شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)
قافیہ: رافریدهاممن
صنف: غزل/قصیده/قطعه
به سواد دیدهٔ تو نظر آفریدهام من
به ضمیر تو جهانی دگر آفریدهام من
میں نے تیری آنکھوں میں نظر پیدا کی ہے، میں نے تیرے ضمیر کے اندر نیا جہان تخلیق کیا ہے۔
I have imparted insight to the pupil of your eye, and created a new world in your self;
همه خاوران به خوابی که نهان ز چشم انجم
به سرود زندگانی سحر آفریدهام من
شام مشرق خوابیدہ ہے، مگر میں نے ستاروں کی موجودگی ہی میں (یعنی وقت سے پہلے) اپنے سرود زندگانی (اشعار) سے سحر پیدا کر دی ہے۔ (مشرق سے عموما مراد مسلمان ہیں)۔
All the East is asleep; hidden from the eyes of the stars, I have created morning by the melody of life.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور