رباعی شمارهٔ 33

سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی

Alexander said to Khizar aptly

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: رشو

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت
1
سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت
شریک سوز و ساز بحر و بر شو

سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی —

بحر و بر کے سوز و ساز میں حصّہ دار ہو۔

Alexander said to Khizar aptly —

‘Dive into the stormy sea of life and strive against the waves.

2
تو این جنگ از کنار عرصه بینی
بمیر اندر نبرد و زنده تر شو

تو اس جنگ کو کارزار حیات کے کنارے سے دیکھتا ہے —

کشمکش حیات میں جان دے کر زندہ تر ہو جا۔

Why watch them from the shore? —

Jump in and die and be the more alive.’

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور