غزل شمارهٔ 27

صوفیوں میں سے ایک شخص کی طرف لکھی گئی

Ghazal No. 27

Toggle stanza 1
هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من
1

هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

جگر گرمی صحرا نه تو داری و نه من

لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔

Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.

2

من جوان ساقی و تو پیر کهن میکده ئی

بزم ما تشنه و صهبا نه تو داری و نه من

میں نیا ساقی ہوں اور تو ایک پرانے میخانے کا مسند نشین ہماری محفل پیاسی ہے اور شراب نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔

I am a young wine-server and you keeper of an old wine-shop. The company is thirsty, yet wine neither you have, nor have I.

3

دل و دین در گرو زهره وشان عجمی

آتش شوق سلیمی نه تو داری و نه من

دل اور دین عجمی حسینوں کے پاس رہن رکھا ہوا ہے (سب عجمی افکار کے دلدادہ بن چکے ہیں ) سلیمی کی چاہت کی آگ نہ تو رکھتا ہے اور نہ میں ۔

We have pledged our hearts and our faith to ‘Ajam’s lovely ones. The flame of love for Sulayma burns neither you nor me.

4

خزفی بود که از ساحل دریا چیدیم

دانهٔ گوهر یکتا نه تو داری و نه من

وہ تو ایک ٹھیکری تھی جو ہم ساحل سے چن لائے کوئی سچا موتی نہ تیرے پاس ہے اور نہ میرے پاس ۔

There was an empty shell that we picked up on the seashore. The precious pearl have neither you nor I.

5

دگر از یوسف گمگشته سخن نتوان گفت

تپش خون زلیخا نه تو داری و نه من

کھوئے گئے یوسف کی کوئی بات نہیں کی جا سکتی ۔ زلیخا کے خون کی تپش نہ تو رکھتا ہے اور نہ میں ۔

Do not talk any more about the Joseph we have lost. The warmth of a Zulaikha’s heart have neither you nor I.

6

به که با نور چراغ ته دامان سازیم

طاقت جلوهٔ سینا نه تو داری و نه من

اچھا ہے کہ دامن تلے کے دیے کی روشنی پر اکتفا کر لیں ۔ طور کی جھلک کی تاب نہ تو رکھتا ہے اور نہ میں ۔

It is best that we make do with a lamp that has our garment’s skirt for shade. The power to face Sinai’s lamp have neither you nor I.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور