رباعی شمارهٔ 46

تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا

You went to Mount Sinai, a beggar for the Divine Light

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: میهست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
گدای جلوه رفتی بر سر طور
1
گدای جلوه رفتی بر سر طور
که جان تو ز خود نامحرمی هست

تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا —

کیونکہ تیری جان اپنے آپ سے نا آشنا تھی۔

You went to Mount Sinai, a beggar for the Divine Light —

For your soul was a stranger to its own sight.

2
قدم در جستجوی آدمی زن
خدا هم در تلاش آدمی هست

آدم (انسان کامل) کی تلاش میں نکل —

خدا بھی اسی کی تلاش میں ہے۔

Set forth in search of a (Perfect) Man —

For even God seeks him across the span.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور