رباعی شمارهٔ 4

عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے

Love diminishes the eagle's worth to mere trifles

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: هدعشق

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
عقابان را بهای کم نهد عشق
1
عقابان را بهای کم نهد عشق
تذروان را ببازان سر دهد عشق

عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے —

اور چھوٹے سے پرندے کو بازوں سے لڑا دیتا ہے۔

Love diminishes the eagle's worth to mere trifles —

And empowers the humble sparrow to challenge falcons.

2
نگه دارد دل ما خویشتن را
ولیکن از کمینش بر جهد عشق

ہمارے دل نے اپنی بہت حفاظت کی —

مگر عشق نے اپنی گھات سے (نکل کر) اس پر حملہ کر دیا۔

Our heart vigilantly guard itself with care —

Yet from its hidden ambush, Love strikes unaware.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور