رباعی شمارهٔ 156
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے
You claim that I exist, and God does not preside
Toggle stanza 1تو می گوئی که من هستم خدا نیست
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے —
یہ دنیا لا انتہا ہے (یہ کبھی ختم نہیں ہو گی)۔
You claim that I exist, and God does not preside —
That this world of clay and water has no end in sight.
مگر مجھ پر ابھی تک یہ راز ہی نہیں کھلا —
کہ میری آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ ہے بھی یا نہیں!
Yet this mystery remains, a secret tightly wound —
Is what my eyes behold truly there, or mere illusion found?
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
نگارا، روز عیش و شادمانیست
هوای سبزه و صوت و اغانیست
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 161
طریق عشق جانا بی بلا نیست
زمانی بی بلا بودن روا نیست
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 104
اناالحق جز مقام کبریا نیست
سزای او چلیپا هست یا نیست
علامہ اقبالارمغان حجازحضور ملتبخش 3 - انا الحق
به شبنم غنچهٔ نورسته می گفت
نگاه ما چمن زادان رسا نیست
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 131
آڈیو
صداکار منتخب کریں

