تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
بخش 19کرمک شبتاب
بخش 20حقیقت
بخش 23محاورهٔ ما بین خدا و انسان
بخش 24ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد
بخش 25شاهین و ماهی
بخش 26کرمک شبتاب
بخش 28شبنم
بخش 29عشق
بخش 30اگر خواهی حیات اندر خطر زی
بخش 32زندگی
بخش 33حکمت فرنگ
بخش 36الملک للہ
بخش 37جوی آب
بخش 38نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)
بخش 39بهشت
بخش 40کشمیر
بخش 41عشق
بخش 42بندگی
بخش 43غلامی
بخش 45جمهوریت
بخش 46به مبلغ اسلام در فرنگستان
بخش 47غنی کشمیری
بخش 48خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله
بخش 49طیاره
بخش 50عشق
بخش 51تهذیب
غزل شمارهٔ 1بهار تا به گلستان کشید بزم سرود
جب بہار نے باغ میں بزم سرود سجائی، تو بلبل شوریدہ (سر گرم فغان ہوئی اور اس) کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (ہر طرف پھول کھلنے لگے)۔
غزل شمارهٔ 2حلقه بستند سر تربت من نوحه کران
کتنے دلبر، زہرہ وش، گلبدن اور سیم بر، میری قبر کے گرد حلقہ بنا کر نوحہ گری میں لگے ہوئے ہیں۔
غزل شمارهٔ 3می تراشد فکر ما هر دم خداوندی دگر
ہمارا فکر ہر دم ایک نیا معبود (بت) تراشتا ہے، ایک بندھن سے آزار ہوتا ہے تا کہ دوسرے میں گرفتار ہو جائے۔
غزل شمارهٔ 4مرا ز دیدهٔ بینا شکایت دگر است
مجھے دیدۂ بینا سے اور (قسم کی) شکایت ہے، کہ جب تک جلوہ افروز ہوتا ہے تو میری نگاہ ہی حجاب بن جاتی ہے (دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی)۔
غزل شمارهٔ 5به این بهانه درین بزم محرمی جویم
میں اس بہانہ سے اس بزم میں اپنا محرم (راز) تلاش کرتا ہوں ، غزل گاتا ہوں اور دوست (اللہ تعالیٰ) کا پیغام پہنچاتا ہوں (جو محرم راز ہوتا ہے، وہ اس پیغام کو سمجھ جاتا ہے)۔
غزل شمارهٔ 6خیز و نقاب بر گشا پردگیان ساز را
اٹھ اور پردہ ہائے (اصطلاح موسیقی) ساز (کی نوا ریزی) کے لیے (اپنے چہرے پر سے) نقاب اٹھا ، اور (اس طرح) خوش نوا پرندے کو نیا نغمہ سیکھا۔
غزل شمارهٔ 7به ملازمان سلطان خبری دهم ز رازی
پادشاہوں کی نوکری کرنے والوں کو یہ راز بتا دو، کہ نوائے دلگداز (شاعری) سے (بھی) دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔
غزل شمارهٔ 8بیا که ساقی گلچهره دست بر چنگ است
آ کہ ساقی گل چہرہ نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے، باد بہار کے سبب مصوّر ما فی کے نقوش کا جواب بنا ہوا ہے۔
غزل شمارهٔ 9صورت نپرستم من بتخانه شکستم من
میں صورت کی پرستش نہیں کرتا، میں نے یہ بتخانہ مسمار کر دیا ہے؛ میں تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں۔
غزل شمارهٔ 13خوش آنکه رخت خرد را به شعلهای می سوخت
خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے خرد کے لباس کو شعلۂ مئے سے جلا دیا ، اور گل لالہ کی مانند آگ کو اپنی متاع بنایا۔
غزل شمارهٔ 15تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست
میں تیر و سناں اور خنجر و شمشیر کی آرزو رکھتا ہوں؛ میرے ساتھ نہ آ کہ میں مسلک شبیرؓ (شہادت ) کا جویا ہوں۔
غزل شمارهٔ 16دانهٔ سبحه به زنار کشیدن آموز
تسبیح کا دانہ ، زنّار میں پرونا سیکھ، اگر تیری نگاہ دوئی پسند ہے تو اس سے بہتر ہے کہ تو نہ دیکھے۔
غزل شمارهٔ 17ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست
اپنی خاک کے اندر سے وہ جلوہ پیدا کر جو نظر نہیں آتا ، دوسرے کی تجلّی اس لائق نہیں کہ اس کا تقا ضا کیا جائے۔
غزل شمارهٔ 18موج را از سینهٔ دریا گسستن میتوان
موج کو سینۂ دریا سے الگ کیا جا سکتا ہے؛ بے پایاں سمندر کو اپنی ندی میں مقید کیا جا سکتا ہے۔
غزل شمارهٔ 20باز به سرمه تاب ده چشم کرشمه زای را
اپنی کرشمہ ساز آنکھ کم سرمہ سے پھر تیز کر؛ اور (اس طرح) غزل سرائی کے ذوق میں جنوں ملا کر دو چند کر دے۔
غزل شمارهٔ 21فریب کشمکش عقل دیدنی دارد
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ؛ ہے یہ امیر قافلہ مگر رہزنی کا ذوق رکھتی ہے۔ (زندگی کا مسئلہ سلجھانے کی بجائے اور الجھاتی ہے)
غزل شمارهٔ 22حسرت جلوهٔ آن ماه تمامی دارم
میں اس ماہ کامل کے جلوے کی حسرت رکھتا ہوں؛ ہاتھ سینے پر رکھے نظر بام پر لگائے (انتظار میں ہوں)۔
غزل شمارهٔ 24فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه
اہل عشق کعبہ و بتخانہ میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے، (وہ کہتے ہیں) یہاں محبوب جلوت میں ہے، وہاں خلوت میں۔
غزل شمارهٔ 25بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان
تیرے بغیر خواب عدم سے آنکھ کھولی نہیں جا سکتی ، نہ تیرے بغیر ہمارا کوئی وجود ہے، البتہ تو ساتھ ہو تو ہمیں کوئی فنا نہیں۔
غزل شمارهٔ 26این گنبد مینائی این پستی و بالائی
یہ گنبد مینائی (آسمان) اور (زمین کی) یہ پستی و بلندی ، سب اپنی وسعت کے باوجود عشق کے دل میں سما جاتے ہیں۔
غزل شمارهٔ 27هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من
صوفیوں میں سے ایک کے نام۔ لیلی (محبوب) کی منزل کی خواہش نہ تو رکھتا ہے نہ میں، گرمی صحرا برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں۔
غزل شمارهٔ 28دلیل منزل شوقم به دامنم آویز
میں منزل شوق کا راہبر ہوں ۔ میرا دامن پکڑ لے؛ خالص آگ کا شرر ہوں، مجھے اپنی خاک میں ملا لے۔
غزل شمارهٔ 29در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست
ہمارے دل کے جہان میں کوئی ایسا قمر نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ، یہاں انقلاب آتے ہيں مگر ان کا تعلق صبح و شام (گردش آفتاب) سے نہیں۔
غزل شمارهٔ 30گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست
ہمارا گریہ بے اثر ہے، ہماری فریاد نارسا ہے، اس سارے سوز و ساز کا حاصل بس ایک دل ہے، جس کی نوا خونیں ہے۔

