بخش 21 - حدی
حدی وہ نغمہ ہے جو حجازی ساربان اپنی ناقہ کو سناتا ہے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ مسافت طے کر سکے
Song of the Hijazi Camel-Driver
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)
صنف: چند بندی
Toggle stanza 1ناقهٔ سیار من
ناقهٔ سیار من
آهوی تاتار من
درهم و دینار من
اندک و بسیار من
دولت بیدار من
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
چونکہ ناقہ جفاکش، سخت کوش، متحمل مزاج اور خدمت گزار ہوتی ہے ۔ اقبال انہی خوبیوں کو اپنی قوم کے افراد میں دیکھنا چاہتے تھے ۔ اس لیے ناقہ کے پردہ میں انھوں نے قوم سے یہ خطاب کیا ہے کہ میری اونٹنی میری تاتاری ہرنی (تاتار کی ہرنی کی طرح حسین اور تیز رفتار) میرا چاند ی سونا، میری کل پونجی (دولت) میری جاگتی ہوئی قسمت ۔ میری معاش اور روزی کا ذریعہ، ذرا اور تیز قدم اٹھا، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
My fleet-footed dromedary, my doe of the Tartar country, O my riches, O my money, O my entire patrimony, O my fortune, O my plenty! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 2دلکش و زیباستی
دلکش و زیباستی
شاهد رعناستی
روکش حوراستی
غیرت لیلاستی
دختر صحراستی
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
تو دلکش اور زیبا ہے (حسین ہے) تو حسین محبوب ہے ۔ تو حور کی ہمسر ہے (حوروں کے لیے باعث رشک ہے) تو لیلیٰ کو شرماتی ہے، تو صحرا کی بیٹی ہے ۔ ذرا اور تیز قدم اٹھا ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
O you bright and beautiful thing, you are lovely, you are charming, O you houri of my dreaming, you, the Layla of whom bards sing, you, the desert’s sprightly offspring! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 3در تپش آفتاب
در تپش آفتاب
غوطه زنی در سراب
هم به شب ماهتاب
تند روی چون شهاب
چشم تو نادیده خواب
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
تپتی ہوئی دھوپ میں تو سراب میں غوطہ لگاتی ہے (یعنی صحرا کو طے کرتی ہے) ۔ ایسے ہی چاندنی رات میں تو شباب کی طرح سن سے گزر جاتی ہے ۔ تیری آنکھ نے نیند نہیں دیکھی ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
When the sun of noontide blazes, you dive into clear mirages; and in moonlit nights’ bright reaches you flash as a comet flashes with an eye that never closes! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 4لکه ابر روان
لکه ابر روان
کشتی بی بادبان
مثل خضر راه دان
بر تو سبک هر گران
لخت دل ساربان
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
تو اڑتے ہوئے بادل کا ٹکڑا ہے تو بلابادبان کی کشتی ہے خضر کی طرح راستہ جاننے والی ہے ہر بوجھل تجھ پر ہلکا ساربان کے دل کا ٹکڑا ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
Like the clouds a constant roamer; sailless boat with sand for river; born path-knower like a Khizr, carrier who does not murmur, darling of the camel-driver! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 5سوز تو اندر زمام
سوز تو اندر زمام
ساز تو اندر خرام
بی خورش و تشنه کام
پا به سفر صبح و شام
خسته شوی از مقام
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
تیری تڑپ نکیل میں ، تیری مستی خرام میں (تجھ میں سوز و ساز دونوں کیفیتیں پائی جاتی ہیں ) بنا کھائے پییے دن رات سفر اور سفر تو سستانے سے تھک جاتی ہے ۔ ذرا اور تیز چل، ہماری منزل دور نہیں ۔
In your rein is stimulation; travel is your inspiration; with a very scanty ration, you are night and day in motion, never resting at one station! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 6شام تو اندر یمن
شام تو اندر یمن
صبح تو اندر قرن
ریگ درشت وطن
پای ترا یاسمن
ای چو غزال ختن
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
تیری شام یمن میں ، تیری صبح قرن میں ، وطن کی کھردری ریت، تیرے پاؤں کے لیے چنبیلی ہے ۔ اے ختن کے ہرن ایسی (تیری چال ختن کے ہرن جیسی ہے) ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
If at dusk you are in Yaman, then at dawn you are in Qaran. Rough sand of your native region is to your feet soft like jasmine. O you fleet gazelle of Khotan! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 7مه ز سفر پا کشید
مه ز سفر پا کشید
در پس تل آرمید
صبح ز مشرق دمید
جامهٔ شب بر درید
باد بیابان وزید
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
چاند نے سفر سے پاؤں کھینچ لیا (سفر ختم ہوا) وہ ٹیلوں کی اوٹ میں چھپ گیا ۔ مشرق سے صبح طلوع ہوئی ۔ رات کا لباس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ صحرا کی ہوا چلی، ایک ذرا اور تیز چل، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
Now the moon, her journey over, goes into her sand hill shelter, dawns a new day, so much brighter than the moon for all her splendour. Blows the desert wind of summer! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
Toggle stanza 8نغمهٔ من دلگشای
نغمهٔ من دلگشای
زیر و بمش جانفرای
قافله ها را درای
فتنه ربا فتنه زای
ای به حرم چهره سای
تیزترک گام زن منزل ما دور نیست
میرا گیت دل کھلانے والا ہے ۔ اس کا اتار چڑھاوَ جان میں جان ڈالنے والا ہے ۔ یہ قافلوں کی گھنٹی ہے ۔ ہنگاموں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہلچل پیا کرنے والا حرم کی خاک پر منہ رگڑنے والی (اے ناقہ! تو خوش قسمت ہے کہ مکہ مکرمہ کی طرف جا رہی ہے جس میں حرم کعبہ واقع ہے) ایک ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔
Lively is the song that I sing; lively, but full of foreboding – for the caravan a warning that the hour has struck for starting. Kisser of the Haram’s paving! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

