رباعی شمارهٔ 2

باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے

Lit by an inner flame, my heart shines

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وناست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
دل من روشن از سوز درون است
1
دل من روشن از سوز درون است
جهان بین چشم من از اشک خون است

باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے —

خون کے آنسووں کے باعث میری آنکھ دنیا کے اسرار ورموز کو دیکھنے والی ہے.

Lit by an inner flame, my heart shines —

My eyes, weeping the tears of blood, discern the world's hidden truths and secrets.

2
ز رمز زندگی بیگانه تر باد
کسی کو عشق را گوید جنون است

زندگی کے راز سے اور بھی بے خبر رہے —

وہ شخص جو عشق کو پاگل پن کہتا ہے۔

May the person who dismisses love as folly —

Stay more deeply unaware of life’s profound secrets.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور