تو نہ دیکھے۔
اپنی خاک کے اندر سے وہ جلوہ پیدا کر جو نظر نہیں آتا ، دوسرے کی تجلّی اس لائق نہیں کہ اس کا تقا ضا کیا جائے۔
موج کو سینۂ دریا سے الگ کیا جا سکتا ہے؛ بے پایاں سمندر کو اپنی ندی میں مقید کیا جا سکتا ہے۔
اپنی کرشمہ ساز آنکھ کم سرمہ سے پھر تیز کر؛ اور (اس طرح) غزل سرائی کے ذوق میں جنوں ملا کر دو چند کر دے۔
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ؛ ہے یہ امیر قافلہ مگر رہزنی کا ذوق رکھتی ہے۔ (زندگی کا مسئلہ سلجھانے کی بجائے اور الجھاتی ہے)
میں اس ماہ کامل کے جلوے کی حسرت رکھتا ہوں؛ ہاتھ سینے پر رکھے نظر بام پر لگائے (انتظار میں ہوں)۔
اہل عشق کعبہ و بتخانہ میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے، (وہ کہتے ہیں) یہاں محبوب جلوت میں ہے، وہاں خلوت میں۔
تیرے بغیر خواب عدم سے آنکھ کھولی نہیں جا سکتی ، نہ تیرے بغیر ہمارا کوئی وجود ہے، البتہ تو ساتھ ہو تو ہمیں کوئی فنا نہیں۔
یہ گنبد مینائی (آسمان) اور (زمین کی) یہ پستی و بلندی ، سب اپنی وسعت کے باوجود عشق کے دل میں سما جاتے ہیں۔
صوفیوں میں سے ایک کے نام۔ لیلی (محبوب) کی منزل کی خواہش نہ تو رکھتا ہے نہ میں، گرمی صحرا برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں۔
میں منزل شوق کا راہبر ہوں ۔ میرا دامن پکڑ لے؛ خالص آگ کا شرر ہوں، مجھے اپنی خاک میں ملا لے۔
ہمارے دل کے جہان میں کوئی ایسا قمر نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ، یہاں انقلاب آتے ہيں مگر ان کا تعلق صبح و شام (گردش آفتاب) سے نہیں۔
ہمارا گریہ بے اثر ہے، ہماری فریاد نارسا ہے، اس سارے سوز و ساز کا حاصل بس ایک دل ہے، جس کی نوا خونیں ہے۔