بخش 18 - حکما
Philosophers
لاک
Locke
Toggle stanza 1ساغرش را سحر از بادهٔ خورشید افروخت
ساغرش را سحر از بادهٔ خورشید افروخت
ورنه در محفل گل لاله تهی جام آمد
اس کے ساغر کو صبح نے سورج کی شراب سے چمکایا اور نہ پھولوں کی محفل میں گل لالہ خالی پیالہ آیا تھا ۔
It was dawn that lit up the tulip’s cup with a drink from the sun; for the tulip itself bore an empty cup when it joined the company of flowers.
کانت
Kant
Toggle stanza 2فطرتش ذوق می آینه فامی آورد
فطرتش ذوق می آینه فامی آورد
از شبستان ازل کوکب جامی آورد
اس کی فطرت آئینہ رنگ شراب کا ذوق لائی ازل کے شبستان سے جام کا ستارہ لائی ۔
By nature it had a taste for wine that is like crystal: It is from eternity’s sleeping-chamber that it brings its shining, star-like cup.
برگسن
Bergson
Toggle stanza 3نه مئی از ازل آورد نه جامی آورد
نه مئی از ازل آورد نه جامی آورد
لاله از داغ جگر سوز دوامی آورد
نہ کوئی شراب ازل سے لایا نہ کوئی پیالہ گل لالہ جگر کے داغ سے دائمی سوز لایا ۔
It did not bring either wine or a cup from eternity: The tulip gets its eternal passion from the scar in its own heart.
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

