رباعی شمارهٔ 105

آ، حسن فطرت پر نظر ڈال

Come, behold nature's grandeur with keen eyes

Toggle stanza 1
بیا با شاهد فطرت نظر باز
1
بیا با شاهد فطرت نظر باز
چرا در گوشهٔ خلوت گزینی

آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —

تو ایک گوشے میں کیوں خلوت گزیں بیٹھا ہے۔

Come, behold nature's grandeur with keen eyes —

Why linger alone, where no companion lies?

2
ترا حق داد چشم پاک بینی
که از نورش نگاهی آفرینی

اللہ تعالے نے تجھے چشم پاک بیں عطا فرمائی ہے —

تا کہ تو اللہ کے نور سے ذوق نگاہ پیدا کرے۔

God has bestowed upon you eyes, pristine —

To foster a taste for beauty seen through His light, serene.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور