رباعی شمارهٔ 153

خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی

From the soil of a grave, a whisper reached my ear

Toggle stanza 1
به گوشم آمد از خاک مزاری
1
به گوشم آمد از خاک مزاری
که در زیر زمین هم میتوان زیست

خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی —

کہ قبر میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔

From the soil of a grave, a whisper reached my ear —

That even in the tomb, one can persevere.

2
نفس دارد ولیکن جان ندارد
کسی کو بر مراد دیگران زیست

اس شخص کے اندر سانس ہے مگر جان نہيں —

جو دوسروں کی خواہش کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے

He breathes, yet lacks a soul's true fire —

Who lives his life by another's desire.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور