بند 1
لاک:

لاک

Locke

Toggle stanza 1
ساغرش را سحر از بادهٔ خورشید افروخت
1

ساغرش را سحر از بادهٔ خورشید افروخت

ورنه در محفل گل لاله تهی جام آمد

اس کے ساغر کو صبح نے سورج کی شراب سے چمکایا اور نہ پھولوں کی محفل میں گل لالہ خالی پیالہ آیا تھا ۔

It was dawn that lit up the tulip’s cup with a drink from the sun; for the tulip itself bore an empty cup when it joined the company of flowers.

بند 2
کانت:

کانت

Kant

Toggle stanza 2
فطرتش ذوق می آینه فامی آورد
2

فطرتش ذوق می آینه فامی آورد

از شبستان ازل کوکب جامی آورد

اس کی فطرت آئینہ رنگ شراب کا ذوق لائی ازل کے شبستان سے جام کا ستارہ لائی ۔

By nature it had a taste for wine that is like crystal: It is from eternity’s sleeping-chamber that it brings its shining, star-like cup.

بند 3
برگسن:

برگسن

Bergson

Toggle stanza 3
نه مئی از ازل آورد نه جامی آورد
3

نه مئی از ازل آورد نه جامی آورد

لاله از داغ جگر سوز دوامی آورد

نہ کوئی شراب ازل سے لایا نہ کوئی پیالہ گل لالہ جگر کے داغ سے دائمی سوز لایا ۔

It did not bring either wine or a cup from eternity: The tulip gets its eternal passion from the scar in its own heart.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور