صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »گلشن راز جدید
  4. »بخش 1 - به سواد دیدهٔ تو نظر آفریده‌ام من

بخش 1 - به سواد دیدهٔ تو نظر آفریده‌ام من

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: رافریدهاممن

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

به سواد دیدهٔ تو نظر آفریده‌ام من

به ضمیر تو جهانی دگر آفریده‌ام من

میں نے تیری آنکھوں میں نظر پیدا کی ہے، میں نے تیرے ضمیر کے اندر نیا جہان تخلیق کیا ہے۔

I have imparted insight to the pupil of your eye, and created a new world in your self;

2

همه خاوران به خوابی که نهان ز چشم انجم

به سرود زندگانی سحر آفریده‌ام من

شام مشرق خوابیدہ ہے، مگر میں نے ستاروں کی موجودگی ہی میں (یعنی وقت سے پہلے) اپنے سرود زندگانی (اشعار) سے سحر پیدا کر دی ہے۔ (مشرق سے عموما مراد مسلمان ہیں)۔

All the East is asleep; hidden from the eyes of the stars, I have created morning by the melody of life.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

ز جان خاور آن سوز کهن رفت

دمش واماند و جان او ز تن رفت

علامہ اقبال»زبور عجم»گلشن راز جدید»بخش 2 - گلشن راز جدید

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور