رباعی شمارهٔ 121

میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں

For thousands of years, with nature I did dwell

Toggle stanza 1
هزاران سال با فطرت نشستم
1
هزاران سال با فطرت نشستم
به او پیوستم و از خود گسستم

میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں —

میں نے اپنے ساتھ تعلق منقطع کیا اور اس کے ساتھ تعلق بنایا۔

For thousands of years, with nature I did dwell —

I severed ties with myself, in her embrace I fell.

2
ولیکن سر گذشتم این دو حرفست
تراشیدم، پرستیدم، شکستم

لیکن میری سرگزشت ان دو حرفوں میں آ جاتی ہے —

میں نے (تصوّرات کے) بت تراشے ، ان کی پوجا کی، پھر انہیں توڑ دیا۔

Yet my story boils down to these two lines —

I carved idols, worshipped, then broke their confines.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور