تراجم

میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

253نظمیں

تراجم والی نظمیں

بخش 19کرمک شبتاب

اردوEn

بخش 20حقیقت

اردوEn

بخش 23محاورهٔ ما بین خدا و انسان

اردوEn

بخش 24ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد

اردوEn

بخش 25شاهین و ماهی

اردوEn

بخش 26کرمک شبتاب

اردوEn

بخش 28شبنم

اردوEn

بخش 29عشق

اردوEn

بخش 30اگر خواهی حیات اندر خطر زی

اردوEn

بخش 32زندگی

اردوEn

بخش 33حکمت فرنگ

اردوEn

بخش 36الملک للہ

اردوEn

بخش 37جوی آب

اردوEn

بخش 38نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)

اردوEn

بخش 39بهشت

اردوEn

بخش 40کشمیر

اردوEn

بخش 41عشق

اردوEn

بخش 42بندگی

اردوEn

بخش 43غلامی

اردوEnآڈیو

بخش 45جمهوریت

اردوEn

بخش 46به مبلغ اسلام در فرنگستان

اردوEn

بخش 47غنی کشمیری

اردوEn

بخش 48خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله

اردوEn

بخش 49طیاره

اردوEn

بخش 50عشق

اردوEn

بخش 51تهذیب

اردوEn

غزل شمارهٔ 1بهار تا به گلستان کشید بزم سرود

جب بہار نے باغ میں بزم سرود سجائی، تو بلبل شوریدہ (سر گرم فغان ہوئی اور اس) کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (ہر طرف پھول کھلنے لگے)۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 2حلقه بستند سر تربت من نوحه کران

کتنے دلبر، زہرہ وش، گلبدن اور سیم بر، میری قبر کے گرد حلقہ بنا کر نوحہ گری میں لگے ہوئے ہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 3می تراشد فکر ما هر دم خداوندی دگر

ہمارا فکر ہر دم ایک نیا معبود (بت) تراشتا ہے، ایک بندھن سے آزار ہوتا ہے تا کہ دوسرے میں گرفتار ہو جائے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 4مرا ز دیدهٔ بینا شکایت دگر است

مجھے دیدۂ بینا سے اور (قسم کی) شکایت ہے، کہ جب تک جلوہ افروز ہوتا ہے تو میری نگاہ ہی حجاب بن جاتی ہے (دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی)۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 5به این بهانه درین بزم محرمی جویم

میں اس بہانہ سے اس بزم میں اپنا محرم (راز) تلاش کرتا ہوں ، غزل گاتا ہوں اور دوست (اللہ تعالیٰ) کا پیغام پہنچاتا ہوں (جو محرم راز ہوتا ہے، وہ اس پیغام کو سمجھ جاتا ہے)۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 6خیز و نقاب بر گشا پردگیان ساز را

اٹھ اور پردہ ہائے (اصطلاح موسیقی) ساز (کی نوا ریزی) کے لیے (اپنے چہرے پر سے) نقاب اٹھا ، اور (اس طرح) خوش نوا پرندے کو نیا نغمہ سیکھا۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 7به ملازمان سلطان خبری دهم ز رازی

پادشاہوں کی نوکری کرنے والوں کو یہ راز بتا دو، کہ نوائے دلگداز (شاعری) سے (بھی) دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 8بیا که ساقی گلچهره دست بر چنگ است

آ کہ ساقی گل چہرہ نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے، باد بہار کے سبب مصوّر ما فی کے نقوش کا جواب بنا ہوا ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 9صورت نپرستم من بتخانه شکستم من

میں صورت کی پرستش نہیں کرتا، میں نے یہ بتخانہ مسمار کر دیا ہے؛ میں تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 13خوش آنکه رخت خرد را به شعله‌ای می سوخت

خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے خرد کے لباس کو شعلۂ مئے سے جلا دیا ، اور گل لالہ کی مانند آگ کو اپنی متاع بنایا۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 15تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست

میں تیر و سناں اور خنجر و شمشیر کی آرزو رکھتا ہوں؛ میرے ساتھ نہ آ کہ میں مسلک شبیرؓ (شہادت ) کا جویا ہوں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 16دانهٔ سبحه به زنار کشیدن آموز

تسبیح کا دانہ ، زنّار میں پرونا سیکھ، اگر تیری نگاہ دوئی پسند ہے تو اس سے بہتر ہے کہ تو نہ دیکھے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 17ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

اپنی خاک کے اندر سے وہ جلوہ پیدا کر جو نظر نہیں آتا ، دوسرے کی تجلّی اس لائق نہیں کہ اس کا تقا ضا کیا جائے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 18موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

موج کو سینۂ دریا سے الگ کیا جا سکتا ہے؛ بے پایاں سمندر کو اپنی ندی میں مقید کیا جا سکتا ہے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 20باز به سرمه تاب ده چشم کرشمه زای را

اپنی کرشمہ ساز آنکھ کم سرمہ سے پھر تیز کر؛ اور (اس طرح) غزل سرائی کے ذوق میں جنوں ملا کر دو چند کر دے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 21فریب کشمکش عقل دیدنی دارد

عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ؛ ہے یہ امیر قافلہ مگر رہزنی کا ذوق رکھتی ہے۔ (زندگی کا مسئلہ سلجھانے کی بجائے اور الجھاتی ہے)

اردوEn

غزل شمارهٔ 22حسرت جلوهٔ آن ماه تمامی دارم

میں اس ماہ کامل کے جلوے کی حسرت رکھتا ہوں؛ ہاتھ سینے پر رکھے نظر بام پر لگائے (انتظار میں ہوں)۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 24فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

اہل عشق کعبہ و بتخانہ میں کوئی امتیاز نہیں رکھتے، (وہ کہتے ہیں) یہاں محبوب جلوت میں ہے، وہاں خلوت میں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 25بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان

تیرے بغیر خواب عدم سے آنکھ کھولی نہیں جا سکتی ، نہ تیرے بغیر ہمارا کوئی وجود ہے، البتہ تو ساتھ ہو تو ہمیں کوئی فنا نہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 26این گنبد مینائی این پستی و بالائی

یہ گنبد مینائی (آسمان) اور (زمین کی) یہ پستی و بلندی ، سب اپنی وسعت کے باوجود عشق کے دل میں سما جاتے ہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 27هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

صوفیوں میں سے ایک کے نام۔ لیلی (محبوب) کی منزل کی خواہش نہ تو رکھتا ہے نہ میں، گرمی صحرا برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 28دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

میں منزل شوق کا راہبر ہوں ۔ میرا دامن پکڑ لے؛ خالص آگ کا شرر ہوں، مجھے اپنی خاک میں ملا لے۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 29در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

ہمارے دل کے جہان میں کوئی ایسا قمر نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ، یہاں انقلاب آتے ہيں مگر ان کا تعلق صبح و شام (گردش آفتاب) سے نہیں۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 30گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست

ہمارا گریہ بے اثر ہے، ہماری فریاد نارسا ہے، اس سارے سوز و ساز کا حاصل بس ایک دل ہے، جس کی نوا خونیں ہے۔

اردوEn