بخش 20 - حقیقت

حقیقت

Reality

Toggle stanza 1
عقاب دوربین جوئینه را گفت
1

عقاب دوربین جوئینه را گفت

نگاهم آنچه می بیند سراب است

دور تک دیکھنے والا عقاب مرغ آبی سے بولا میری نظر جو کچھ دیکھتی ہے وہ سراب ہے

The eagle, who sees far, said to the swan, ‘My eyes see nothing but a bright mirage.’

2

جوابش داد آن مرغ حق اندیش

تو می بینی و من دانم که آب است

اس حق اندیش پرندے نے اسے جواب دیا کہ تو صرف دیکھتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ پانی ہے ۔

That truthful bird replied, ‘You see, and I know that you see, a watery expanse.’

3

صدای ماهی آمد از ته بحر

که چیزی هست و هم در پیچ و تاب است

دریا کی تہہ سے مچھلی کی آواز آئی کہ ایک چیز ہے اور وہ بھی پیچ و تاب میں ہے (مراد یہ ہے کہ کسی شے کی حقیقت آدمی کو اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک وہ خود وہ شے نہ بن جائے ۔ حق کی معرفت کے لیے حق بننا ضروری ہے ۔ یعنی جس نے خود کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا) ۔

From the sea’s depth arose a fish’s cry, ‘There is something in an unceasing dance.’

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور