تراجم
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تراجم والی نظمیں
پیشکش به حضور اعلیحضرت امیرامان الله خان فرمانروای دولت مستقلهٔ افغانستان خلد الله ملکه و اجلاله
رباعی شمارهٔ 1شهید ناز او بزم وجود است
بزم وجود ، اللہ تعالیٰ کی شہید ناز ہے؛ ہست و بود کی نہاد کے اندر نیازمندی ہے۔
رباعی شمارهٔ 2دل من روشن از سوز درون است
میرا دل سوز درون سے روشن ہے؛ اشک خون کے باعث میری آنکھ جہان بیں ہے۔
رباعی شمارهٔ 3به باغان باد فروردین دهد عشق
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے؛ اور گلشنوں میں ستاروں کی مانند سفید غنچے پیدا کرتا ہے ۔
رباعی شمارهٔ 4عقابان را بهای کم نهد عشق
عشق کی نظر میں عقاب کوئی شے نہیں؛ وہ تدرو (چھوٹے سے پرندے ) کو بازوں سے لڑا دیتا ہے۔
رباعی شمارهٔ 5به برگ لاله رنگ آمیزی عشق
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے؛ ہماری جان کے اندر عشق کا شور ہے۔
رباعی شمارهٔ 6نه هر کس از محبت مایه دار است
ہر چیز محبت کی دولت سے بہراور نہیں؛ نہ ہر شخص کو محبت سازگار ہے۔
رباعی شمارهٔ 7درین گلشن پریشان مثل بویم
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں؛ مجھے معلوم نہیں میں کیا چاہتا ہوں، کسے تلاش کر رہا ہوں۔
رباعی شمارهٔ 8جهان مشت گل و دل حاصل اوست
یہ جہان خاک کی مٹھی ہے اور دل اس کا حاصل ہے ؛ اسی ایک قطرۂ خون کو سنبھالنا اس کی مشکل ہے۔
رباعی شمارهٔ 9سحر می گفت بلبل باغبان را
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا؛ اس مٹی میں سوائے غم کے پودے کے اور کچھ نہیں اگتا۔
رباعی شمارهٔ 10جهان ما که نابود است بودش
ہمارا جہان جس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے؛ یہاں فائدے کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے۔
رباعی شمارهٔ 11نوای عشق را ساز است آدم
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں)، یہ (خالق حقیقی کا) راز وا کرتا ہے، مگر خود بھی راز ہے۔
رباعی شمارهٔ 13دلا نارائی پروانه تا کی
کیا پوچھتا ہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں ؛ میں اپنے گرد گھومتا ہوں اس لیے زندہ ہوں۔
رباعی شمارهٔ 14تنی پیدا کن از مشت غباری
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر؛ جو سنگین حصار سے زیادہ پختہ ہو۔
رباعی شمارهٔ 16به یزدان روز محشر برهمن گفت
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی؛ انسانی زندگی کی چمک شرارے کی مانندتھی۔
رباعی شمارهٔ 17گذشتی تیز گام ای اختر صبح
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے؛ شاید تو ہماری خواب (غفلت) سے بیزار ہے۔
رباعی شمارهٔ 18تهی از های و هو میخانه بودی
یہ میخانہ (دنیا) (ہنگامۂ) ہائے و ہو سے خالی ہوتا؛ ہماری خاک (بھی) شرر سے خالی ہے۔
رباعی شمارهٔ 20چه لذت یارب اندر هست و بود است
زندگی میں کیا لذت ہے، ہر ذرے کا دل شوق نمود سے جوش میں ہے۔
رباعی شمارهٔ 21شنیدم در عدم پروانه میگفت
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا؛ مجھے ایک لمحہ کے لیے زندگی کی چمک اور حرارت عطا کر دیں۔
رباعی شمارهٔ 22مسلمانان مرا حرفی است در دل
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے؛ جو روح جبریلؑ سے زیادہ روشن ہے۔
رباعی شمارهٔ 24رهی در سینهٔ انجم گشائی
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے، مگر اپنے آپ سے نا آشنا ہے۔
رباعی شمارهٔ 25سحر در شاخسار بوستانی
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر ، مرغ نغمہ خواں نے کیا اچھی بات کی۔
رباعی شمارهٔ 26ترا یک نکتهٔ سر بسته گویم
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے، تو میں ایک ایسا نکتہ بیان کرتا ہوں جو سربستہ راز ہے۔
رباعی شمارهٔ 27بهل افسانهٔ آن پا چراغی
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ، اس کے جلنے کی بات کانوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔
رباعی شمارهٔ 28ترا از خویشتن بیگانه سازد
میں وہ مسرت انگیز شراب نہیں رکھتا، جو تجھے اپنا آپ بھلا دے۔
رباعی شمارهٔ 29زیان بینی ز سیر بوستانم
اگر تیری جان شہید جستجو نہیں ہے، تو تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا۔
رباعی شمارهٔ 30برون از ورطهٔ بود و عدم شو
ہست و نیست کے چکر سے نکل ، اس جہان کم و بیش سے اوپر اٹھ۔
رباعی شمارهٔ 31ز مرغان چمن نا آشنایم
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں، آشیاں کی شاخ پر بیٹھا تنہا راگ آلاپ رہا ہوں۔
رباعی شمارهٔ 32جهان یارب چه خوش هنگامه دارد
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے، آپ نے سب کو ایک ہی پیمانہ (الست) سے مست کر دیا۔
رباعی شمارهٔ 33سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی، بحر و بر کے سوز و ساز میں حصّہ دار ہو۔
رباعی شمارهٔ 34سریر کیقباد ، اکلیل جم خاک
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں؛ کلیسا ، بتخانہ اور حرم سب خاک سے بنے ہوئے ہیں۔
رباعی شمارهٔ 35اگر در مشت خاک تو نهادند
اگر تیری خاک کے اندر خون برسانے والا دل صد پارہ رکھ دیا گیا ہے۔
رباعی شمارهٔ 36دمادم نقش های تازه ریزد
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں، یہ ہر دم ایک نیا نقش پیدا کرتی ہے۔
رباعی شمارهٔ 37چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد
جب مجھے ذوق نغمہ جلوت میں لاتا ہے، تو میں محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہوں۔
رباعی شمارهٔ 38چه میپرسی میان سینه دل چیست
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے، جب خرد نے سوز پیدا کیا تو وہ دل بن گئی ۔
رباعی شمارهٔ 39خرد گفت او بچشم اندر نگنجد
خرد کہتی ہے کہ آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی، (اس سے) نگاہ شوق امید و بیم میں ہے۔
رباعی شمارهٔ 40کنشت و مسجد و بتخانه و دیر
ہیکل ہو، کلیسا ہو، مسجد ہو یا بتخانہ، ان سب کو آپ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے جو صرف مٹھی بھر خاک ہے۔
رباعی شمارهٔ 41نه پیوستم درین بستان سرا دل
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا، یہاں کے بندھنوں سے آزاد رہا ہوں۔
رباعی شمارهٔ 42به خود باز آورد رند کهن را
میں نے جام میں جو جوان شراب ڈالی، وہ رند کہن کو دوبارہ ہوش میں لے آئی۔
رباعی شمارهٔ 43سفالم را می او جام جم کرد
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا، میرے قطرہ کے اندر سمندر پوشیدہ کر دیا ۔
رباعی شمارهٔ 44خرد زنجیری امروز و دوش است
خرد نے آج کل کا زنّار پہن رکھا ہے، وہ چشم و گوش کے بتوں کی پجاری ہے ( حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے۔
رباعی شمارهٔ 45خرد اندر سر هر کس نهادند
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے، میرا بدن بھی دوسروں کی مانند خاک و خون سے بنا ہے۔
رباعی شمارهٔ 46گدای جلوه رفتی بر سر طور
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا، کیونکہ تیری جان اپنے آپ سے نا آشنا تھی۔
رباعی شمارهٔ 47بگو جبریل را از من پیامی
جبریل کو میری طرف سے پیغام دو، مجھے تم جیسا پیکر نوری تو عطا نہیں ہوا۔
رباعی شمارهٔ 48همای علم تا افتد بدامت
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جا ئے تو یقین کم کر، ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ ( بحث مباحثہ کر)۔
رباعی شمارهٔ 49خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
خرد نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں ؛ (اور) میری نگاہ تشنۂ دیدار رہتی ہے۔
رباعی شمارهٔ 50دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے، اس کے خوف سے تو ہلدی کی مانند زرد ہے۔
رباعی شمارهٔ 51ز پیوند تن و جانم چه پرسی
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے؛ میں کیا اور کیسے کے دام میں نہیں آتا۔
رباعی شمارهٔ 52مرا فرمود پیر نکته دانی
پیر نکتہ داں نے مجھے فرمایا ہے، کہ تیرا ہر آج گزشتہ کل کا پیغام ہے۔
رباعی شمارهٔ 53ز رازی معنی قرآن چه پرسی؟
رازی سے قرآن کے معنی کیا پوچھتا ہے، ہمار ا ضمیر ہی اس کی سچائی پر گواہی دے رہا ہے۔ ( تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول قرآن ؛ گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف)۔

