تراجم

میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

253نظمیں

تراجم والی نظمیں

رباعی شمارهٔ 54من از بود و نبود خود خموشم

میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں ، اگر کہوں تو خود پرست سمجھا جاؤں گا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 55ز من با شاعر رنگین بیان گوی

شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو؛ اگر تو گل لالہ کی طرح جلا ، تو کیا جلا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 56ز خوب و زشت تو ناآشنایم

میں تیرے (عام انسان کے) خوب و ناخوب سے نہ آشنا ہوں؛ تو نے نفع و نقصان کو (زندگی کا) معیار ٹھہرا لیا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 57تو ای شیخ حرم شاید ندانی

اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا: جہان عشق کا بھی ایک محشر ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 59من ای دانشوران در پیچ و تابم

اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں، خرد کے لیے اس نکتہ کو سمجھنا محال ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 61سراپا معنی سر بسته ام من

میں سراپا معنیء سربستہ ہوں، مجھے حرف بافوں (حروف سے کھیلنے والوں) کی نگاہ نہیں پا سکتی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 63اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ

جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی؛ تو وہ تیرے فیض آرزو سے قیمتی موتی بن گیا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 64وفا ناآشنا بیگانه خو بود

وہ تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا ؛ اس کی نگاہ (کسی اور کی) جستجو میں بے قرار تھی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 65مپرس از عشق و از نیرنگی عشق

عشق اور اس کے طلسم کی بات کر ؛ تو جو رنگ چاہے وہ اسی کو اختیار کر سکتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 67مرا روزی گل افسرده ئی گفت

ایک دن پژمردہ پھول نے مجھ سے کہا؛ ہماری زندگی شرر کی پرواز کی مانند ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 68جهان ما که پایانی ندارد

ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں؛ زمانے کے سمندر میں مچھلی کی طرح غرق ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 69به مرغان چمن همداستانم

میں باغ کے پرندوں کی داستان بیان کرتا ہوں؛ میں بے زبان کلیموں کی زبان ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 70نماید آنچه هست این وادی گل؟

کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے؛ کیا یہ ہم جانتے ہیں کہ لالۂ آتشیں کے اندر کیا ہے؟

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 73دماغم کافر زنار دار است

میرا دماغ زنّار دار (بت پرست) کافر ہے؛ بت بناتا بھی ہے اور ان کی پرستش بھی کرتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 74صنوبر بندهٔ آزادهٔ او

صنوبر اس (ذات) کا بندۂ آزاد ہے؛ پھول کے چہرے کی چمک اس کی شراب (کی مستی) کی وجہ سے ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 75ز انجم تا به انجم صد جهان بود

ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کئی جہان ہیں؛ جہاں بھی خرد پہنچی وہاں ایک آسمان موجود تھا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 76بپای خود مزن زنجیر تقدیر

اپنے پاؤں میں تقدیر کی زنجیر نہ پہن؛ اس گنبد گرداں (آسمان) سے نکلنے کا راستہ موجود ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 77دل من در طلسم خود اسیر است

میرا دل اپنے طلسم میں اسیر ہے؛ میرا جہان اس کے پرتو سے روشنی حاصل کرتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 78نوا در ساز جان از زخمهٔ تو

میرے ساز جان میں نوا آپ کے مضراب سے ہے ۔ (اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہے ہیں) ، آپ کس طرح میری جان کے اندر بھی ہیں اور باہر بھی،

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 79نفس آشفته موجی از یم اوست

ہماری سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی موج ہے؛ ہماری نے ، ہمارا نغمہ اسی کے دم سے ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 80ترا درد یکی در سینه پیچید

آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا؛ چونکہ آپ نے یہ جہان رنگ و بو تخلیق فرمایا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 81کرا جوئی چرا در پیچ و تابی

میرے دل ! اے میرے دل ! اے میرے دل ! اے میرے سمندر، اے میری کشتی، اے میرے ساحل!

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 82تو ای کودک منش خود را ادب کن

تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ؛ تو مسلمان کی اولاد ہے نسب (پر ناز کرنا ) چھوڑ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 83نه افغانیم و نی ترک و تتاریم

نہ ہم افغان ہیں، نہ ترک، نہ تاتاری؛ ہم چمن زاد ہیں اور ایک ہی شاخ سے ہیں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 84نهان در سینهٔ ما عالمی هست

دل من اے دل من ایدل من

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 87کسی کو درد پنهانی ندارد

ہر شخص (عشق کا) درد پنہاں نہیں رکھتا، اس کا بدن تو ہے ، مگر اس میں جان نہیں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 90دل از منزل تهی کن پا بره دار

منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر ، (البتہ دوران سفر ) اپنی نگاہ کو مہر و ماہ کی طرح پاک رکھ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 91بیا ای عشق ای رمز دل ما

اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ! اے ہماری کھیتی ، اے ہمارے حاصل آ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 92سخن درد و غم آرد ، درد و غم به

شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے ؛ مجھے یہ ہر وقت نالہ و فریاد اچھا لگتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 93نه من بر مرکب ختلی سوارم

نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں ؛ نہ پادشاہ کا مصاحب ہوں۔ اے ہمنشین! مجھے یہ دولت کافی ہے؛ کہ جب اپنا سینہ کھودتا ہوں تو لعل نکال لیتا ہوں۔ سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے ؛ جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو – غالب

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 94کمال زندگی خواهی بیاموز

زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن ؛ آنکھ کھول کے رکھنا اور صرف اپنے آپ پر نظر رکھنا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 95تو میگوئی که آدم خاکزاد است

تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے اور اس جہان کا اسیر ہے جہاں (ہر طرف ) فتنہ و فساد ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 96دل بیباک را ضرغام رنگ است

دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے؛ خوفزدہ دل کے لیے ہرن بھی چیتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 97ندانم باده ام یا ساغرم من

میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں؛ میرے دامن میں گوہر ہے یا میں خود گوہر ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 98تو گوئی طایر ما زیر دام است

تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے؛ اس کے پر و بال کے لیے پرواز نا ممکن ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 99چسان زاید تمنا در دل ما

ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ ہماری منزل کا چراغ (تمنا) (ہمارے اندر) کیسے روشن ہوتا ہے؟

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 100چو در جنت خرامیدم پس از مرگ

جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا ؛ تو مجھے اس زمین و آسمان کا کا خیال آیا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 103تراش از تیشهٔ خود جادهٔ خویش

اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا ؛ دوسروں کے بنائے ہوئے راستے پر چلنا عذاب ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 105بیا با شاهد فطرت نظر باز

آ! حسن فطرت پر نظر ڈال ، تو ایک گوشے میں کیوں خلوت گزیں بیٹھا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 106میان آب و گل خلوت گزیدم

میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے، افلاطون و فارابی سے علیحدہ رہا ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 107ز آغاز خودی کس را خبر نیست

خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں ؛ خودی شام و سحر کے حلقے میں نہیں سماتی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 108دلا رمز حیات از غنچه دریاب

دل بدن کے اندر پیدا ہوتا ہے مگر اس کی زندگی اللہ تعالیٰ سے تعلق سے وابستہ ہے۔ کلی خاک تیرہ سے پیدا ہوتی ہے؛ لیکن اس کی نظر آفتاب کی شعاع پر رہتی ہے۔ دل بدن کے اندر پیدا ہوتا ہے مگر اس کی زندگی اللہ تعالیٰ سے تعلق سے وابستہ ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 109فروغ او به بزم باغ و راغ است

اللہ تعالیٰ کا نور باغ و راغ میں پھیلا ہوا ہے؛ مٹی کا یہ بدن اس کی محبت کی شراب سے روشن ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 110ز خاک نرگسستان غنچه ئی رست

دنیا کی خاک سے نرگس کی کلی پیدا ہوئی؛ پھر اس کی آنکھ سے شبنم کا اثر دھویا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 111جهان کز خود ندارد دستگاهی

جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا؛ وہ آرزو کے کوچے کے راستے کی تلاش میں تھا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 112دل من رازدان جسم و جان است

جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے؛ مت سمجھ کہ میں موت سے خوفزدہ ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 113گل رعنا چو من در مشکلی هست

گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے؛ وہ بھی محفل کے جادو کا اسیر ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 114مزاج لالهٔ خود رو شناسم

میں لالۂ خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں؛ وہ پھول جو ابھی شاخ کے اندر ہیں ، میں ان کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 115جهان یک نغمه زار آرزوئی

یہ دنیا بس آرزو کا نغمہ زار ہے؛ (یہاں ہر طرف آرزوؤں کے نغمے ابھر رہے ہیں ( اس جہان کا بم و زیر آرزو کی تار سے وابستہ ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 116دل من بی قرار آرزوئی

میرا دل آرزو سے بے قرار ہے؛ میرے سینے میں ہا و ہو (کا ہنگامہ) بپا ہے۔

اردوEnآڈیو