رباعی شمارهٔ 107
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں
No soul knows whence the Khudi first came
Toggle stanza 1ز آغاز خودی کس را خبر نیست
11
ز آغاز خودی کس را خبر نیست
خودی در حلقهٔ شام و سحر نیست
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —
خودی شام و سحر کے حلقے میں نہیں سماتی۔
No soul knows whence the Khudi first came —
Nor does it rest in dawn or dusk's frame.
22
ز خضر این نکتهٔ نادر شنیدم
که بحر از موج خود دیرینه تر نیست
میں نے یہ نادر نکتہ خضر (علیہ السلام) سے سنا ہے —
کہ بحر اپنی موج سے قدیم تر نہیں۔
This rare truth from Khidr I discern —
The sea is not older than the waves that churn.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

