تراجم

میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

253نظمیں

تراجم والی نظمیں

پیشکش به حضور اعلیحضرت امیرامان الله خان فرمانروای دولت مستقلهٔ افغانستان خلد الله ملکه و اجلاله

اردوEn

رباعی شمارهٔ 1شهید ناز او بزم وجود است

بزم وجود ، اللہ تعالیٰ کی شہید ناز ہے؛ ہست و بود کی نہاد کے اندر نیازمندی ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 2دل من روشن از سوز درون است

میرا دل سوز درون سے روشن ہے؛ اشک خون کے باعث میری آنکھ جہان بیں ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 3به باغان باد فروردین دهد عشق

عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے؛ اور گلشنوں میں ستاروں کی مانند سفید غنچے پیدا کرتا ہے ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 4عقابان را بهای کم نهد عشق

عشق کی نظر میں عقاب کوئی شے نہیں؛ وہ تدرو (چھوٹے سے پرندے ) کو بازوں سے لڑا دیتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 5به برگ لاله رنگ آمیزی عشق

گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے؛ ہماری جان کے اندر عشق کا شور ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 6نه هر کس از محبت مایه دار است

ہر چیز محبت کی دولت سے بہراور نہیں؛ نہ ہر شخص کو محبت سازگار ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 7درین گلشن پریشان مثل بویم

میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں؛ مجھے معلوم نہیں میں کیا چاہتا ہوں، کسے تلاش کر رہا ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 8جهان مشت گل و دل حاصل اوست

یہ جہان خاک کی مٹھی ہے اور دل اس کا حاصل ہے ؛ اسی ایک قطرۂ خون کو سنبھالنا اس کی مشکل ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 9سحر می گفت بلبل باغبان را

بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا؛ اس مٹی میں سوائے غم کے پودے کے اور کچھ نہیں اگتا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 10جهان ما که نابود است بودش

ہمارا جہان جس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے؛ یہاں فائدے کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 11نوای عشق را ساز است آدم

نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں)، یہ (خالق حقیقی کا) راز وا کرتا ہے، مگر خود بھی راز ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 13دلا نارائی پروانه تا کی

کیا پوچھتا ہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں ؛ میں اپنے گرد گھومتا ہوں اس لیے زندہ ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 14تنی پیدا کن از مشت غباری

اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر؛ جو سنگین حصار سے زیادہ پختہ ہو۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 16به یزدان روز محشر برهمن گفت

قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کی؛ انسانی زندگی کی چمک شرارے کی مانندتھی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 17گذشتی تیز گام ای اختر صبح

صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے؛ شاید تو ہماری خواب (غفلت) سے بیزار ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 18تهی از های و هو میخانه بودی

یہ میخانہ (دنیا) (ہنگامۂ) ہائے و ہو سے خالی ہوتا؛ ہماری خاک (بھی) شرر سے خالی ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 20چه لذت یارب اندر هست و بود است

زندگی میں کیا لذت ہے، ہر ذرے کا دل شوق نمود سے جوش میں ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 21شنیدم در عدم پروانه میگفت

سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا؛ مجھے ایک لمحہ کے لیے زندگی کی چمک اور حرارت عطا کر دیں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 22مسلمانان مرا حرفی است در دل

مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے؛ جو روح جبریلؑ سے زیادہ روشن ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 24رهی در سینهٔ انجم گشائی

تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے، مگر اپنے آپ سے نا آشنا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 25سحر در شاخسار بوستانی

صبح کے وقت چمن کی شاخ پر ، مرغ نغمہ خواں نے کیا اچھی بات کی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 26ترا یک نکتهٔ سر بسته گویم

اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے، تو میں ایک ایسا نکتہ بیان کرتا ہوں جو سربستہ راز ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 27بهل افسانهٔ آن پا چراغی

چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ، اس کے جلنے کی بات کانوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 28ترا از خویشتن بیگانه سازد

میں وہ مسرت انگیز شراب نہیں رکھتا، جو تجھے اپنا آپ بھلا دے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 29زیان بینی ز سیر بوستانم

اگر تیری جان شہید جستجو نہیں ہے، تو تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 30برون از ورطهٔ بود و عدم شو

ہست و نیست کے چکر سے نکل ، اس جہان کم و بیش سے اوپر اٹھ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 31ز مرغان چمن نا آشنایم

میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں، آشیاں کی شاخ پر بیٹھا تنہا راگ آلاپ رہا ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 32جهان یارب چه خوش هنگامه دارد

خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے، آپ نے سب کو ایک ہی پیمانہ (الست) سے مست کر دیا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 33سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت

سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی، بحر و بر کے سوز و ساز میں حصّہ دار ہو۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 34سریر کیقباد ، اکلیل جم خاک

کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں؛ کلیسا ، بتخانہ اور حرم سب خاک سے بنے ہوئے ہیں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 35اگر در مشت خاک تو نهادند

اگر تیری خاک کے اندر خون برسانے والا دل صد پارہ رکھ دیا گیا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 36دمادم نقش های تازه ریزد

زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں، یہ ہر دم ایک نیا نقش پیدا کرتی ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 37چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد

جب مجھے ذوق نغمہ جلوت میں لاتا ہے، تو میں محفل میں قیامت برپا کر دیتا ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 38چه میپرسی میان سینه دل چیست

کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے، جب خرد نے سوز پیدا کیا تو وہ دل بن گئی ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 39خرد گفت او بچشم اندر نگنجد

خرد کہتی ہے کہ آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی، (اس سے) نگاہ شوق امید و بیم میں ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 40کنشت و مسجد و بتخانه و دیر

ہیکل ہو، کلیسا ہو، مسجد ہو یا بتخانہ، ان سب کو آپ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے جو صرف مٹھی بھر خاک ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 41نه پیوستم درین بستان سرا دل

میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا، یہاں کے بندھنوں سے آزاد رہا ہوں۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 42به خود باز آورد رند کهن را

میں نے جام میں جو جوان شراب ڈالی، وہ رند کہن کو دوبارہ ہوش میں لے آئی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 43سفالم را می او جام جم کرد

اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا، میرے قطرہ کے اندر سمندر پوشیدہ کر دیا ۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 44خرد زنجیری امروز و دوش است

خرد نے آج کل کا زنّار پہن رکھا ہے، وہ چشم و گوش کے بتوں کی پجاری ہے ( حواس ظاہر سے حاصل شدہ تاثرات کو سب کچھ سمجھتی ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 45خرد اندر سر هر کس نهادند

ہر ایک سر میں خرد موجود ہے، میرا بدن بھی دوسروں کی مانند خاک و خون سے بنا ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 46گدای جلوه رفتی بر سر طور

تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا، کیونکہ تیری جان اپنے آپ سے نا آشنا تھی۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 47بگو جبریل را از من پیامی

جبریل کو میری طرف سے پیغام دو، مجھے تم جیسا پیکر نوری تو عطا نہیں ہوا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 48همای علم تا افتد بدامت

اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جا ئے تو یقین کم کر، ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ ( بحث مباحثہ کر)۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 49خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت

خرد نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں ؛ (اور) میری نگاہ تشنۂ دیدار رہتی ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 50دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ

تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے، اس کے خوف سے تو ہلدی کی مانند زرد ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 51ز پیوند تن و جانم چه پرسی

تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے؛ میں کیا اور کیسے کے دام میں نہیں آتا۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 52مرا فرمود پیر نکته دانی

پیر نکتہ داں نے مجھے فرمایا ہے، کہ تیرا ہر آج گزشتہ کل کا پیغام ہے۔

اردوEnآڈیو

رباعی شمارهٔ 53ز رازی معنی قرآن چه پرسی؟

رازی سے قرآن کے معنی کیا پوچھتا ہے، ہمار ا ضمیر ہی اس کی سچائی پر گواہی دے رہا ہے۔ ( تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول قرآن ؛ گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف)۔

اردوEnآڈیو