تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
بزم وجود ، اللہ تعالیٰ کی شہید ناز ہے؛ ہست و بود کی نہاد کے اندر نیازمندی ہے۔
میرا دل سوز درون سے روشن ہے؛ اشک خون کے باعث میری آنکھ جہان بیں ہے۔
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے؛ اور گلشنوں میں ستاروں کی مانند سفید غنچے پیدا کرتا ہے ۔
عشق کی نظر میں عقاب کوئی شے نہیں؛ وہ تدرو (چھوٹے سے پرندے ) کو بازوں سے لڑا دیتا ہے۔
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے؛ ہماری جان کے اندر عشق کا شور ہے۔
ہر چیز محبت کی دولت سے بہراور نہیں؛ نہ ہر شخص کو محبت سازگار ہے۔
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں؛ مجھے معلوم نہیں میں کیا چاہتا ہوں، کسے تلاش کر رہا ہوں۔
یہ جہان خاک کی مٹھی ہے اور دل اس کا حاصل ہے ؛ اسی ایک قطرۂ خون کو سنبھالنا اس کی مشکل ہے۔
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا؛ اس مٹی میں سوائے غم کے پودے کے اور کچھ نہیں اگتا۔
ہمارا جہان جس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے؛ یہاں فائدے کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے۔
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں)، یہ (خالق حقیقی کا) راز وا کرتا ہے، مگر خود بھی راز ہے۔
کیا پوچھتا ہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں ؛ میں اپنے گرد گھومتا ہوں اس لیے زندہ ہوں۔
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر؛ جو سنگین حصار سے زیادہ پختہ ہو۔
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی؛ انسانی زندگی کی چمک شرارے کی مانندتھی۔
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے؛ شاید تو ہماری خواب (غفلت) سے بیزار ہے۔
یہ میخانہ (دنیا) (ہنگامۂ) ہائے و ہو سے خالی ہوتا؛ ہماری خاک (بھی) شرر سے خالی ہے۔
زندگی میں کیا لذت ہے، ہر ذرے کا دل شوق نمود سے جوش میں ہے۔
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا؛ مجھے ایک لمحہ کے لیے زندگی کی چمک اور حرارت عطا کر دیں۔
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے؛ جو روح جبریلؑ سے زیادہ روشن ہے۔
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے، مگر اپنے آپ سے نا آشنا ہے۔
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر ، مرغ نغمہ خواں نے کیا اچھی بات کی۔
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے، تو میں ایک ایسا نکتہ بیان کرتا ہوں جو سربستہ راز ہے۔
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ، اس کے جلنے کی بات کانوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔
میں وہ مسرت انگیز شراب نہیں رکھتا، جو تجھے اپنا آپ بھلا دے۔
اگر تیری جان شہید جستجو نہیں ہے، تو تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا۔
ہست و نیست کے چکر سے نکل ، اس جہان کم و بیش سے اوپر اٹھ۔
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں، آشیاں کی شاخ پر بیٹھا تنہا راگ آلاپ رہا ہوں۔
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے، آپ نے سب کو ایک ہی پیمانہ (الست) سے مست کر دیا۔
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی، بحر و بر کے سوز و ساز میں حصّہ دار ہو۔
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں؛ کلیسا ، بتخانہ اور حرم سب خاک سے بنے ہوئے ہیں۔
اگر تیری خاک کے اندر خون برسانے والا دل صد پارہ رکھ دیا گیا ہے۔
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں، یہ ہر دم ایک نیا نقش پیدا کرتی ہے۔
جب مجھے ذوق نغمہ جلوت میں لاتا ہے، تو میں محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہوں۔
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے، جب خرد نے سوز پیدا کیا تو وہ دل بن گئی ۔
خرد کہتی ہے کہ آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی، (اس سے) نگاہ شوق امید و بیم میں ہے۔
ہیکل ہو، کلیسا ہو، مسجد ہو یا بتخانہ، ان سب کو آپ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے جو صرف مٹھی بھر خاک ہے۔
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا، یہاں کے بندھنوں سے آزاد رہا ہوں۔
میں نے جام میں جو جوان شراب ڈالی، وہ رند کہن کو دوبارہ ہوش میں لے آئی۔
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا، میرے قطرہ کے اندر سمندر پوشیدہ کر دیا ۔
خرد نے آج کل کا زنّار پہن رکھا ہے، وہ چشم و گوش کے بتوں کی پجاری ہے ( حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے۔
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے، میرا بدن بھی دوسروں کی مانند خاک و خون سے بنا ہے۔
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا، کیونکہ تیری جان اپنے آپ سے نا آشنا تھی۔
جبریل کو میری طرف سے پیغام دو، مجھے تم جیسا پیکر نوری تو عطا نہیں ہوا۔
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جا ئے تو یقین کم کر، ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ ( بحث مباحثہ کر)۔
خرد نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں ؛ (اور) میری نگاہ تشنۂ دیدار رہتی ہے۔
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے، اس کے خوف سے تو ہلدی کی مانند زرد ہے۔
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے؛ میں کیا اور کیسے کے دام میں نہیں آتا۔
پیر نکتہ داں نے مجھے فرمایا ہے، کہ تیرا ہر آج گزشتہ کل کا پیغام ہے۔
رازی سے قرآن کے معنی کیا پوچھتا ہے، ہمار ا ضمیر ہی اس کی سچائی پر گواہی دے رہا ہے۔ ( تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول قرآن ؛ گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف)۔