بخش 15 - پیغام برگسن

Bergson’s Message

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: رمکن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
تا بر تو آشکار شود راز زندگی
1

تا بر تو آشکار شود راز زندگی

خود را جدا ز شعله مثالِ شرر مکن

تاکہ تجھ پر راز زندگی منکشف ہو، شرر کی مانند اپنے آپ کو شعلے سے جدا نہ کر۔

If thou wouldst read Life as an open book, be not a spark divided from the brand.

2

بهرِ نظاره جز نگهِ آشنا میار

در مرز و بومِ خود چو غریبان گذر مکن

نظار ے کے لیے صرف (حقیقت ) آشنا آنکھ لا، اپنے وطن کے اندر مسافروں کی طرح نہ گزر۔

Being the familiar eye, the friendly look, nor visit strange-like thy native land.

3

نقشی که بسته ئی همه اوهام باطل است

عقلی بهم رسان که ادب خوردهٔ دل است

تو نے جو نقوش بنائے ہیں وہ اوہام باطل ہیں، ایسی عقل پیدا کر جو دل سے تربیت یافتہ ہو۔

O thou by vain imaginings befooled, get thee a reason which the Heart hath schooled!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور