وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
Part One
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ اول (غزلیات) » ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم
میں اگرچہ سیاہ مٹی ہوں یعنی ایک خاکی جسم ہوں لیکن اس خاکی جسم کے اندر جو ایک چھوٹا سا دل ہے وہی میرا سازوسامان ہے ۔ یہ دل جب روشن ہو جاتا ہے تو سارا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اے خدا میں تیرے حسن کے نظارہ کے لیے ایک ستارے کی طرح آنکھیں کھلی رکھتا ہوں ۔
Though dust, and dark as dust, am I, I have a little heart, whereby with vision open as a star I gaze on beauty from afar.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 6
میں نے اپنی دردمند اور دل پذیر آواز یعنی شاعری کے ذریعے زندگی کی شراب کا مٹکا دنیا کے لیے کھول دیا ہے یعنی جذبہَ عشق ان لوگوں تک پہنچا دیا ہے جو اس سے آشنا نہیں تھے ۔
With a song of agony, with a sweet, soft melody, to a dying world athirst Lo: life’s flagon I have burst.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 7
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
The eyes and heart that I have take such delight in view – what is my fault if I should carve idols out of rough stone?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 10
مجھے مصروفِ طواف کعبہ دیکھ کر اگر تو یہ سمجھ رہا ہے کہ شاید طواف کعبہ ہی میرا اصل مقصد ہے تو تیرا یہ گمان غلط ہے ۔ میرا اصل مقصد تو خدا کا قرب حاصل کرنا ہے طواف کعبہ تو صرف ایک ذریعہ ہے ۔
Thinkest Thou that to the threshold I have made this pilgrimage? With the master of the household I have business to engage.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 16
اے میرے محبوب! تو نے اپنے رخ روشن سے میری رات کو صبح میں بدل دیا ہے ۔ چونکہ تو آفتابی چہرہ رکھتا ہے اور آفتاب کا کام دنیا کو روشنی عطا کرنا ہے ۔ اس لیے تو بھی میرے سامنے بے حجاب ہو کر آ ۔
Thou didst turn my night to dawning; O Thou sun of presence bright, like the sun Thou art in brightness, light unveiled, most worthy light!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 36
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
Tell me this: what is Thy share in this world of pain and care? Knowest Thou the spirit’s smart? Hast Thou an uneaseful heart?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 38
اے محبوب میرا کل سازوسامان تو مٹھی بھر خاک ہے ۔ اور میں اسے اس امید پر راہوں میں بکھیر رہا ہوں کہ ایک نہ ایک دن میں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دوں گا ۔ یعنی محبوب کی راہ میں فنا ہو کر زندگی کا اعلیٰ مقصد حاصل کر لوں گا ۔
A hand of dust is all I own; I scatter it upon the way, because I hope that on a day it shall ascend to heaven’s throne.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 42
(اے چاراگر) میرے بے چین دل کو جو تسلی تو نے دی ہے اس سے بھی اس کی بے چینی و بے قراری میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس لیے میں اپنے اس بے قرار دل کو پھر سے تیرے سپرد کر رہا ہوں ۔ تاکہ تو اس کی بے قراری کا کوئی موزوں علاج تلاش کرے) ۔
In Thy hands I now deliver once again my restless heart; it will never cease from labour for the ease.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 50
میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔
No lament, no sigh I uttered; naught avail laments and sighs; best unspoken, the heart’s sorrow; there be few to sympathize.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 54
میں نے معرفت کی نگاہ سے لالہ کے پھول کے اندر دیکھا تو مجھے وہ تمام پھول ذوق و شوق سے لبریز اور آہ و نالہ دکھائی دیا ۔
When the tulip’s heart I viewed with the gaze of certitude, all I saw was ecstasy, sighs, and sobbing bitterly.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 65
علامہ اقبال » زبور عجم » گلشن راز جدید » بخش 1 - به سواد دیدهٔ تو نظر آفریدهام من