صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »گلشن راز جدید
  4. »بخش 2 - گلشن راز جدید

بخش 2 - گلشن راز جدید

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
تمهید
Toggle stanza 1
1

ز جان خاور آن سوز کهن رفت

دمش واماند و جان او ز تن رفت

اہل مشرق کے دلوں سے وہ پرانا سوز باقی نہیں رہا ۔ ان کی سانسیں تھک گئیں ان کے جسم سے جان نکل گئی ۔

The old ardour has disappeared from the life of the East; its breath wavered and soul left its body;

2

چو تصویری که بی تار نفس زیست

نمی داند که ذوق زندگی چیست

اس تصویر کی مانند جو نفس کے تار کے بغیر زندہ ہے اہلِ مشرق بھی زندگی کے ذوق سے بے خبر ہیں ۔ (اہل مشرق مسلمان زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہیں ) ۔

Like a picture without the chain of breath and does not know what the taste of life is.

3

دلش از مدعا بیگانه گردید

نی او از نوا بیگانه گردید

اہل مشرق کا دل ترقی کی آرزو سے بیگانہ ہو گیا ۔ ان کی زندگی کی بانسری گیتوں سے محروم ہو گئی ہے ۔

Its heart lost desire and craving, its flute ceased to produce notes.

4

به طرز دیگر از مقصود گفتم

جواب نامهٔ محمود گفتم

میں نے ایک اور انداز سے اپنا مقصد بیان کیا ہے ۔ میں نے محمود شبستری کے خط کا یعنی ان کی کتاب گلشن راز کا جدید انداز سے جواب تحریر کیا ہے ۔

I am expressing my ideas in a different form, and writing in reply to the book of Mahmud.

5

ز عهد شیخ تا این روزگاری

نزد مردی بجان ما شراری

شیخ محمود شبستری کے دور سے لے کر اس زمانے تک کسی مردِ کامل نے ہماری جان میں کوئی چنگاری سوزِ عشق نہیں پھینکی ۔

Since the time of the Shaikh, no man has given the sparks of fire to our life.

6

کفن در بر بخاکی آرمیدیم

ولی یک فتنهٔ محشر ندیدیم

پہلو میں کفن لیے ہم تو مٹی میں پڑے ہوئے سو رہے مردوں جیسی زندگی بسر کر تے رہے لیکن اس مدت کے دوران ہم نے تو قیامت کا کوئی ہنگامہ نہیں دیکھا (مسلمانوں کی زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی رونما نہیں ہوئی) ۔

We lay on the earth with shrouds around our bodies, and did not experience a single resurrection.

7

گذشت از پیش آن دانای تبریز

قیامتها که رست از کشت چنگیز

تبریز کے رہنے والے اس دانشمند شیخ محمود شبستری کے سامنے سے وہ تمام قیامتیں گزریں ہیں جو منگولیا سے اٹھنے والے طوفان چنگیز خان کی غارت گری سے پیدا ہوئیں ۔

That wise man of Tabriz witnessed before his eyes calamities that resulted from the invasion of Genghis.

8

نگاهم انقلابی دیگری دید

طلوع آفتابی دیگری دید

لیکن میری نگاہ نے ایک طرح کا انقلاب دیکھا ہے ایک اور ہی انداز کے سورج کا طلوع دیکھا ہے ۔ اہل مغرب کی غارت گر تہذیب چنگیز خان کی تباہی سے زیادہ خطرناک ہے ۔ میں نے مغربی افکار کی تاریکی دور کرنے کے لیے اپنی شاعری کا انتخاب کیا ہے ۔

I saw a revolution of another type: Appearance of a new sun.

9

گشودم از رخ معنی نقابی

بدست ذره دادم آفتابی

میں نے مغربی تہذیب کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ۔ لوگوں (اہل مشرق) کو حقیقتِ حال سے باخبر کر دیا ہے ۔ میں نے ذرہ کے ہاتھ میں سورج کا جام دے دیا(کمزوروں کو درسِ ہمت دیا) ۔

I removed veil from the face of meaning, and gave sun in the hands of a mote.

10

نپنداری که من بی باده مستم

مثال شاعران افسانه بستم

تو یہ نہ سمجھ کہ میں شرابِ حقیقت پئے بغیر ہی مستی میں ڈوبا ہوا ہوں ۔ جو کچھ کہتا ہوں اس پر عمل نہیں کرتا ۔ یہ بھی خیال نہ کر میں نے عام شاعروں کی طرح خیال پرستی پھیلائی ہے (بلکہ میں نے حقیقت نگاری کی ہے) ۔

Don’t you think I am intoxicated without wine, and spin tales likes poets.

11

نبینی خیر از آن مرد فرو دست

که بر من تهمت شعر و سخن بست

اس کمینے آدمی سے تو خیر کی امید نہ رکھ کی جس نے مجھ پر شعر و سخن کی تہمت لگائی ہے ( میں نے شاعری کو پیغامِ حقیقت پہنچانے کا ذریعہ بنایا ہے )

You will see no good from a low person, who accuses me of being a poet.

12

بکوی دلبران کاری ندارم

دل زاری غم یاری ندارم

میرا معشوقوں کی گلی سے کوئی کام نہیں ہے ۔ میں ان عامیانہ شاعروں کی طرح نحیف و نزار دل نہیں رکھتا اور نہ ہی مجھے کسی دوست کا غم ہے (میری شاعری عشق و محبت کے روایاتی خیالات سے پا ک ہے) ۔

I have nothing to do with the street of the beloved, and do not have a grief-stricken heart nor a longing for the beloved;

13

نه خاک من غبار رهگذاری

نه در خاکم دل بی اختیاری

نہ عام شاعروں کی طرح میری مٹی کسی کے راستہ کی غبار ہے ۔ میں کوچہَ محبوب کے چکر نہیں لگاتا اور نہ میری مٹی میں غمِ محبوب کے لیے تڑپنے والا دل ہے ۔

Neither is my earth the dust of a street, nor is within my clay a heart without self-control.

14

به جبریل امین همداستانم

رقیب و قاصد و دربان ندانم

میں عام شاعروں کی طرح زمینی سوچ نہیں رکھتا میں تو خدا کے مقرب فرشتے جبریل امین کا ہم زبان ہوں ۔ پاکیزہ شاعری کرتا ہوں ۔ اور عام شاعروں کی طرح رقیب، قاصد، دربان جیسی اصطلاحات نہیں جانتا ۔

My mission in life is in line with Gabriel the Truthful; I have neither a rival, nor a messenger, nor a porter.

15

مرا با فقر سامان کلیم است

فر شاهنشهی زیر گلیم است

میری شاعری میں فقر حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی عظمت کے ساز و سامان کے ساتھ موجود ہے ۔ اس شاعری کو پڑھنے کے بعد تجھے دنیا کی بادشاہی کی شان و شوکت اس بوریا نشین کے قدموں تلے نظر آئے گی ۔ اور تجھے خدا سے ہم کلام ہونے کے راز بھی بتائے گی ۔

Though a mendicant, I have the wherewithal of Moses: Kingly pomp under a beggar’s garment.

16

اگر خاکم به صحرائی نگنجم

اگر آبم به دریائی نگنجم

اگر میں مٹی ہوں تو وہ مٹی ہوں جو صحرا میں نہیں سما سکتی ۔ اگر میں پانی ہوں تو وہ پانی ہوں جو دریاؤں میں بھی نہیں سما سکتا ۔ ان دونوں سے میں الگ ہوں ۔

If I am earth, desert cannot contain me; if water, river cannot encompass me.

17

دل سنگ از زجاج من بلرزد

یم افکار من ساحل نورزد

میرے شیشے سے پتھر کا دل بھی خوفزدہ ہے اور میرے افکار کے سمندر کا کوئی کنارہ نہیں ۔

The heart of a stone trembles at my glass, the ocean of my thought is without a shore.

18

نهان تقدیر ها در پردهٔ من

قیامت ها بغل پروردهٔ من

میرے پردے میں مقدر پوشیدہ ہیں ، اور قیامتیں میری آغوش میں پرورش پاتی ہیں ۔

Behind my curtain lie concealed several destinies, and several resurrections take birth at my hand.

19

دمی در خویشتن خلوت گزیدم

جهانی لازوالی آفریدم

میں نے ایک لمحے کے لیے دنیا سے الگ ہو کر اپنے آپ پر غور کیا تو ایک لازوال جہان پیدا کر لیا (اب انہی افکار کو صفحہَ ہستی قرطاس پر لکھ رہا ہوں ) ۔

For a moment I retired unto myself, I created an immortal world.

20

«مرا زین شاعری خود عار ناید

که در صد قرن یک عطار ناید»

مجھے عامیانہ شاعری کے برعکس مقصدیت سے بھرپور شاعری کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی ۔ کہ خواجہ فرید الدین عطار جیسا عارف شاعر صدیوں بعد ہی پیدا ہوتا ہے ۔

‘I am not ashamed of such poetry, for in a hundred years an Attar might not appear.’

21

بجانم رزم مرگ و زندگانی است

نگاهم بر حیات جاودانی است

اب حالت یہ ہے کہ میری جان موت و حیات کی کشمکش جاری رہتی ہے اور میری نگاہ ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی پر جمی رہتی ہے ۔

A battle of life and death is being waged in my soul; my eye is riveted on immortal life.

22

ز جان خاک ترا بیگانه دیدم

به اندام تو جان خود دمیدم

میں نے تیری مٹی (خاکی بدن) کو جان سے بیگانہ دیکھا ۔ اس لیے کہ میں نے تیرے جسم میں اپنی شاعری کے ذریعے جان پیدا کر دی ہے ۔ زندگی کی صحیح حقیقتوں سے روشناس کرا دیا ہے) ۔

I saw your clay stranger to life, hence I breathed into your body of my own soul.

23

از آن ناری که دارم داغ داغم

شب خود را بیفروز از چراغم

اس آگ (عشق الہٰی ) سے جو میں دل میں رکھتا ہوں میں داغ داغ ہو چکا ہوں ۔ تو بھی اپنی رات میرے چراغ ِ عشق سے منور کر لے ۔

I am wholly affected by the fire that I possess: Illumine the darkness of your night by my lamp.

24

بخاک من دلی چون دانه کشتند

به لوح من خط دیگر نوشتند

(کارکنان قضا و قدر) نے میری مٹی میں دانہ کی طرح یہ دل بویا ہے ۔ اور میری تختی پر نئے انداز کا خط تحریر کیا (مجھے دوسروں سے الگ اور منفرد بنایا ہے ۔ )

Heart was sown into the soil of my body like a seed, a different destiny was written on my tablet:

25

مرا ذوق خودی چون انگبین است

چه گویم واردات من همین است

میرے لیے خودی کا کیف و سرور شہد کی لذت کی طرح ہے ۔ میں کیا کہوں کہ میری وارداتِ قلب ہی ایسی ہے ۔

To me the ideal of khudi is sweet as honey. What else can I do? My whole stock consists of this experience.

26

نخستین کیف او را آزمودم

دگر بر خاوران قسمت نمودم

اس خودی کے کیف کو پہلے میں نے خود آزمایا، پھر اہلِ مشرق کو بتایا کہ وہ بھی خودی آشنا ہو کر اپنی تقدیر بدل لیں ۔

First I tasted the fruit of this experience myself, then I decided to share it with the people of the East.

27

اگر این نامه را جبریل خواند

چو گرد آن نور ناب از خود فشاند

اگر یہ خط جبریل جیسا مقرب اور نورانی فرشتہ پڑھ لے تو وہ اپنے نورانی جسم کو چھوڑ کر جسم خاکی اختیار کر لے ۔ میری شاعری فرشتوں کو بھی عشقِ الہٰی سکھاتی ہے ۔

If Gabriel were to go through this book, he would cast aside the pure \[Divine\] Light as if it were dust;

28

بنالد از مقام و منزل خویش

به یزدان گوید از حال دل خویش

وہ جبریل اپنے نورانی مگر سوز و گداز کے بغیر مقام پر نالہ و فریاد کر رہا ہے اور خدا کو اپنے دل کا حال اس طرح بیان کر رہا ہے ۔

He would bewail about his \[low\] station, and relate to God the condition of his heart:

29

تجلی را چنان عریان نخواهم

نخواهم جز غم پنهان نخواهم

میں تیرے جلووں کو اس طرح بے پردہ دیکھنا نہیں چاہتا ۔ میں کچھ نہیں چاہتا سوائے اپنے اندر کے پوشیدہ غم کے ۔ (ہر وقت کے دیدار اور جلووں نے میرے دل سے سوز و گداز کی لذت نکال لی ہے ۔ عشق کی لذت سے آشنا کرنے کے لیے مجھے خاکی جسم عطا کر دے تاکہ میں بھی فراق کی ٹیسیں محسوس کر سکوں ) ۔

‘I no longer desire unveiled Epiphany; I desire nothing but hidden heart-sore.

30

گذشم از وصال جاودانی

که بینم لذت آه و فغانی

اے خدا! میں نے تیرے ہمیشہ کے وصال کو ترک کیا ۔ تاکہ میں تیرے فراق میں پیدا ہونے والی آہ و فغاں کی لذت حاصل کر لوں ۔

I am ready to forego eternal union, for now I realize what sweetness is in lamentation!

31

مرا ناز و نیاز آدمی ده

به جان من گداز آدمی ده

مجھے آدم کا ناز و نیاز عطا کر دے ۔ میری جان میں آدم کا گداز (کیفیت عشق) پیدا کر دے ۔ تا کہ میں بھی معشوق کے حضور عاجزی کا کیف و سرور پا سکوں ۔

Give me the pride and submissiveness of man, give unto my heart burning and consuming of man.’

بند 2
سؤال اول
Toggle stanza 2
32

نخست از فکر خویشم در تحیر

چه چیز است آنکه گویندش تفکر

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اپنی فکر سے حیرت زدہ ہوں اور وہ کیا چیز ہے جسے تفکر کہتے ہیں

First of all I am perplexed about my thought: What is that which is called ‘thought’?

33

کدامین فکر ما را شرط راه است

چرا گه طاعت و گاهی گناه است

ہمارے لیے کونسی فکر طے کرنے کے لیے شرطِ اول ہے ۔ یہ بھی بتائیں کہ یہ فکر کبھی طاعت (عبادت یا ثواب ) اور کبھی گناہ کیوں ہوتی ہے (کسی شے پر کسی خاص مقصد کے تحت غور کرنا فکر ہے اور اس فکر کے نتیجہ میں جو کیفیت ہاتھ آتی ہے وہ تفکر ہے) ۔

What sort of thought is the condition of my path? Why is it sometimes obedience, sometimes sin?

بند 3
جواب
Toggle stanza 3
34

درون سینهٔ آدم چه نور است

چه نور است این که غیب او حضور است

آدم کے سینے میں یہ کیسا نور ہے، یہ کیسا نور ہے کہ ہر پوشیدہ چیز بھی اس کی نظروں میں ظاہر ہو جاتی ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ سینہَ آدم کا یہ نور خودی کا نور ہے ۔ یہ نور اپنے اصل کے اعتبار سے انائے مطلق ہے ) جو غیب اور ظاہر دونوں عالموں کی خبر رکھتا ہے ۔ سینہَ آدم کے اندر خودی کا نور بھی تو اسی کا پرتو ہے ۔ اس لیے یہ بھی غیب و ظاہر کو جانتا ہے (مقام افسوس ہے کہ آدم نے اپنی خودی کو دنیاوی آلائشوں سے بے کار کر کے رکھ دیا ہے) ۔

What a light there is within the heart of man! A light that is manifest in spite of its invisibility.

35

من او را ثابت سیار دیدم

من او را نور دیدم نار دیدم

میں نے اسے حرکت کرتا ہوا اور ساکن دیکھا ہے ۔ میں نے اسے نور میں بھی دیکھا ہے اسے نار (عقل یا تدبیر کی صورت) میں بھی دیکھا ہے ۔

I saw it in the constancy of change; I saw it both as light and fire.

36

گهی نازش ز برهان و دلیل است

گهی نورش ز جان جبرئیل است

کبھی اس کی نار دلیل اور محبت ہے اور کبھی اس کا نور جبرئیل فرشتہ کی جان ہے ۔

Sometimes its fire is nourished by argumentation and reasoning, sometimes its light is derived from the breath of Gabriel;

37

چه نوری جان فروزی سینه تابی

نیرزد با شعاعش آفتابی

یہ کیسا نور ہے (یہ نور ایسا ہے کہ) آدمی کی جان کو روشن کر تا ہے اور سینے میں حرارت عشق پیدا کرتا ہے ۔ سورج اس کی ایک شعاع کی قیمت کے برابر نہیں ہے ۔

What a life-illuminating and heart-kindling light! The sun is nothing in face of a single ray of this light.

38

بخاک آلوده و پاک از مکان است

به بند روز و شب پاک از زمان است

یہ نورِ خودی مٹی سے آلودہ ہے لیکن اس کا مکان کوئی نہیں ۔ یہ نور ِ خودی دن اور رات کے بندھنوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ لیکن زمانے کی قید سے آزاد ہے ۔ (نور خودی انسانی جسم میں قید ہونے کے باوجود زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے) ۔

Conjoined with dust, it is above limitations of space; chained to the alternation of day and night, it is free from the bonds of time.

39

شمار روزگارش از نفس نیست

چنین جوینده و یابنده کس نیست

اس کی زندگی یا زمانہ کی گنتی اس کے سانسوں کے شمار پر نہیں ۔ اس قسم کا جوئندہ اور پائندہ اور کوئی نہیں ہے ۔

The calculation of its time is not through breath, there is none like it in seeking and discovering.

40

گهی وامانده و ساحل مقامش

گهی دریای بی پایان بجامش

کبھی وہ تھکا ہوا ہوتا ہے اور ساحل اس کا مقام ہے اورکبھی بیکراں سمندر اس کے پیالے میں ہوتا ہے ۔

Sometimes it feels exhausted and sits on the shore, sometimes a shore-less ocean is in its cup.

41

همین دریا همین چوب کلیم است

که از وی سینه دریا دو نیم است

یہی دریا ہے اور یہی (نورِ خودی) حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے ۔ وہ عصا جسے دریا کے پانی پر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مارا تھا تو دریا کا پانی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا ۔ اور درمیان میں گزرگاہ بن گئی تھی) ۔

It is both the river and the staff of Moses, on account of which the river is divided into two.

42

غزالی مرغزارش آسمانی

خورد آبی ز جوی کهکشانی

وہ ایک ایسا ہرن ہے کہ اس کی چراگاہ آسمان کی وسعت ہے ۔ وہ کہکشاں کی نہر سے پانی پیتا ہے (اس کا میدان عمل ستاروں سے بھی آگے ہے) ۔

It is a deer whose pasture is the sky, who drinks water from the stream of the Milky Way.

43

زمین و آسمان او را مقامی

میان کاروان تنها خرامی

زمین اور آسمان اس کے مقامات ہیں ۔ وہ کارواں کے درمیان ہونے کے باوجود کارواں سے الگ ہے (وہ ایک منفرد حیثیت کا مالک ہے) ۔

Earth and sky are its halting places; it walks alone amid a caravan.

44

ز احوالش جهان ظلمت و نور

صدای صور و مرگ و جنت و حور

اس کے احوال میں سے نور و ظلمات کا جہان، صور کی آواز ، موت، جنت اور حوریں ہیں ۔

Some of its states are: the world of darkness and light, the sound of the trumpet, death, paradise, and Houri.

45

ازو ابلیس و آدم را نمودی

ازو ابلیس و آدم را گشودی

ابلیس اور آدم کی نمود اسی سے ہے ۔ ابلیس و آدم اور کشود بھی اسی سے ہے (اس کائنات میں پائی جانے والی تمام اشیاء اچھی اور بری سب اسی کے نور کی وجہ سے اپنے اعمال میں مصروف ہیں ) ۔

It gives both to Iblis and Adam opportunity to develop, and provides them a chance of expansions.

46

نگه از جلوهٔ او ناشکیب است

تجلی های او یزدان فریب است

نگاہ اس کے جلوے کی تاب دیکھنے کے لیے ہر وقت بے قرار رہتی ہے ۔ اس کی تجلیاں خدا کی نگاہوں کو بھی پسند ہیں ۔

Eye is impatient at its sight; its charms even beguile God.

47

به چشمی خلوت خود را ببیند

به چشمی جلوت خود را ببیند

وہ نور ِ خودی ایک آنکھ سے اپنی خلوت کا مشاہدہ کرتا ہے اور دوسری آنکھ سے اپنی جلوت کا تماشا کرتا ہے ۔

48

اگر یک چشم بر بندد گناهی است

اگر با هر دو بیند شرط راهی است

اگر وہ ایک آنکھ بند کر لیتا ہے تو یہ گناہ ہے اور اگر وہ دونوں آنکھوں سے دیکھتا ہے تو یہ راہِ سلوک کی شرط ہے ۔

With one eye, it sees its own privacy, with the other eye; it looks at its apparent lustre.

49

ز جوی خویش بحری آفریند

گهر گردد به قعر خود نشیند

وہ اپنی ندی سے ایک سمندر پیدا کر لیتا ہے ۔ پھر اس سمندر میں موتی بن جاتا ہے ۔ اور موتی بن کر اپنی گہرائی میں بیٹھ جاتا ہے (خودی ترقی کرتے کرتے خدا کی صفات کی مظہر بن جاتی ہے) ۔

Out of its little stream, it produces an ocean; it becomes a pearl and then settles at its bottom.

50

همان دم صورت دیگر پذیرد

شود غواص و خود را باز گیرد

اس وقت وہ خودی ایک نئی صورت میں ڈھل جاتی ہے ۔ وہ غوطہ خور بن کر غوطہ لگاتی ہے اور خودی کو دوبارہ پا لیتی ہے ۔ (خودی بھی انا ہے لیکن مقید ہے، خدا بھی انا ہے لیکن انائے مطلق ہے ۔ جب انائے مطلق ، انائے مقید میں آتی ہے تو انائے مقید کو اپنی صفات سے جلوہ گر کر دیتی ہے اور یہاں صفاتِ خدا (مختلف مادی اشیاء کے ساتھ) تعین میں آ جاتی ہے ۔

Soon it takes a different form; becomes a diver and catches itself again.

51

درو هنگامه های بی خروش است

درو رنگ و صدا بی چشم و گوش است

اس نورِ خودی کے اندر بے شور ہنگامے ہیں ۔ اس کے اندر آنکھ اور کان کے بغیر رنگ اور آواز ہے ۔ انائے مطلق جب انائے مقید میں تعین کرتی ہے تو خدا کا ظہور ہوتا ہے اور اس سے کائنات میں رونق قائم ہوتی ہے ۔ لیکن اس تمام رونق میں انائے مطلق خاموش رہتی ہے ۔

In it there are noiseless commissions; it has colour and sound perceptible without eye and ear.

52

درون شیشهٔ او روزگار است

ولی بر ما بتدریج آشکار است

اس کے شیشے میں زمانہ ہے لیکن ہم پر درجہ بدرجہ ظاہر ہوتا ہے ۔ حیات خودی کے شیشے میں جلوہ گر ہو کر آہستہ آہستہ آشکار ہوتی ہے ۔

There is a world hidden in its glass, but it reveals itself to us piecemeal.

53

حیات از وی بر اندازد کمندی

شود صیاد هر پست و بلندی

زندگی اس (نورِ خودی) سے کمند پھینکتی ہے اور (اس طرح وہ) ہر پست و بلند شے کی شکاری بن جاتی ہے ۔ (زندگی کائنات کو خودی کی بدولت مسخر کرتی ہے) ۔

Life makes it into a lasso and throws it to catch everything low and high.

54

ازو خود را به بند خود در آرد

گلوی ماسوا را هم فشارد

زندگی اس خودی کے باعث اپنی ہی قید میں آ جاتی ہے اور اپنے سوا یا خدا کے سوا ہر چیز کا گلہ دبا دیتی ہے (ہر چیز پر غالب آ جاتی ہے) ۔

By its means it ensnares itself, and wrings also the neck of duality.

55

دو عالم می شود روزی شکارش

فتد اندر کمند تابدارش

اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ جب دونوں جہان اس کے شکار ہو جاتے ہیں اور اس کی چمکدار کمند کے پھندے میں آ جاتے ہیں (یہاں دونوں جہانوں سے مراد نفس اور آفاق کے جہان ہیں ) ۔

One day the two worlds fall a prey to it and are caught into its beautiful lasso.

56

اگر این هر دو عالم را بگیری

همه آفاق میرد ، تو نمیری

اگر تو ان دونوں جہانوں کو زیر کر لے گا تو ساری کائنات مر جائے گی ۔ تو نہیں مرے گا ۔

If you conquer both these worlds, you will become immortal even if everything else dies.

57

منه پا در بیابان طلب سست

نخستین گیر آن عالم که در تست

ان دونوں جہانوں کو زیر کرنے کی خواہش کے بیان میں سستی سے قدم نہ رکھ ۔ پہلے اس جہان پر قبضہ کر جو تیرے اپنے اندر ہے (اپنی پہچان کر) ۔

Do not set foot in the desert of search lazily; first, take hold of that world which lies within you.

58

اگر زیری ز خود گیری زبر شو

خدا خواهی بخود نزدیک تر شو

اگر تو کمزور اور بے زور ہے تو خود پر قابو پا کر (اپنی معرفت حاصل کر کے) طاقتور بن جا ۔ اور اگر تو خدا کا قرب چاہتا ہے تو پہلے اپنی پہچان کر (خودی کی معرفت خدا کی معرفت ہے) ۔

If you are low, become strong by conquering the self. If you wish to seek God, get nearer yourself.

59

به تسخیر خود افتادی اگر طاق

ترا آسان شود تسخیر آفاق

اگر تو اپنی ذات کی تسخیر کرنے میں کامل ہو جائے تو تیرے لیے آفاق کی فتح بھی آسان ہو جائے گی دوسرے بند کا خلاصہ سالک کے ضروری ہے نفس اور آفاق دونوں پر فکر کرے پہلے نفس پر پھر آفاق پر ۔ یہ اس کے لیے شرط راہ ہے ۔

If you become proficient in conquering self, conquering the world will become easy for you.

60

خنک روزی که گیری این جهان را

شکافی سینه نه آسمان را

وہ دن مبارک ہو گا جب تو اس جہان آفاقی کو تسخیر کرے گا اور تو نو آسمانوں کے سینہ کو چیر لگا دے گا (تو آسمانوں کی سرحدوں کو پار کر کے عرش و کرسی تک رسائی حاصل کر لے گا )نو آسمانوں میں سات آسمان کے علاوہ غالباً عرش و کرسی بھی شامل ہیں ) ۔

Happy is the day when you conquer this world, and pierce the bosom of the skies.

61

گذارد ماه پیش تو سجودی

برو پیچی کمند از موج دودی

وہ دن کتنا مبارک ہو گا جب چاند تیرے سامنے اپنی پیشانی جھکا دے گا اور تو اس پر دھوئیں کی کمند ڈال کر اسے آسانی سے تسخیر کرے گا ۔

The moon will prostrate before you, and you throw over it a lasso of waves of smoke.

62

درین دیر کهن آزاد باشی

بتان را بر مراد خود تراشی

مبارک ہو وہ دن جب تو اس پرانے جہان (قدیم افکار و خیالات) کے چنگل سے آزاد ہو گا اور نو بتوں (کائنات کے نظام) کو اپنی مرضی کے مطابق تراشے گا ۔

You will be free in this ancient world, able to fashion the idols to your purpose;

63

بکف بردن جهان چار سو را

مقام نور و صوت و رنگ و بو را

جب وہ مبارک دن آئے گا تو اس چار سمتوں والے جہان کو زیر قبضہ کر لینا ۔ وہ جہان جو نوا ، آواز، رنگ اور بو کا مقام ہے ۔ جہان کی ہر شے فانی ہے ۔

To hold in the grasp of your hand all the world of light and sound, of colour and smell;

64

فزونش کم کم او بیش کردن

دگرگون بر مراد خویش کردن

پھر اس جہان کے زیادہ کو کم اور اس کے کم کو زیادہ کرنا ۔ جہاں ضرورت پڑے ترمیم کر لینا اور اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لینا ۔

To change its quantitative aspect, to mould it according to your purpose;

65

به رنج و راحت او دل نبستن

طلسم نه سپهر او شکستن

اس جہان کے دکھ اور سکھ سے دل نہ لگا ۔ بلکہ اس نو آسمانوں کے جادو کو توڑ دے (انکی سرحدوں سے آگے نکل جا) ۔

Not to be captivated by its sorrows and delights to break the spell of its nine skies;

66

فرورفتن چو پیکان در ضمیرش

ندادن گندم خود با شعیرش

جس طرح نیزہ جسم میں چھید کر دیتا ہے اسی طرح اس جہان کے ضمیر میں بھی چھید کر دینا اور اپنی گندم (اچھے اعمال کو) اس کے جو جیسے کم قیمت مال کے بدلے میں نہ دے دینا ۔

To go down into its heart like the point of an arrow, not to exchange your wheat for its barley;

67

شکوه خسروی این است این است

همین ملک است کو توام بدین است

حقیقی بادشاہت عظمت و شان تو یہی ہے ، یہی ہے، یہی وہ ملک ہے جو دین کے ساتھ جڑواں ہے ۔ (ملکِ بقا کی بادشاہت ہی حقیقی ہے، ملک فنا کی بادشاہت فضول ہے) تیسرےبند کا خلاصہ جب آدمی کو اپنی معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو منزلِ تفکر پر پہنچ جاتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آفاق اس کے قدموں تلے آ جاتے ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں دنیا و دین کا بادشاہ بن جاتا ہے پہلے سوال کے جواب کا خلاصہ: پہلے بند میں فکر کو خودی کی حرکت، دوسرے بند میں شرطِ راہ اور تیسرے بند میں اس کے نتیجے کو تفکر کہا گیا ہے ۔

This is indeed the-true kingly glory; this is the State that is linked to religion.

بند 4
سؤال دوم
Toggle stanza 4
68

چه بحر است این که علمش ساحل آمد

ز قعر او چه گوهر حاصل آمد

یہ سمندر کس قسم کا ہے کہ جس کے ساحل علم میں کوئی حرکت نہیں ۔ اس سمندر کی گہرائی میں غوطہ زنی سے کونسا گوہرِ مقصود حاصل ہوتا ہے ۔

What is this ocean whose shore is knowledge? What is that pearl which is found in its depth?

بند 5
جواب
Toggle stanza 5
69

حیات پر نفس بحر روانی

شعور آگهی او را کرانی

جو خودی کی سانسوں سے حرکت میں ہے بہتا ہوا سمندر ہے ۔ اور شعور و آگہی اس کے کنارے ہیں ۔

Ever-moving Life is a flowing ocean, consciousness is its shore.

70

چه دریائی که ژرف و موج داراست

هزاران کوه و صحرا بر کنار است

یہ کیسا دریا ہے جس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور اٹھتی ہوئی بے قرار موجوں والا ہے ۔ اس کے کنارے پر ہزاروں صحرا اور پہاڑ ہیں ۔ (یہ خودی کا دریا ہے ۔ اس آدمی کی زندگی کا دریا جسے اپنی معرفت حاصل ہو گئی ہے ۔ اس نے جان لیا ہے کہ وہ انائے مقید میں ہونے کے باوجود انائے مطلق کی صلاحیتوں اور قوتوں کا مالک ہے )

What an ocean that is deep and surging a thousand mountains and deserts are on its bank.

71

مپرس از موجهای بیقرارش

که هر موجش برون جست از کنارش

اس دریائے خودی کی بے قرار موجوں کے بارے میں سوال مت کر ۔ کہ اس کی تو ہر موج کناروں سے اچھلی ہوئی ہے (کچھ نہ کچھ عمل کے لیے بے تاب رہتی ہے) ۔

Don’t talk about its surging waves, for each had overflowed its bank.

72

گذشت از بحر و صحرا را نمی داد

نگه را لذت کیف و کمی داد

خودی کے دریا کی یہ موج سمندر سے گزر گئی، اور اس نے صحرا کو اپنی نمی سے زندگی بخشی ۔ اس نے نگاہ کو کیف و کم (ہر قسم کے حالات و اسرار دیکھنے کی لذت عطا کی ۔

It left the ocean and imparted moisture to the desert; it gave to the eye the sense of quantity and quality.

73

هر آن چیزی که آید در حضورش

منور گردد از فیض شعورش

ہر وہ چیز جو اس کے حضور پیش ہوتی ہے وہ اس کے شعور کے فیض سے منور ہو جاتی ہے (خودی ہر شے کی قدر و قیمت مقرر کرتی ہے) ۔

Whatever thing comes into its presence gets illumined through the grace of its consciousness.

74

بخلوت مست و صحبت ناپذیر است

ولی هر شی ز نورش مستنیر است

وہ خلوت پسند ہے اور دوسروں کی صحبت پسند نہیں کرتی ۔ لیکن پھر بھی ہر شے اسی کے نور سے منور ہے ۔

It is satisfied with its privacy and is not inclined to association with others, yet all things are illumined by its light.

75

نخستین می نماید مستنیرش

کند آخر به آئینی اسیرش

پہلے یہ خودی اس چیز کو منور کرتی ہے اور بالاخر اسے قانون کے ایک دائرے میں قید کر دیتی ہے ۔

First it brightens it up, then it ensnares it in a mirror.

76

شعورش با جهان نزدیک تر کرد

جهان او را ز راز او خبر کرد

اس کے شعور نے اسے جہان کے زیادہ نزدیک کر دیا اور جہان نے اسے بتایا کہ وہ کائنات سے برتر ہے ۔

Its consciousness makes it familiar with the world, the world made it aware of its potentiality.

77

خرد بند نقاب از رخ گشودش

ولیکن نطق عریان تر نمودش

عقل نے اس کے چہرے سے پردہ ہٹایا ۔ لیکن اس کی گفتار نے اور بھی عریاں کر دیا ۔ خودی عقل بھی رکھتی ہے اور قوتِ گویائی بھی اور یہ قوت گویائی اس کی پوشیدہ قوتوں کی مظہر ہے ۔

Intellect removes veil from its face, but speech reveals it much better.

78

نگنجد اندرین دیر مکافات

جهان او را مقامی از مقامات

وہ اس جہان مکافات میں نہیں سماتی ۔ جہان تو اس کے مقامات میں سے ایک ہے (اس کی نظر تو کہکشاؤں سے بھی پرے ہے) ۔ پہلے بند کا خلاصہ انائے مطلق (خدا) اور انائے مقید (خودی) میں بحر اور موج کا رشتہ ہے ۔ جس طرح موج بحر کا ظہور ہے اسی طرح انائے مطلق ظہور کے لحاظ سے انائے مقید میں جلوہ گر ہے اور اس جلوہ گری کے کئی رنگ و روپ ہیں ۔

Yet it is not confined to this mundane world \- it is only one of its stages in the path of evolution.

79

برون از خویش می بینی جهانرا

در و دشت و یم و صحرا و کان را

تو جہان کو خود سے باہر دیکھتا ہے اور اس جہان میں موجود آبادی، بیابان، سمندر، صحرا اور کان یعنی کائنات کی ساری آشیاء کو خود سے باہر جانتا ہے (حالانکہ یہ تمام اشیائے جہا ن کا وجود تیری نگاہ کے باعث ہے ۔ )

You look upon the world as existing outside you: These mountains and deserts, oceans and mines;

80

جهان رنگ و بو گلدستهٔ ما

ز ما آزاد و هم وابستهٔ ما

یہ رنگ و بو کا جہان (دلکش مگر فانی جہان) ہمارا گلدستہ ہے ۔ یہ اگرچہ ہم سے آزاد ہے لیکن ہمارے ساتھ وابستہ ہے ۔

This world of colour and smell is our nosegay; it is independent and yet intimately related to us.

81

خودی او را بیک تار نگه بست

زمین و آسمان و مهر و مه بست

خودی نے اس جہان کو نگاہو ں کے ایک تار میں باندھ لیا ۔ (اور پھر اس جہان میں موجود ) زمین ، آسمان اور چاند کو اس میں باندھ لیا (ان تمام اشیائے جہان کا وجود خودی کے نظارہ کا مرہون منت ہے) ۔

The ego bound them all by its one glance: The earth and the sky, the moon and the sun.

82

دل ما را به او پوشیده راهی است

که هر موجود ممنون نگاهی است

ہمارے دل کا اس جہان کے ساتھ ایک پوشیدہ تعلق ہے، کیونکہ ہر موجود جو اس جہان میں ہے نگاہ احسان مند ہے ۔

Our heart has a secret gateway to it, for every existent depends for its existence upon our perception.

83

گر او را کس نبیند زار گردد

اگر بیند ، یم و کهسار گردد

اگر جہان یا اس کی اشیا کا کوئی نظارہ نہ کرے تو وہ عاجز اور بے قیمت ہو جائیں گے ۔ اور اگر دیکھے گا تو وہ سمندر اور پہاڑ کے علاوہ کچھ نہ ہوں گے ۔ بے حیثیت نظر آئیں گے ۔

If nobody sees, it becomes contemptible; if anybody sees, it becomes mountains and oceans.

84

جهان را فربهی از دیدن ما

نهالش رسته از بالیدن ما

اس جہان کا موٹاپا (چہل پہل) ہماری نظر کا کمال ہے اور اس کا پودا ہماری وجہ سے بڑا ہوا ہے ۔

The world has significance through our seeing it – its tree grows by our growth.

85

حدیث ناظر و منظور رازی است

دل هر ذره در عرض نیازی است

ناظر اور منظور دونوں کی کہانی ایک راز ہے ۔ ہر ذرے کا دل اپنی نیازمندی کا اظہار کر رہا ہے ۔ (دنیا کی ہر شے کسی ناظر دیکھنے والے کی نگاہوں کی محتاج ہے ۔ اگر دیکھنے والی نگاہ نہ ہو تو منظور موجود ہونے کے باوجود عدم ہو جائے ۔ اس لیے کائنات کا وجود انسان کی وجہ سے ہے ۔

The problem of subject and object is a mystery; the heart of every particle of matter is expressing its supplication:

86

تو ای شاهد مرا مشهود گردان

ز فیض یک نظر موجود گردان

ہر ذرہ یہ کہہ رہا ہے کہ اے شاہد (دیکھنے والے) تو مجھے مشہود بنا دے ۔ تو اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرے مشاہدہ میں حاضر ہوں ۔ تو مجھے اپنی ایک نظر کے فیض سے موجود کر دے ۔ کیونکہ میرا شہود تیری نظر کی شہادت کی بدولت ہے) ۔

O observer, make me your object, make me existent by the grace of your sight.

87

کمال ذات شی موجود بودن

برای شاهدی مشهود بودن

کسی شے کی ذات کا کمال اس کا موجود ہونا ہے ۔ کسی شاہد کے لیے اس کا مشہود ہونا ہے ۔

The perfection of the being of a thing lies in being present, in becoming an object for an observer;

88

زوالش در حضور ما نبودن

منور از شعور ما نبودن

ہمارے سامنے عقل کی رو سے ان کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان کا ہمارے شعور سے منور نہ ہونا ان کا عدم ہے (کسی شے کا موجود ہونا صرف ناظر کی دید اور شاہد کے مشاہدے پر مبنی ہے) ۔

Its defect, not to be before our eyes, not to be illumined by our awareness.

89

جهان غیر از تجلی های ما نیست

که بی ما جلوهٔ نور و صدا نیست

یہ جہان ہماری جلوہ گری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ ہمارے بغیر کائنات میں روشنی اور آواز کے جلوے بے کار ہیں ۔

The world is nothing but our manifestation, for without us there would be no world of light and sound;

90

تو هم از صحبتش یاری طلب کن

نگه را از خم و پیچش ادب کن

یہ کائنات جس کی موجودگی ہماری نظر کی مرہون منت ہے اور اپنے اندر نور اور صدا کے جلوے لیے ہوئے ہے اس سے کنارہ کشی اختیار نہ کر بلکہ اس کی صحبت سے دوستی طلب کر کے اس سے فائدہ حاصل کر اپنی نگاہ کائنات کے حالات پر رکھتے ہوئے اس کے پیچ و خم سے احترام کر ۔

You also should crave help by associating with it; discipline your eyes by its twists and turns.

91

«یقین میدان که شیران شکاری

درین ره خواستند از مور یاری»

اس بات پر یقین کر کہ شکاری شیروں نے راستے میں آنے والی چیونٹی کمزور سے کمزور مخلوق سے بھی مدد چاہی ہے ۔ دوسرے بند کا خلاصہ اس بند میں جہان کو شاہد و ناظر کی شہادت اور نظر کا مرہون منت کہا گیا ہے ۔ یہ بات بتائی گئی ہے کہ کائنات کی موجودگی ہمارے نفس مدرک پر منحصر ہے اگر وہ کائنات کی اشیا ء کا ادراک نہ کرے تو ان کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے ۔

Rest assured that master-huntsmen have sought help in this matter from insects.

92

بیاری های او از خود خبر گیر

تو جبریل امینی بال و پر گیر

اس کائنات سے دوستی کر کے (فوائد حاصل کر کے) اس سے اپنے آپ کی پہچان کے طریقے سیکھ لے ۔ تو اللہ کے مقرب فرشتے جبرئیل کی طرح (اللہ کی صفات) کا امانتدار ہے ۔ اس لیے تو اپنے بازو اور پر پیدا کر کیونکہ تیرا تعلق زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے ہے ۔

With its help, keep a watchful eye on yourself; you are like Gabriel the truthful; take wings.

93

به بسیاری گشا چشم خرد را

که دریابی تماشای احد را

اس کائنات میں جو لا تعداد اشیاء موجود ہیں ۔ ان کا مشاہدہ کر کے عقل کی آنکھیں کھول کر احد کا مظاہرہ کر ۔ کیونکہ وہ خدا کثرت کے پردے میں بھی عیاں ہے اور کائنات کا ہر ذرہ صفاتِ خداوندی کا ظہور ہے ۔ اس لیے یہ کہنا کہ کثرت میں وحدت پائی جاتی ہے فطرت کے عین مطابق ہے ۔

Open the eye of intellect on this world of plurality, so that you may enjoy the revelations of the One.

94

نصیبب خود ز بوی پیرهن گیر

به کنعان نکهت از مصر و یمن گیر

اپنا نصیب (لباسِ تصوف) کی خوشبو سے حاصل کر ۔ کنعان شہر میں بیٹھے بیٹھے ملکِ مصر اور یمن کی معطر ہواؤں سے فیض حاصل کر ۔ یہاں دو تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہے جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کو کنعان میں رہتے ہوئے شہر مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کی خبر ان کے کرتے کے باعث مل گئی تھی ۔ اور یمن میں حضرت اویس قرنی کو رسول اللہ ﷺ کے کرتے کی خوشبو پہنچ گئی تھی ۔ اسی طرح عارفِ کامل بھی کثرت کے پردے میں وحدت کی خوشبو پا لیتا ہے ۔

Take your share from the smell of the shirt, while sitting in Kan‘an, get fragrance from Egypt and Yemen.

95

خودی صیاد و نخچیرش مه و مهر

اسیر بند تدبیرش مه و مهر

خودی شکاری ہے اور سورج اور چاند اس کے شکار ہیں ۔ چاند اور سورج تیری تدبیر کے قیدی ہیں ۔ (تو خودی کے آئینے میں اپنی جھلک پائے گا ۔ اور کثرت کے پردے میں وحدت کا تماشا کر کے کائنات پر حکمرانی کرے گا) ۔

Ego is the hunter, the sun and the moon are its prey; they are chained to the strings of his intellectual efforts.

96

چو آتش خویش را اندر جهان زن

شبیخون بر مکان و لامکان زن

خدا کی معرفت حاصل کر کے خود کو جہان میں آگ کی مانند پھینک کر اپنے اندر موجود غیر اللہ کے خیالات و افکار کو بھسم کر دے ۔ خودی کی پہچان کے بعد جب تیرے اندر صفاتِ الہٰی پیدا ہو جائیں تو پھر مکان اور لا مکان پر چپکے سے حملہ کر کے دونوں پر قبضہ کر لے ۔ تیسرےبند کا خلاصہ اے انسان! تو کائنات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اس کے آئینوں میں جھانک کثرت کے پرواں میں اس خدا کی وحدت اور اپنی خودی میں خدا کی صفات کے جلوے دیکھ اور یہ حقیقت سمجھ لے کہ تیری حیثیت مادی نہیں ، نوری ہے ۔ اور اس نوری قوت سے زمان و مکان سے بھی آگے دنیاؤں کو تسخیر کر لے ۔

Throw yourself on this world like fire! Make an assault on the visible and the invisible worlds alike.

بند 6
سؤال سوم
Toggle stanza 6
97

وصال ممکن و واجب بهم چیست؟

حدیث قرب و بعد و بیش و کم چیست؟

ممکن اور واجب میں باہمی وصال کیا ہےنزدیک اور دور اور زیادہ اور کم کی بات کیا ہے (ذات الہٰی واجب ہے اور اس کی ذات کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ممکن ہے ۔ عارفوں کی نظر میں صرف بندہ ہی قرب الہٰی کا خواہشمند نہیں ہوتا بلکہ اللہ بھی اپنے بندے سے رابطے کا آرزومند ہوتا ہے ۔ اس لیے پہلے مصرع میں صرف وصال کی بات کے ساتھ بہم کا لفظ دو طرفہ وصال کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہی دوطرفہ وصال بعض اوقات اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ قربت ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اتنا کمزور کہ آپس میں دوری کا احساس ہوتا ہے ۔ کبھی یہ وصال کم ہو جاتا ہے کبھی زیادہ ۔ اس کا کیا مطلب ہے

What is the union of the contingent and the necessary? What are ‘near-and-far’, ‘more-and-less’?

بند 7
جواب
Toggle stanza 7
98

سه پهلو این جهان چون و چند است

خرد کیف و کم او را کمند است

یہ کتنا اور کیسا کا جہان تین پہلو ہے ۔ اس کے کیف و کم کے لیے عقل ایک کمند کی مانند ہے ۔ اس دنیا میں فائدہ اور نقصان کے بارے میں لوگ بلاوجہ ہی سوچتے ہیں ۔ اس جہانِ محسوس کے تین پہلو ہیں ۔ طول، عرض اور گہرائی ۔ عقل ایسے جہان کے بارے میں بخوبی سوچ سکتی ہے ۔

ہیں، خرد جہان کے بیش و کم معلوم کرنے والی ہے۔ (dimensions) اس کائنات کے تین البعاد The world of how and why has three dimension intellect controls its quantitative aspect.

99

جهان طوسی و اقلیدس است این

پی عقل زمین فرسا بس است این

یہ طوسی (نصیر الدین طوسی، چنگیز خان کے دربار میں وزیر، محقق،فلسفی، ماہر نجوم، ریاضی دان، اور ہیت و ہندسہ کا عالم) اور اقلیدس (قدیم زمانے کا ہیت دان، ماہر ہندسہ و ریاضی) کا جہان ہے ۔ یہ دونوں عقلی علوم میں مہارت رکھتے تھے ۔

This is the world of Tusi and Euclid: The fit object of earth-measuring intellect.

100

زمانش هم مکانش اعتباری است

زمین و آسمانش اعتباری است

اس جہان کے زما ن و مکان فرض ہیں ۔ اور اس کے زمین وآسمان بھی فرض ہیں ۔ (یہ جہان اور اس کی اشیاء حقیقی نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ اپنے موجود ہونے میں اللہ کے وجود کی محتاج ہیں ۔ از خود موجود نہیں ہیں ) ۔

Its time and space are relative, and so are its earth and sky.

101

کمان را زه کن و آماج دریاب

ز حرفم نکتهٔ معراج دریاب

کمان میں تیر رکھ اور اپنا نشانہ پہچان لے ۔ اور میری اس بات سے (معراجِ مصطفی ) کی باریک رمز سمجھ لے (اگر تم زمان و زبان کو ایک کمان کی طرح مسخر کر لو تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے درست نشانے پر تیر پہنچانے کا طریقہ دریافت کر لیا ۔ یعنی تم نے اپنی پوشیدہ قوتوں کو جان لیا ۔ اور اسی بات سے تم واقعہ معراج کی حقیقت پا سکو گے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح پلک جھپکنے میں زمان و مکان کا فاصلہ طے ہوتا ہے ۔ اگر تم یہ کیفیت پانا چاہتے ہو تو دنیاوی علوم سے آزاد ہو کر پا سکتے ہو)

Draw your bow and find the target, learn from me the secret of ascension.

102

مجو مطلق درین دیر مکافات

که مطلق نیست جز نورالسموات

تو مطلق کو جو کہ صرف اللہ تعالیٰ کا وجود ہے اس مکافات عمل کے جہان میں تلاش نہ کر، کیونکہ مطلق آسمانوں کے نور کے سوا کچھ نہیں ۔ (اس نور کو ظاہر جہان میں نہیں دیکھا جا سکتا ۔ وہ تو صرف باطنی جہان میں ہی نظر آئے گا) ۔

Do not seek the Absolute in this mundane world, for the Absolute is nothing but the Light of the Heavens.

103

حقیقت لازوال و لامکان است

مگو دیگر که عالم بیکران است

حقیقت کو نہ زوال ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ٹھکانہ ہے ۔ پھر یہ کہنا فضول ہے کہ جہاں بے کنار ہے ۔ باطنی زمانہ ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے ۔ اور اسے صرف عارفین ہی سمجھ سکتے ہیں ۔

104

کران او درون است و برون نیست

درونش پست ، بالا کم فزون نیست

زمانہ کی انتہا تیرے اندر ہے ۔ تیرے باہر نہیں ۔ اسے ماہ و سال کے پیمانے سے ماپنے کی کوشش نہ کر بلکہ اس کی حقیقت باطنی کو سمجھنے کی بات کر ۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ظاہر کی اونچ نیچ اور کم و بیش نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے ۔

Its limit is internal, not external; there are no distinctions of low and high, more or less, in its internal aspect.

105

درونش خالی از بالا و زیر است

ولی بیرون او وسعت پذیر است

اس کا اندر (زیر) اور باہر (اوپر) کے حصے خالی ہیں ۔ لیکن اس کا باہر وسعت پذیر ہے ۔ : ابد کی حقیقت کو پانے کے لیے ہماری عقل ناسازگار ہے ابد ایک اکائی ہے لیکن غیر منقسم ہے ۔ عقل کی پہنچ سوچ و بچار کی وجہ سے وہ اکائی ہزاروں میں بٹ گئی ہے (وقفوں اور ساعتوں میں ) تقسیم ہو چکی ہے ۔

Its internal aspect is devoid of high and low, but its external aspect is liable to extension.

106

ابد را عقل ما ناسازگار است

«یکی» از گیر و دار او هزار است

ہماری عقل ابد کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ، وحدت عقل کی پکڑ دھکڑ سے ہزاروں ٹکڑوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Infinity is not amenable to our intellect; ‘One’ in its hand becomes a thousand.

107

چو لنگ است او سکون را دوست دارد

نبیند مغز و دل بر پوست دارد

وہ عقل چونکہ لنگڑی ہے (حقیقت پانے کی صلاحیت سے بے بہرہ ہے) اس لیے وہ سکون کو دوست رکھتی ہے ۔ وہ (عقل) مغز کو (زمانے کے باطن کو) نہیں دیکھتی ۔ وہ اپنا دل اس کے پوست (ظاہری صورت ) پر جمائے ہوئے ہے ۔

As it is lame, it likes rest; it does not see the kernel; it therefore looks towards the shell.

108

حقیقت را چو ما صد پاره کردیم

تمیز ثابت و سیاره کردیم

حقیقت کے جو صرف اکائی ہے جب ہم نے سو ٹکڑے کر دیئے تو پھر ہم نے ساکن اور متحرک میں امتیاز پیدا کیا ۔ (اصل صورت حال یہ ہے کہ سب اشیا الگ الگ ہونے کے باوجود اپنے وجود ظہوری کے لحاظ سے ایک ہیں ) ۔

As we divided Reality into several spheres, we made a distinction of change and rest.

109

خرد در لامکان طرح مکان بست

چو زناری زمان را بر میان بست

عقل نے لامکان میں مکان کی بنیاد رکھی ۔ اس نے زمان کو برہمن کے زنار کی طرح کمر سے باندھ لیا (ورنہ سوائے لا الہ الا اللہ کے اور کچھ نہیں ) ۔

In non-spatial sphere intellect introduced spatial categories, like a belt it girdled time round its waist.

110

زمان را در ضمیر خود ندیدم

مه و سال و شب و روز آفریدم

میں نے زمانے کو اپنے ضمیر کی روشنی میں نہیں دیکھا ۔ اس وجہ سے میں نے اسے ماہ و سال اور شب و روز میں منقسم کر لیا ۔ (حالانکہ ازل سے ابد تک یہ ناقابل تقسیم ہے) ۔

We did not look for time within the depth of our hearts, and so we created months and years, nights and days.

111

مه و سالت نمی ارزد بیک جو

بحرف «کم لبثتم» غوطه زن شو

اس ظاہری زمانے کے ماہ و سال ایک جو کی قیمت کے برابر نہیں ہیں ۔ اگر تو اس حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہے تو کم لبثتم کے حرف میں غوطہ زنی کر (قرآن مجید اس آیت روز حشر خدا گنہگاروں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے ۔ وہ کہیں گے صرف ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ) اس آیت سے ظاہر ہے کہ زمانہ ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے اور ناقابل اعتبار ہے ۔

Your months and years are of no value: just ponder over the Quranic verse, ‘How long did you remain?’

112

بخود رس از سر هنگامه بر خیز

تو خود را در ضمیر خود فرو ریز

اپنے آپ کی پہچان کر اور ہنگامہ کے بالیں سے اٹھ کر (دنیا کی رنگینیوں میں گم ہونے کی بجائے) اپنے اندر گم ہو کر اپنی معرفت حاصل کر ۔ اور اپنے ضمیر میں ڈوب کر زندگی کی حقیقت کو پا لے) ۔ پہلے بند کا خلاصہ جہان کا وجود حقیقی نہیں اعتباری ہے ۔ اس لیے اس کے وہمی وجود سے دھوکہ نہیں کھانا چاہے اور وجود حقیقی کی تلاش کے لیے اپنے آپ میں گم ہونا ضروری ہے ۔

Reach within yourself and retire from this noisy world, throw yourself into the inner recesses of your heart.

113

تن و جان را دو تا گفتن کلام است

تن و جان را دو تا دیدن حرام است

تن و جان کو دو کہنا (تمیز کرنا) درست نہیں اور تن و جان کو دو کہنا حرام ہے (تن و جان دونوں تخلیق ربی ہیں ) اور ایک ہی وجود مطلق کے دو مظہر ہیں ۔ اس لیے دونوں کو الگ الگ کہنا درست نہیں ) ۔

To talk of body and soul as two separate entities is wrong; to see them as two is sinful.

114

بجان پوشیده رمز کائنات است

بدن خالی ز احوال حیات است

جان (روح) کے اندر کائنات کی رمز (پہچان) چھپی ہوئی ہے ۔ اور بدن، زندگی کے احوال میں ایک حال ہے (زندگی کو اپنے اظہار کے لیے بدن کی ضرورت ہے ۔ بدن کے بغیر جان کا اظہار ممکن نہیں ) ۔

The whole secret of the universe lies in the soul, body is one of its modes of expression.

115

عروس معنی از صورت حنا بست

نمود خویش را پیرایه ها بست

معنی (جان و روح) کی دلہن نے صورت کی مہندی رچائی ۔ اس نے اپنے اظہار کے لیے مختلف اقسام کے لباس زیب تن کئے ۔ (اگر روح دلہن ہے تو بدن اس کے لیے آرائش کی طرح ہے ۔ بدن کے بغیر جان اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر سکتی) ۔

The bride of Reality adorned itself by the henna of form; it assumed different shapes for its manifestation.

116

حقیقت روی خود را پرده باف است

که او را لذتی در انکشاف است

حقیقت اپنے چہرے کے لیے خود ہی پردہ بنتی ہے ۔ کیونکہ اسے اپنے راز کے اظہار میں سرور آتا ہے ۔ (یہی وجہ ہے کہ روح جسم میں یا جان بدن میں پوشیدہ رہ کر اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا پسند کرتی ہے) ۔ دوسرے بند کا خلاصہ چونکہ ہر شے میں صفات الہٰیہ کا ظہور ہے ۔ اس لیے جان و بدن میں دوئی نہیں ۔ دونوں ایک ہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ۔

Reality weaves veils for its face, for it finds delight in display.

117

بدن را تا فرنگ از جان جدا دید

نگاهش ملک و دین را هم دو تا دید

یورپ نے یہی غلطی کی کہ اس نے جان کو بدن سے الگ سمجھا ۔ اس کی نگاہ نے ملک (سیاست) اور دین کو الگ الگ کر دیا ۔

Since the West viewed body and soul as separate, it also regarded State and Religion as two.

118

کلیسا سبحهٔ پطرس شمارد

که او با حاکمی کاری ندارد

گرجا (حضرت عیسیٰ کے حواری پطرس کے افکار و خیالات کی ) مالا جپتا ہے ۔ کیونکہ اسے حکمرانی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یعنی اہل یورپ نے مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر رکھا ہے ۔ جس کے باعث ان کا نظام حیات درہم بر ہم ہے ۔

The churchman only tells his beads, for he has no work of the State to perform.

119

بکار حاکمی مکر و فنی بین

تن بیجان و جان بی تنی بین

کاروبار حکمرانی میں (اہلِ یورپ) کے مکر و فن کا جائزہ لے ۔ ان کے بے جان تن اور بے تن جان کو دیکھ (مذہب کو حکومت سے الگ کر دینے سے ان کا معاشرہ مادہ پرست اور جسم بے روح ہو چکے ہیں ) ۔

See deceit and artifice in statecraft: It is a body without a soul, or a soul without a body.

120

خرد را با دل خود همسفر کن

یکی بر ملت ترکان نظر کن

عقل کو اپنے دل کا ہمسفر بنا اور ایک بار ترکوں کی قوم کے حالات کا جائزہ لے کہ وہ کس طرح یورپ کے مکر و فریب میں آ گئے اور مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر کے نقصان اٹھا رہے ہیں ) ۔

Make intellect a companion of your heart; behold, for instance, the Turkish nation.

121

به تقلید فرنگ از خود رمیدند

میان ملک و دین ربطی ندیدند

اس طرح وہ یعنی ترک فرنگی کی چالوں سے مار کھا گئے اور ان کی تقلید میں اپنے مذہب سے دور ہو گئے ۔ انھوں نے ملک اور دین کو الگ الگ کر کے گھاٹے کا سودا کیا ۔ تیسرے بند کا خلاصہ مادہ اور روح یا بدن اور جان میں دوئی نہیں ہے ۔ ان میں دوئی سمجھنا بہت خطرناک ہے ۔

By imitation of the West, the Turks lost their individuality; they did not see any link between State and Religion.

122

«یکی» را آنچنان صد پاره دیدیم

عدد بهر شمارش آفریدیم

وحدت (اکائی) کو ہم نے اس طرح سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا کہ ہم نے ان کے شمار کے لیے اعداد بنائے ۔

We looked at the One as compound of so many parts that we created numerals to count it.

123

کهن دیری که بینی مشت خاکست

دمی از سر گذشت ذات پاکست

یہ پرانا جہان جسے تو دیکھ رہا ہے مٹی کی ایک مٹھی کے برابر ہے (بے حقیقت ہے ) اور وہ مٹی (کائنات) ذات باری تعالیٰ (وجود مطلق) کے سامنے صرف ایک لمحہ کی مدت رکھتی ہے ۔

Do you think that this ancient world is a handful of earth? It is a fleeting moment of God’s activity.

124

حکیمان مرده را صورت نگارند

ید موسی دم عیسی ندارند

حکما تو صرف مردوں کے نقش و نگار بنا سکتے ہیں ان کے پاس نہ تو ید موسیٰ ہے اور نہ دمِ عیسیٰ (ان حکما کے پاس مردوں کو از نو زندگی دینے کا کوئی نسخہ نہیں ۔ جو لوگ دین و سیاست اور تن و جان الگ کر بیٹھے ہیں اور حیوان بن گئے ہیں انہیں پھر سے انسان بنانا عہدِ حاضر کے حکماء کے بس میں نہیں ۔

The scientists tend to adorn a dead body; they neither possess the Hand of Moses nor the Breath of Jesus.

125

درین حکمت دلم چیزی ندید است

برای حکمت دیگر تپید است

میرے دل نے اس (فرنگی) دانش میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں دیکھی ۔ اس لیے کہ وہ کسی اور چیز کے لیے تڑپ رہا ہے (یہ حکمت تو صرف عارفوں کے پاس ہے ۔ جو دوئی نہیں رکھتے ۔ یکتائی کے قائل ہیں اور ہر شے میں اللہ کے نور کے جلوے دیکھتے ہیں ) ۔

I have seen nothing of value in this type of science; I have been craving for a wisdom of another sort.

126

من این گویم جهان در انقلابست

درونش زنده و در پیچ و تابست

میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ یہ جہان انقلاب سے گزر رہا ہے ۔ اس کا اندر زندہ ہے اور بے قرار ہے (جہان میں ہمہ وقت تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہے ) ۔

I believe that the world is undergoing a revolution, its inside is alive and in convulsions.

127

ز اعداد و شمار خویش بگذر

یکی در خود نظر کن پیش بگذر

اپنے اعداد و شمار (عقل، منطق اور طبیعات کی پیچیدگیوں سے ) نکل کر کائنات پر غور کر ۔ اور اپنی حقیقت کی پہچان کر ۔

Pass beyond your numerals, look for a while within your self and leave.

128

در آن عالم که جزو از کل فزون است

قیاس رازی و طوسی جنون است

اس جہا ن میں جزو کل سے بڑھ کر ہے ۔ امام فخر الدین رازی اور نصیر الدین طوسی جیسے مفکرین کے عقلی اور فکری قیاسات ، اندازے پاگل پن ہیں (خودی کی معرفت راز اور طوسی کے علم سے نہیں ہوتی ۔ اسے تو کوئی ابن عربی اور رومی ہی سمجھا سکتا ہے) ۔

In a universe where a part is greater than the whole, the calculations of Razi and Tusi are irrelevant.

129

زمانی با ارسطو آشنا باش

دمی با ساز بیکن هم نوا باش

اگر ضرورت پڑے تو یونان کے مشہور فلسفی ارسطو کے خیالات و افکار کا علم حاصل کر اور پھر کسی وقت فرانسس بیکن کے ساز کے ساتھ ہمنوائی کر ان کی فلاسفی کا مطالعہ کر لیکن ان کا اثر قبول نہ کر ) ۔

For a while familiarize yourself with Aristotle, for another while sit in the company of Bacon.

130

و لیکن از مقامشان گذر کن

مشو گم اندرین منزل سفر کن

لیکن ان کے افکار سے صرفِ نظر کر کے آگے بڑھ جا ۔ اس منزل میں گم نہ ہو ۔ اس سے آگے سفر اختیار کر (جہاں تجھے فائدہ نظر آئے ان سے استفادہ کر اور آگے بڑھ جا ۔

But then you must pass beyond their stand, don’t get lost in this stage, journey on.

131

به آن عقلی که داند بیش و کم را

شناسد اندرون کان و یم را

اس عقل سے جو اس دنیا کے نفع و نقصان سے باخبر ہے کام لے ۔ وہ عقل جو سمندر اور کا ن کے اندر جو کچھ موجود ہے اسے جانتی ہے ۔

With the aid of that intellect that deals with quantities probe the depths of mines and oceans;

132

جهان چند و چون زیر نگین کن

بگردون ماه و پروین را کمین کن

اور اس عقل سے اس فائد اور نقصان کے جہان کو اپنے قابو میں کر لے اور آسمان پر چاند اور پروین کو ساکن کر دے ۔ انہیں تسخیر کر لے ۔

Master the world of how and why; catch the moon and Pleiades from the sky.

133

و لیکن حکمت دیگر بیاموز

رهان خود را از این مکر شب و روز

لیکن حکمت کوئی اور سیکھ (اپنی خودی کی پہچان کر) اور خود کو رات اور دن کے چکر سے نکال، کیونکہ تیری پرواز تو لامکان سے بھی پرے ہے ۔

But then learn wisdom of another sort; free yourself from the snare of night and day.

134

مقام تو برون از روزگار است

طلب کن آن یمین کو بی یسار است

تیرا مقام زمانے کی حدوں سے پرے ہے ۔ اس دائیں کو طلب کر جس کا بایاں نہیں ۔ تیرا مقام وہ ہے جہاں جہتیں نہیں ہیں کیونکہ تو ان سے آزاد ہے ۔ (تو وجود مطلق کا عکس ہے اس لیے کائنات میں گم ہونے کی بجائے کائنات کو اپنے وجود میں گم کر دے ) ۔ چوتھے بند کا خلاصہ اس بند میں عقل کی بے بسی کا اظہار ہے ۔ مسلم اقوام کو خصوصاً اپنی معرفت کی شناخت کی تلقین کی گئی ہے ۔ اور اہلِ یورپ کے علم و فن کے نقاءص اور چالیں بتا کر ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے ۔

Your real place is beyond this mundane world, aspire for a right that is without a left.

بند 8
سؤال چهارم
Toggle stanza 8
135

قدیم و محدث از هم چون جدا شد

که این عالم شد آن دیگر خدا شد

یہ کیا ہوا کہ قدیم (خدا) اور محدث (غیر خدا) ایک دوسرے سے الگ ہو گئے کہ ان میں سے ایک تو جہان کہلایا اور دوسرا خدا ہو گیا ۔

How did the eternal and temporal separate that one became the world, and the other God?

136

اگر معروف و عارف ذات پاکست

چه سودا در سر این مشت خاکست

اگر عارف اور معروف وہی ذاتِ پاک ہی ہے تو پھر اس مشتِ خاک (آدمی) کے سر میں یہ کیا جنون سمایا ہوا ہے کہ خدا سے وصال کا طلب گار ہے ۔

بند 9
جواب
Toggle stanza 9
137

خودی را زندگی ایجاد غیر است

فراق عارف و معروف خیر است

خودی کی زندگی کا راز اسی میں ہے کہ وہ اپنے غیر کو تخلیق کرے ۔ کیونکہ خدا کی خودی نے بھی خود کو مشہور کرنے کے لیے اپنا غیر (انسان) پیدا کیا ۔ اس لیے عارف اور معروف میں یہ جو تفریق نظر آتی ہے اچھی بات ہے ۔ (عارف و معروف ایک اکائی سے دو ہونے کے سبب ایک دوسرے کے طالب ہو گئے ۔ چونکہ خودی کی زندگی کا راز غیر کی تخلیق کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس عارف و معروف کا فرق اچھی بات ہے (یہی بات انائے مقید اور انائے مطلق پر صادق آتی ہے) ۔

The life of the ego is to bring non-ego into existence, the separation of the knower and known is good.

138

قدیم و محدث ما از شمار است

شمار ما طلسم روزگار است

ہمارے قدیم اور محدث گنتی کی بنیاد پر ہیں ۔ (قدیم کو ہم اپنے وجود میں اول شمار کرتے ہیں اور محدث کو دوم ۔ حالانکہ قدیم نے ہی محدث کو وجود دیا) اس لیے قدیم اور محدث میں فرق کے باوجود بھی وہ واحد ہیں ۔ ہماری گنتی تو زمانے کے جادو کی طرح ہے ۔ جس طرح جادو فریب ہے ۔ اسی طرح ہماری گنتی بھی فریب نظر ہے ۔

Our ideas of eternal and temporal are due to our way of reckoning; our reckoning is the result of the spell of mathematical time.

139

دمادم دوش و فردا می شماریم

به هست و بود و باشد کار داریم

ہم تو ہر دم گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کا شمار کرتے رہتے ہیں ۔ ہم تو ماضی حال اور مستقبل کے جھمیلوں میں پڑے رہتے ہیں اور قدیم و محدث کو زمانے کے شمار کے لحاظ سے اول اور دوم قرار دیتے ہیں ) ۔

We constantly talk of yesterday and tomorrow, we deal with ‘is’, ‘was’, and ‘might be’.

140

ازو خود را بریدن فطرت ماست

تپیدن نارسیدن فطرت ماست

خود کو اس سے الگ کرنا ہماری فطرت میں شامل ہے ۔ کیونکہ اس کے بغیر ہمارا اپنا وجود کہاں ہوتااب جبکہ ہم اس سے الگ ہو گئے ہیں تو اس کے حصول کی تڑپ ہمیں بے قرار رکھتی ہے ۔ یہ تڑپ اور اصل تک نہ پہنچنا ہی ہماری فطرت ہے (اس سے ہماری ہستی قائم ہے) ۔

To sever ourselves from Him is our nature, and also to be restless and not to reach the goal.

141

نه ما را در فراق او عیاری

نه او را بی وصال ما قراری

اب اصل صورتِ حال یہ ہے کہ نہ اس کے ہجر میں ہمارا کوئی مقام و مرتبہ ہے اور نہ اسے ہمارے وصال کے بغیر چین ہے ۔ (اسے اپنی صفات کی جلوہ گری کے لیے ہمارے وجود کی ضرورت ہے ۔ اور ہمیں اپنے وجود کی بقا کے لیے اس کی ضرورت ہے ۔ یہ وصال دونوں کے لیے ضروری ہے) ۔

Neither do we get worth in separation from Him, nor does He feel peace without union with us;

142

نه او بی ما نه ، بی او چه حال است

فراق ما فراق اندر وصال است

نہ وہ ہمارے بغیر اور نہ ہم اس کے بغیر کوئی چیز ہیں ۔ آخر یہ معاملہ کیا ہے ہمارا فراق وصال کے اندر فراق ہے (ہم ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں نہیں بھی ) اپنے مرتبہ کے لحاظ سے وہ خدا ہے اور ہم بندے ۔ دونوں جدا جدا ہیں ۔ لیکن صفات کی جلوہ گری کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں ۔ ورنہ خدا اور بندے میں فرق واضح ہے ۔

Neither He without us, nor we without Him! How strange! Our separation is separation ‘in’ union.

143

جدائی خاک را بخشد نگاهی

دهد سرمایه کوهی بکاهی

جدائی مٹی میں نگاہ (معرفت آشنائی) پیدا کرتی ہے ۔ ایک تنکے کو پہاڑ کا سرمایہ عطا کرتی ہے (انائے مطلق کو اپنی جلوہ گری کے لیے اپنے غیر کی ضرورت تھی ۔ ایک ایسا آئینہ جس میں وہ اپنے حسن کا تماشا کر سکے) ۔

Separation gives to this dust (i.e. man) an insight, it gives the weight of a mountain to a straw.

144

جدائی عشق را آئینه دار است

جدائی عاشقان را سازگار است

جدائی عشق کا آئینہ ہے ۔ ایسا آئینہ جس میں اس کا عکس پایا جاتا ہے ۔ جدائی عاشقوں کے لیے سازگار ہے ۔ (خدا معشوق اور غیر خدا جو کچھ بھی ہے وہ عاشق ہے ۔ عاشق اور معشوق دو الگ الگ وجود رکھنے کے باوجود انہی کے اصول کے مطابق ایک ہیں ۔ عاشق میں معشوق ہی کی جلوہ گری ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معشوق کے حسن کا اپنا جلوہ ہے اور عاشق کا جلوہ معشوق کی اداؤں کے سبب ہے) ۔

Separation is a token of love; it agrees with the nature of lovers.

145

اگر ما زنده ایم از دردمندی است

وگر پاینده ایم از دردمندی است

اگر ہم زندہ ہیں تو دردمندی کے باعث زندہ ہیں اگر ہم پائندہ ہیں تو بھی دردمندی کی وجہ سے ہیں ۔

If we are alive, it is due to this affliction (of separation), and if we are immortal, it is due to it.

146

من و او چیست اسرار الهی است

من و او بر دوام ما گواهی است

من اور او کیا ہیں ۔ یہ اللہ کے بھید ہیں ۔ من اور او ( میں اور وہ)ہماری ہمیشہ کی زندگی کی گواہی دے رہے ہیں (یہ اللہ کے اسرار ہیں انہیں اللہ والے ہی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ان مقامات سے گزرے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے یہ باتیں عقل و فکر کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں ۔

What is ‘I’ and ‘He’? It is a divine mystery! ‘I’ and ‘He’ are a witness to our immortality.

147

بخلوت هم بجلوت نور ذات است

میان انجمن بودن حیات است

خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی اسی ذات کا نور ہے ۔ زندگی انجمن میں ہونے کا نام ہے (اور انجمن ضرورت عشق ہے ۔ عشق حسن کا خریدار ہو گا تبھی اس کی قیمت لگے گی ۔ انائے مطلق (خدا) نے اسی لیے انائے مقید (اپنا غیر) پیدا کیا ہے ۔

The light of the Essence is everywhere, hidden and apparent; to live in company is real life.

148

محبت دیده ور بی انجمن نیست

محبت خود نگر بی انجمن نیست

محبت انجمن کے بغیر محوِ نظارہ نہیں ہوتی ۔ اور محبت انجمن کے بغیر اپنا تماشا کرنے والی بھی نہیں ۔

Love does not acquire insight without company, and without company, it does not become self-conscious.

149

به بزم ما تجلی هاست بنگر

جهان ناپید و او پیداست بنگر

ہماری انجمن میں (حسنِ معشوق کی) جلوہ گری ہے ۔ اس کا نظارہ کر ۔ جہان ناپید ہے لیکن وہ موجود ہے ۔ ذرا غور سے دیکھ تو سہی (اس سارے جہان کا وجود حسنِ ازل کے جلووَں کے باعث ہے) ۔

In our assembly, there are divine manifestations, behold! The world is non-existent and He is existent, behold.

150

در و دیوار و شهر و کاخ و کو نیست

که اینجا هیچکس جز ما و او نیست

جہان کے درودیوار ، آبادیاں ، شہر محل اور گلیاں (جہان کی جملہ اشیاء) بے حقیقت ہیں ۔ ان کا وجود حسنِ ازل کی تجلیات کی بدولت ہے ۔ اس جگہ ہمارے اور اس کے سوا کوئی نہیں ۔ (ما اور او خودی اور خدا ایک ہی ذات کے دو رخ ہیں ۔ جب وجود کو انائے مطلق کے رنگ میں دیکھا جائے تو وہ خدا ہے اور جب انائے مقید میں دیکھا جائے تو وہ خودی ہے) ۔

Doors and walls, cities, towns and streets are not there, for here there is nothing existent except we and He.

151

گهی خود را ز ما بیگانه سازد

گهی ما را چو سازی می نوازد

او جو ہے وہ کبھی خود کو ما سے بیگانہ بنا لیتا ہے اور کبھی ما کو ساز کی طرح بجاتا ہے ۔ (خدا کبھی ہم سے بیگانوں جیسا سلوک کرتا ہے اور کبھی اپنوں کی طرح پیش آتا ہے) ۔

Sometimes He makes Himself a stranger to us; sometimes He plays upon us as upon a musical instrument.

152

گهی از سنگ تصویرش تراشیم

گهی نادیده بر وی سجده پاشیم

کبھی ہم پتھر سے اس کی تصویر بنا لیتے یں اور کبھی اسے دیکھے بغیر ہی اس پر سجدے نچھاور کرنا شروع کر دیتے ہیں (یہ سب حیلے اس کی قربت کے حصول کے لیے ہیں ) ۔

Sometimes we fashion His idol out of stone, sometimes we prostrate before Him without having seen Him.

153

گهی هر پردهٔ فطرت دریدیم

جمال یار بیباکانه دیدیم

اس کے دیدار کے لیے کبھی ہم نے فطرت کا ہر پردہ چاک کیا ، قانون کی خلاف ورزی کی اور حسنِ یار کا بیباکانہ نظارہ کیا ۔

Sometimes we tear every veil of Nature, and boldly see His beautiful face.

154

چه سودا در سر این مشت خاکست

ازین سودا درونش تابناکست

اس مٹی کی مٹھی کے سر میں یہ کیا جنون ہے ، دیدار کا کہ اس جنون سے اس کا باطن تابناک ہے ۔

What fancy has this handful of dust? It is due to this fancy that his inner self is illumined.

155

چه خوش سودا که نالد از فراقش

و لیکن هم ببالد از فراقش

یہ کیسا خوب سودا ہے کہ جو اس کے ہجر و فراق میں آہ و فریاد کر رہا ہے اوراس کے ہجر سے ارتقائی منازل بھی طے کر رہا ہے ۔ نہایت الہٰی تک پہنچ رہا ہے ۔

What a nice fancy that he bewails in separation and yet he grows and develops through it.

156

فراق او چنان صاحب نظر کرد

که شام خویش را بر خود سحر کرد

اس حسنِ مطلق کے فراق نے ایسا صاحب نظر کیا کہ اس نے اپنی شام کو خود پر سحر کر لیا (حسنِ مطلق کی جب اشیائے کائنات میں جلوہ فرمائی ہوئی ۔ خود سے الگ ہوا تو اس نے اپنے حسن کی قدرو قیمت سمجھنے والا تخلیق کر لیا ۔ جو صاحب نظر بن کر اس کے حسن کا نظارہ کر رہا ہے ) ۔

This separation developed in him such a spiritual insight, that he turned his dusk into a dawn.

157

خودی را دردمندامتحان ساخت

غم دیرینه را عیش جوان ساخت

اس حسن مطلق نے خودی کو فراق کے امتحان میں ڈال دیا ۔ اس نے پرانے زخم کو تروتازہ کر کے عیش بنا دیا ۔

He made the ego subject to affliction: Thus turned the ancient grief into an ever-living joy.

158

گهر ها سلک سلک از چشم تر برد

ز نخل ماتمی شیرین ثمر برد

وہ بھیگی ہوئی آنکھوں سے گہر ہائے اشک کے بہت سے ہار لے گیا ۔ اس نے ماتمی درخت سے میٹھا پھل پا لیا ۔

He got strings of pearls from the tears of his eyes from the tree of bewailing he got sweet fruit.

159

خودی را تنگ در آغوش کردن

فنا را با بقا هم دوش کردن

خودی کو بڑے اچھے طریقے سے اپنے پہلو میں جگہ دینے کا مطلب فنا کو بقا کے برابر کرنا ہے (انائے مطلق جب تمام ضروریات کے ساتھ انائے مقید میں جگہ بنا لیتی ہے تو مقید میں مطلق کی صفات شامل ہو جاتی ہیں اس اسے مقام بقا حاصل ہو جاتا ہے ۔ خلاصہ قدیم اور حادث میں دوئی کہیں نہیں ہے ۔ حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق تعین کے لحاظ سے فرق پایا جاتا ہے ۔ کیونکہ ہر عادت میں قدیم ہی کی جلوہ گری ہوتی ہے ۔ خدا نے اپنے جمال کے مشاہدے کے لیے اپنا یہ غیر یعنی کائنات پیدا کی ۔ اس لیے خود کا عرفان خدا کی پہچان ہے ۔

To press the ego tightly to the bosom is to turn death into everlasting life.

160

محبت در گره بستن مقامات

محبت در گذشتن از نهایات

محبت کسے کہتے ہیں محبت مقاماتِ (زمان و مکان) کو گرہ میں ایک جگہ باندھنے کا نام ہے ۔ محبت کا کیا مطلب ہے محبت نہایات کی آخری منازل سے گزر کر دیدارِ یار تک پہنچنے کا نام ہے ۔

What is Love? It is to tie all the different stages in a knot. What is Love? It is to pass beyond all goals.

161

محبت ذوق انجامی ندارد

طلوع صبح او شامی ندارد

محبت انجام سے بے خبر ہوتی ہے ۔ اس کی صبح کی کوئی شام نہیں ہوتی ( محبت کی کوئی منزل اس کا انجام نہیں وہ محبوب کی قربت میں رہ کر بھی بے چین و بے قرار رہتی ہے ۔ )

Love does not know of any termination, its dawn has no dusk.

162

براهش چون خرد پیچ و خمی هست

جهانی در فروغ یکدمی هست

اس محبت کے راستے فرد کی طرح بہت پیچیدہ اور کٹھن ہیں محبت کے راستے جتنے بھی دشوار ہوں وہ گھبراتی نہیں جبکہ خرد راستوں کی تکالیف سے گھبرا کر حوصلہ ہار دیتی ہے ۔ اس محبت کے ایک لمحے کی تجلی میں ایک جہان پوشیدہ ہوتا ہے ۔

There are no bends in its way as in that of intellect, in its lustre of a moment, there is a world.

163

هزاران عالم افتد در ره ما

بپایان کی رسد جولانگه ما

ہمارے راہِ محبت میں ہزاروں جہان آتے ہیں ۔ ہماری جدوجہد یا سفر کا میدان جس کی کوئی حد نہیں کیسے ختم ہو گا ۔

Thousands of worlds lie along our path, how can our endeavours reach their finale?

164

مسافر جاودان زی جاودان میر

جهانی را که پیش آید فراگیر

اے راہِ محبت کے مسافر! تو ہمیشہ زندہ رہ اور ہمیشہ مر ۔ اور تیرے راستے میں جو جہان بھی آئے اسے تسخیر کرے ۔ (ہمیشہ زندہ رہنے اور ہمیشہ مرنے میں حیران کن تضاد ہے ۔ اہل تصوف کی نظر میں خود کو صفات خداوندی کا مظہر بنا کر ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جاتی ہے اور ہمیشہ کا مرنا خود کو اللہ میں فنا کر دینا ہے ۔ )

O traveler I live for ever and die for ever, take hold of the world that comes before you.

165

به بحرش گم شدن انجام ما نیست

اگر او را تو در گیری فنا نیست

اس کے سمندر میں گم ہو جانا ہمارا انجام نہیں ہے ۔ قطرے کو سمندر میں گم کر دینا ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہے ۔ اس سے تو قطرے کا وجود ختم ہو جائے گا ۔ ہاں اگر تو سمندر کو خود میں لے لے تو یہ فنا نہیں بقا ہے ۔ خودی کا کمال یہ ہے کہ وہ خود بھی قائم رہتی ہے اور سمندرکو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے ۔

It is not the goal of our journey to merge ourselves in His Ocean. If you catch hold of Him, it is not fana (extinction).

166

خودی اندر خودی گنجد محال است

خودی را عین خود بودن کمال است

خودی خودی میں سما جائے یہ مشکل ہے ۔ خودی کا کمال اپنا عین ہونے یعنی اپنے ظہور میں ہے) ۔ دوسرے بند کا خلاصہ انائے مقید جو کہ اصل میں انائے مطلق ہی کا پرتو ہے اپنے اصل کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ اور وصالِ یار کی منزل پا لیتی ہے ۔ لیکن یہ وصال اس طرح کا ہے کہ وہ اپنے اصل میں گم نہیں ہوتی بلکہ سمندر میں موج کی طرح الگ بھی رہتی ہے اور شامل بھی ہوتی ہے ۔

It is impossible for an ego to be absorbed in another ego, for the ego to be itself is its perfection.

بند 10
سؤال پنجم
Toggle stanza 10
167

که من باشم مرا از من خبر کن

چه معنی دارد «اندر خود سفر کن»

میں کون ہوں مجھے من کے ذریعے بتا کہ من کیا ہے اپنے اندر سفر کر کے کیا معنی ہیں

What am I? Tell me what ‘I’ means. What is the meaning of ‘travel into yourself’?

بند 11
جواب
Toggle stanza 11
168

خودی تعویذ حفظ کائنات است

نخستین پرتو ذاتش حیات است

خدا کی خودی اس کائنات کی حفاظت کا تعویذ ہے ۔ اور اس کی ذات کا پہلا عکس زندگی ہے ۔ خدا پہلی دفعہ تعین اول پر جلوہ فرما ہوا ۔ تاکہ اپنی ذات کا ظہور کر سکے اور اس نے اپنے ظہور کے لیے نورِ محمد ﷺ کو اپنا آئینہ بنایا ۔

Ego is the amulet for the protection of the universe. The first ray of its essence is Life.

169

حیات از خواب خوش بیدار گردد

درونش چون یکی بسیار گردد

زندگی جب پرسکون خواب سے بیدار ہوئی تو اس کے اندر کی اکائی کثرت میں بدل گئی ۔

Life awakens from its sweet dream, its inside, which is one, becomes many.

170

نه او را بی نمود ما گشودی

نه ما را بی گشود او نمودی

اب نہ اس کا ہماری نمود کے بغیر کشود ہو سکتا ہے اور نہ اس کی کشود کے بغیر ہماری نمود ہو سکتی ہے (انائے مطلق اور انائے مقید دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں ) لیکن وہ خدا کسی کا محتاج نہیں ۔

Neither it develops without our expansion, nor do we expand without its development.

171

ضمیرش بحر ناپیدا کناری

دل هر قطره موج بیقراری

اس کا ضمیر ایک بحرِ بیکراں ہے ۔ اس سمندر کے ہر قطرہ کا دل ایک بے قرار موج کی مانند ہے ۔ قطرہ (انائے مقید ) بحر (انائے مطلق) سے الگ نہیں ہے ۔ کیونکہ ہر قطرے کا تعلق سمندر سے ہے اور ہر قطرے میں سمندر کی صفات بھی پائی جاتی ہیں ۔

Its inner core is a shoreless sea; the heart of every drop is a tumultuous wave.

172

سر و برگ شکیبائی ندارد

بجز افراد پیدائی ندارد

یہ (انائے مطلق) صبر و قرار کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔ ہر وقت ظہور کے لیے بیتاب رہتی ہے ۔ اور یہ اقرار کے بغیر ظاہر بھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ اکائی سے کثرت میں آ کر مختلف اشیاء میں جلوہ گر ہو جاتی ہے ۔ اس کو عارفین کثرت میں وحدت کہتے ہیں ۔

It has no inclination to rest; its manifestation is nothing but individuals.

173

حیات آتش خودیها چون شررها

چو انجم ثابت و اندر سفر ها

زندگی آگ ہے اور مختلف اشیاء کی خودی ہیں اور وہ شراروں چنگاریوں کی مانند ہیں ۔ زندگی ستاروں کی طرح ساکن ہے لیکن پھر بھی متحرک ہے ۔ جس طرح شرارے آگ سے الگ نہیں ہوتے اسی طرح صفات بھی ذات سے الگ نہیں ہو سکتی ۔

Life is fire and egos are like its flames; like stars they are (both) stationary and moving.

174

ز خود نا رفته بیرون غیر بین است

میان انجمن خلوت نشین است

زندگی اپنے مقام پر ٹھہر کر دوسروں کو دیکھ رہی ہے ۔ انجمن میں ہوتے ہوئے وہ خلوت نشین ہے ۔ اگرچہ وہ جملہ اشیاء سے موجود ہے لیکن جملہ اشیاء سے الگ بھی ہے ۔

Without going outside, it looks towards others; though in company, is yet in privacy.

175

یکی بنگر بخود پیچیدن او

ز خاک پی سپر بالیدن او

ایک دفعہ دیکھ کہ خود سے کس طرح لپٹی ہے ۔ اور وہ کس طرح پاؤں میں مسلی ہوئی مٹی سے باہر آئی (زندگی ہر وقت اپنی نمود کے لیے تیار رہتی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی اپنے جلووں کا اظہار کر دیتی ہے ۔ اسے چیز سے غرض نہیں ہوتی اسے تو اپنے اظہار سے غرض ہوتی ہے ۔

Just see its self-meditation; it develops out of the trodden earth.

176

نهان از دیده ها در های و هوئی

دمادم جستجوی رنگ و بوئی

زندگی اگرچہ ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے لیکن اس کا شور اور ہنگامہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ زندگی کو قرار نہیں ۔ یہ ہر لمحہ اپنے اظہار کے لیے رنگ و بو کی تلاش میں رہتی ہے ۔

Hidden from the eyes, it is in tumult, it is constantly in search of adornment.

177

ز سوز اندرون در جست و خیز است

به آئینی که با خود در ستیز است

اپنے اندر سوز کی وجہ سے یہ تلاش و جستجو اور عمل میں مصروف رہتی ہے ۔ اس انداز سے جیسے کہ وہ خود بھی مصروف جنگ رہتی ہے ۔ یعنی اپنی نمود کی تگ و دو میں مصروف رہتی ہے ۔

It is in perpetual activity through its internal ardour, as if it is at war with itself.

178

جهان را از ستیز او نظامی

کف خاک از ستیز آئینه فامی

اس دنیا کا نظام اسی جنگ کا نتیجہ ہے اور یہ مشت خاک (آدم) اس کی اس جنگ کے باعث آئینہ فام ہو جاتا ہے (آدم اسی تگ و دو کے باعث نور ہو جاتا ہے)

The world gets order through this strife of the ego! A handful of dust becomes translucent through strife.

179

نریزد جز خودی از پرتو او

نخیزد جز گهر اندر زو او

اس آئینے کے عکس سے نور اور خودی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کے دریا سے موتی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ (انائے مطلق پہلے زندگی میں ظہور کرتی ہے اور پھر س زندگی کے ذریعے جملہ اشیاء میں ظاہر ہوتی ہے) ۔

From its ray, nothing comes into being save egos, from its sea, nothing appears save pearls.

180

خودی را پیکر خاکی حجاب است

طلوع او مثال آفتاب است

خودی (آدم خاکی) کے جسم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے ۔ اگر اس جسم خاکی کے پردہ کو کسی طرح ہٹا دیا جائے تو خودی سورج کی مانند جلوہ گر ہو گی ۔ ہر طرف اس آفتاب کی روشنی ہے ۔

The earthly garb is a veil for khudi; its appearance is like the rising of the sun.

181

درون سینهٔ ما خاور او

فروغ خاک ما از جوهر او

ہمارے سینے میں اس کا سورج روشن ہے ۔ ہماری مٹی میں تابناکی اسی جوہر کی وجہ سے ہے ۔

In the innermost heart of ours is its sun, our dust is illumined through its potency.

182

تو میگوئی مرا از «من» خبر کن

چه معنی دارد «اندر خود سفرکن»؟

تو مجھ سے یہ کہتا ہے کہ مجھے من کے بارے میں بتا کہ یہ کیا ہے تو مجھ سے پوچھتا ہے کہ اپنے اندر سفر کرنے کا کیا مطلب ہے

You ask to be informed about ‘I’, and what is meant by ‘travel into yourself’.

183

ترا گفتم که ربط جان و تن چیست

سفر در خود کن و بنگر که «من »چیست

میں تجھے جان اور تن میں ربط کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ (اس ربط کے ادراک کے بعد اپنے اندر سفر اور دیکھ کہ من کیا ہے (تجھے معلوم ہو جائے گا کہ من انائے مطلق ہی کی تعیناتی صورت ہے) ۔

I informed you about the relation of body and soul travel into yourself and see what ‘I’ is.

184

سفر در خویش زادن بی اب و مام

ثریا را گرفتن از لب بام

خود میں سفر کرنا کیا ہے بغیر ماں باپ کے پیدا ہونا ، سفر درخویش ہے ۔ ثریا ، ستاروں کے جھرمٹ کو آسمان کی چھت سے پکڑ لینا ہے (اپنی حقیقت کو پا لینا ہی سفر در خویش ہے) اور اسی سے آدمِ خاکی مقامِ بلند حاصل کرتا ہے ۔

To travel into self: It is to be born without father and mother, to catch Pleiades from the edge of the roof;

185

ابد بردن بیک دم اضطرابی

تماشا بی شعاع آفتابی

ایک دم سے فوری طور پر اضطراب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا اور آفتاب کی شعاعوں کے بغیر تماشا کرنا (سورج کی روشنی نہ بھی ہو تو اپنے من کی روشنی سے کائنات کا مشاہدہ کرنا) ۔

To hold eternity with a single stroke of anguish, to see without the rays of the sun;

186

ستردن نقش هر امید و بیمی

زدن چاکی به دریا چون کلیمی

ہر امید اور خوف کے نقش کو ہٹا دینا اور حضرت موسیٰ کی طرح دریا کو پھاڑ دینا ۔

To obliterate every sign of hope and fear, to sunder the river like Moses;

187

شکستن این طلسم بحر و بر را

ز انگشتی شکافیدن قمر را

اس بحر و بر کے جادو کو توڑ دینا اور انگلی سے چاند میں شگاف ڈال دینا (ناممکن کو ممکن کر دکھانا) ۔

To break this spell of sea and land, to split the moon with a finger.

188

چنان باز آمدن از لامکانش

درون سینه او در کف جهانش

اور اس خدا کے جہانِ لا مکان سے اس طرح واپس آنا کہ دل میں تو اس کا جلوہ ہو اور جہان ہتھیلی پر ہو ۔ سفر معراج کے دوران اللہ کے نبی نے جو مشاہدات کئے اور اللہ نے اپنے نبی سے جو باتیں کیں ان کے اسرار و رموز سے کوئی اور واقف نہیں ہے ۔ اس لیے دل میں خدا کا ہونا اور ہتھیلی پر جہان کا ہونا کیسے ہو ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے ۔

So to return from this experience of the spaceless world, that it is within his heart, and the world in his hand.

189

ولی این راز را گفتن محال است

که دیدن شیشه و گفتن سفال است

لیکن یہ راز کھولنا بہت مشکل ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ شیشے کو دیکھنا اور کہنا کہ یہ تو سفال یعنی ٹھیکرا ہے ۔ حقیقت الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتی ۔

But it is difficult to unravel this secret: Here ‘seeing’ is valuable and ‘describing’ worthless.

190

چه گویم از «من» و از توش و تابش

کند« انا عرضنا» بی نقابش

میں من اور اس کی قوت اور تجلی کے بارے میں کیا بتاؤں (کیونکہ الفاظ میں اس کا اظہار مشکل ہے) لیکن اس بات کو آیت قرآنی ضرور بے نقاب کرتی ہے ۔ قرآن کی سورہ 33 کی آیت کہتی ہے ، ہم نے آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں پر امانت پیش کی انھوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا ۔ اس سے ڈر گئے لیکن آدمی نے اسے اٹھا لیا ۔ اس بار امانت کے بارے میں عارفان الہٰی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔

What can I say about ‘I’ and its brilliance? It is manifest from the Quranic text, ‘We proposed’.

191

فلک را لرزه بر تن از فر او

زمان و هم مکان اندر بر او

اس من کی شان و شوکت سے آسمان کے جسم پر خوف طاری ہے ۔ زمان بھی اور مکان بھی اس کے پہلو میں ہے ۔ اس کے دائرہ کار میں ہیں ۔

The heavens are in terror of its glory, time and space are in its grip.

192

نشیمن را دل آدم نهاد است

نصیب مشت خاکی او فتاد است

اور اس کے آشیاں کی تعمیر کے لیے آدم کا دل بنیاد ہے اور وہ دل صرف آدم خاکی ہی کو نصیب ہوا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے عشقِ الہٰی کا بوجھ اٹھا لیا ۔

It sought refuge in the heart of man, and has fallen to the lot of this handful of dust.

193

جدا از غیر و هم وابستهٔ غیر

گم اندر خویش و هم پیوستهٔ غیر

من غیر سے جدا بھی ہے اور غیر سے وابستہ بھی ہے ۔ یہ اپنے اندر گم بھی ہے اور غیر سے بھی تعلق رکھتا ہے ۔ ہر شے میں موجود بھی ہے اور ہر شے سے الگ بھی ہے ۔

It is distinct from the other and yet related to it, is lost within itself and yet conjoined with the other.

194

خیال اندر کف خاکی چسان است

که سیرش بی مکان و بی زمان است

اس کفِ خاک میں خیال کیا چیز ہے کہ اس کی سیر زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے ۔ جہاں چاہے جا سکتا ہے ۔

What kind of aspiration this handful of dust has that its flight is beyond the limitations of time and space.

195

بزندان است و آزاد است این چیست

کمند و صید و صیاد است این چیست

وہ قید خانے میں ہے اور آزاد بھی ہے ۔ آخر یہ کیا ہے وہی کمند بھی ہے وہی شکار بھی ہے اور وہی شکاری بھی ے ۔

It is in prison and yet free! What is this? It is the lasso, the prey, and the hunter! What is this?

196

چراغی در میان سینهٔ تست

چه نور است این که در آئینهٔ تست

یہ تیرے دل میں ایک چراغ ہے ۔ یہ نور ہے جس کا عکس تیرے آئینے میں ہے ۔

There is a lamp within your heart; what is this light which is in your mirror?

197

مشو غافل که تو او را امینی

چه نادانی که سوی خود نبینی

تو غفلت میں نہ پڑ کیونکہ تجھے یہ امانت دی گئی ہے تو کیسا نادان ہے کہ اپنی حقیقت کو نہیں پہچانتا ۔ خلاصہ مطلب: اس بند میں خودی کی من کی اور اپنے اندر سفر کی بات کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وجودِ مطلق تعین میں آ کر جب قابل اشارہ ہو جاتا ہے تو اسے من کہتے ہیں خودی بھی اس کا دوسرا نام ہے ۔ اور اس کی پہچان اپنے اندر سفر کرنے سے ہوتی ہے اور اپنے اندر سفر ماں باپ کے بغیر دوبارہ پیدا ہوتا ہے ۔

Don’t be negligent; you are its trustee, what folly that you do not look within your self!

بند 12
سؤال ششم
Toggle stanza 12
198

چه جزو است آنکه او از کل فزون است

طریق جستن آن جزو چون است

وہ جز کیا ہے کہ جو کل سے بڑھ کر ہے ۔ اس جز کی تلاش کا کیا طریقہ ہے

What is that part which is greater than its whole? What is the way to find that part?

بند 13
جواب
Toggle stanza 13
199

خودی ز اندازه های ما فزون است

خودی زان کل که تو بینی فزون است

ہمارے اندازوں سے خودی کی قوتِ پرواز کہیں بڑھ کر ہے ۔ وہ کل جسے تو دیکھتا ہے اس سے خودی بڑی ہے ۔ عام لوگوں کی نظر میں خود ی کائنات میں ایک نقطہ سا ہے لیکن اہلِ نظر کی بصیرت میں یہ کائنات بہت مختصر ہے ۔ خودی اس سے اعلیٰ ہے ۔

Ego is greater than what we imagine it to be; ego is greater than the whole which you see.

200

ز گردون بار بار افتد که خیزد

به بحر روزگار افتد که خیزد

یہ خودی آسمان سے بار بار نیچے اترتی ہے ۔ اور یہ زمانے کے سمندر میں گرتی ہے تا کہ پھر ابھر کر سامنے آئے ۔ خودی ایک بلندی کی چیز ہے لیکن انسانی جسم میں قید ہو کر جدوجہد میں مصروف ہو جاتی ہے تا کہ اس قید سے نجات حاصل کرے ۔

It falls from the heaven again and again to rise; it falls into the sea of the world to rise.

201

جز او در زیر گردون خود نگر کیست؟

به بی بالی چنان پرواز گر کیست؟

اس عالم کون و مکاں میں اپنی معرفت حاصل کرنے والی اس کے سوا اور کون سی شے ہے ۔ اگرچہ اس کے بازو نہیں ہیں ۔ لیکن اس جیسی بلند پروازی اور کس کے پاس ہے خودی ہی ذات کا شعور رکھتی ہے ۔

Who else in the world is self-conscious? Who else can fly without wings?

202

به ظلمت مانده و نوری در آغوش

برون از جنت و حوری در آغوش

اگرچہ وہ ظلمت (آدمِ خاکی) کے جسم میں رہتی ہے لیکن اپنی آغوش میں نور رکھتی ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ وہ خود تو جنت سے باہر ہو اور پہلو میں حور رکھتی ہے ۔

It lies in darkness and yet has a light in its bosom, outside the paradise and yet has a houri in embrace!

203

به آن نطقی دل آویزی که دارد

ز قعر زندگی گوهر بر آرد

وہ ایک ایسی دلفریب قوتِ گویائی رکھتی ہے جس کی مدد سے وہ زندگی کے گہرے سمندر سے اسرار و رموز کے موتی نکال لاتی ہے ( یہ قوتِ گویائی ہر آدمی کا خاصہ نہیں ہے بلکہ ان خاص لوگوں (عارفوں ) کا کمال ہے جو خودی آشنا ہوتے ہیں ۔ )

With the charming wisdom that it possesses, it brings out pearls from the depth of life.

204

ضمیر زندگانی جاودانی است

بچشم ظاهرش بینی زمانی است

زندگی کی ضمیر ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ اگر تو اسے ظاہری آنکھ سے دیکھے گا تو یہ تجھے زمانے یعنی لمحاتی اور عارضی نظر آئے گی ۔ (انائے مقید ظاہری آنکھ سے ہ میں عارض اور زمانی دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس کا تعلق زمانے کے تغیرات سے ہے ۔ لیکن صاحب بصیرت اسے جب باطنی نگاہوں سے دیکھتے ہیں تو وہ اسے انائے مطلق کا عکس محسوس کرتے ہیں جو کہ لافانی ہے ۔ )

The impulse of life is eternal, but looked at from outside, it is bound by time.

205

به تقدیرش مقام هست و بود است

نمود خویش و حفظ این نمود است

اس کی تقدیر میں یہ مقام ہست و بود (زمانہ ماضی و حال) ہے ۔ یہ زمانے خودی یا انائے مقید کے اپنے اندازے ہیں ۔ یہ اپنی نمود اور پھر اس کی نمود کی حفاظت بھی کرتی ہے ۔ انائے مقید زمانے کے اندر رہ کر اپنی نمود چاہتی ہے اور پھر قید زمانہ میں رہتے ہوئے اس کی حفاظت بھی کرتی ہے ۔

Upon its destiny depends the position of this universe, its manifestation and preservation of it.

206

چه میپرسی چه گون است و چه گون نیست

که تقدیر از نهاد او برون نیست

تیرا یہ سوال کہ وہ کس طرح کی ہے اور کس طرح کی نہیں ہے اور یہ کہ اس کی تقدیر اس کی ذات سے الگ تو نہیں ہے ۔

What do you ask about its nature? Destiny is not something separate from its nature.

207

چه گویم از چگون و بی چگونش

برون مجبور و مختار اندرونش

میں اس کی شکل و صورت کے بارے میں تمہیں کیا بتاؤں سوائے اس کے کہ وہ انائے مقید خارج میں مجبور اور اندر سے مختار ہے ، اپنی مرضی کی مالک ہے ۔

What should I say about its character? Outwardly it is determined, inwardly it is free.

208

چنین فرمودهٔ سلطان بدر است

که ایمان در میان جبر و قدر است

سلطانِ بدر (رسول اللہ ﷺ) کا فرمانِ مبارک ہے کہ ایمان جبر اور قدر کے درمیان ہے یعنی آدم نہ تو مکمل خود مختار ہے اور نہ ہی مجبور محض لیکن خودی سے آشنائی اسے خود مختار بنا دیتی ہے ۔

Such is the saying of the Lord of Badr, that faith lies between determinism and indeterminism.

209

تو هر مخلوق را مجبور گوئی

اسیر بند نزد و دور گوئی

تو ہر مخلوق کو مجبور خیال کرتا ہے اور اسے زمان و مکان کی قید میں سمجھتا ہے ۔

You call every creature to be determined, to be confined to the chains of ‘near’ and ‘far’.

210

ولی جان از دم جان آفرین است

به چندین جلوه ها خلوت نشین است

لیکن جان تو اس کے تخلیق کار کے دم قدم سے ہے ۔ اسے موت نہیں کیونکہ اللہ کی پھونکی ہوئی روح ہے ۔ اور یہ جان اتنے جلووں کے باوجود پوشیدہ ہے ۔

But the soul is from the breath of the Creator, which lives in privacy with all its manifestations.

211

ز جبر او حدیثی در میان نیست

که جان بی فطرت آزاد جان نیست

جب ہم جبر کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے یعنی روح کے جبر کی بات درمیان میں نہیں ہوتی کیونکہ جان آزاد فطرت کے بغیر جان نہیں ہوتی ۔

Determinism with regard to it is out of question, for soul without freedom is not a soul.

212

شبیخون بر جهان کیف و کم زد

ز مجبوری به مختاری قدم زد

اس خودی نے کیف و کم کے جہان پر بے خبری میں حملہ کیا اور اس طرح مجبوری سے مختاری کی طرف قدم بڑھائے ۔ خودی نے ان مجبور عالموں کو فتح کر رکھا ہے اور درجہ اختیار پر فائز ہے ۔ خلاصہ مطلب: اس بند میں خودی کی ماہیت بیان کی گئی ہے ۔ اور بتایا گیا ہے کہ دوسری اشیاء کی طرح وہ مجبور محض نہیں ۔ اس بند میں مسئلہ جبر و قدر بھی بیان کیا گیا ہے ۔

It lay in ambush on this world of quantitative measurements. From determinism it passed over to freedom.

213

چو از خود گرد مجبوری فشاند

جهان خویش را چون ناقه راند

خودی جب اپنے بدن سے مجبور کی گرد جھاڑ دیتی ہے (مقام اختیار پر پہنچ جاتی ہے ) تو اپنی دنیا کی اونٹنی خود ہانکتی ہے ۔

When it (ego) removes from itself the dust of determinism, it drives its world like a camel.

214

نگردد آسمان بی رخصت او

نتابد اختری بی شفقت او

اس خودی کی اجازت کے بغیر آسمان بھی گردش نہیں کرتا اور اس کی مہربانی کے بغیر ستارے میں روشنی بھی نہیں ہوتی ۔

The sky does not revolve without its permission, nor do stars shine without its grace.

215

کند بی پرده روزی مضمرش را

بچشم خویش بیند جوهرش را

اس کے پوشیدہ اسرار بے پردہ کر دیتی ہے ۔ زمانے کی ہر چیز کا راز خودی پر آشکار ہو جاتا ہے اور وہ زمانے کے جوہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے ۔

One day it reveals its hidden nature, and sees its essence with its own eyes.

216

قطار نوریان در رهگذار است

پی دیدار او در انتظار است

فرشتے قطاریں بنائے اس کے انتظار میں ایستادہ ہیں ۔ اوراس کے دیدار کے منتظر ہیں ۔ خودی کی جب پہچان ہو جاتی ہے تو آدمی فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے ۔

Rows of heavenly choir stand on either side of the road, waiting for a glimpse of its countenance.

217

شراب افرشته از تاکش بگیرد

عیار خویش از خاکش بگیرد

فرشتہ بھی اس کی خودی کی انگور کی بیل سے شراب حاصل کرتا ہے اور اپنی قیمت اس کی خاک سے پاتا ہے ۔ فرشتے بھی صاحبِ عرفان خودی کے فرمانبردار بن جاتے ہیں ۔ دوسرے بند کا خلاصہ اس بند میں خودی کی طاقت اور صاحب خودی کے اختیارات بتائے گئے ہیں ۔

The angel gets wine from its vine; it gets significance from its earth.

218

چه پرسی از طریق جستجویش

فرو آرد مقام های و هویش

تو خودی کی تلاش کرنے کے طریقے سے متعلق کیا سوا ل کرتا ہے وہ اس کے ہاے و ہو (آہ و زاری) کے مقام کو اپنے اندر سمو لیتا ہے ۔

You ask about the way of its seeking; come down to the state of lamentation.

219

شب و روزی که داری بر ابد زن

فغان صبحگاهی بر خرد زن

وہ رات اور دن جو تیرے پاس ہیں انہیں ابدی کر لے ۔ تو اپنی صبح کی آہ و زاری کو عقل کے حصول میں ضائع نہ کر ( بلکہ عشق کی جستجو میں صرف کر ) ۔

Change your days and nights for eternity, change from intellect to the morning lamentation (intuition).

220

خرد را از حواس آید متاعی

فغان از عشق می گیرد شعاعی

خرد (عقل)حواس خمسہ سے دولت حاصل کرتی ہے جبکہ فغانِ صبحگاہی عشق سے روشنی پاتی ہے ۔

Intellect has its source in senses, lamentation gets light from love.

221

خرد جز را فغان کل را بگیرد

خرد میرد فغان هرگز نمیرد

خرد صرف جز کو اور فغان (عشق) کل کو قابو کرتی ہے ۔ خرد مر جاتی ہے لیکن فغان ہمیشہ زندہ رہتی ہے ۔

Intellect grasps the part, lamentation the whole. Intellect dies but lamentation is immortal.

222

خرد بهر ابد ظرفی ندارد

نفس چون سوزن ساعت شمارد

خرد میں اس قدر ظرف نہیں ہوتا کہ وہ ابد کو اپنے اندر سمو لے ۔ خرد تو اپنی سانسیں گھڑی کی سوئی کی مانند شمار کرتی ہے ۔ (عقل زمانے کو ظاہری طور پر دیکھتی ہے جبکہ عشق اس کے باطن پر نظر رکھتا ہے اور ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے)

Intellect has no categories to comprehend eternity; it counts moments as the hands of the watch.

223

تراشد روز ها شب ها سحر ها

نگیرد شعله و چیند شرر ها

عشق اپنے روز و شب اور صبحیں خود پیدا کرتا ہے ۔ وہ زمانے کا قیدی نہیں وہ شعلہ نہیں لیتا ۔ پھر بھی چنگاریاں چنتا ہے ۔ وہ زمانے کا پابند نہیں لیکن زمانہ ساز ہے ۔ اپنی دنیا میں آپ پیدا کرتا ہے ۔

It contrives days and nights and mornings; it cannot catch the flames; therefore it takes on sparks.

224

فغان عاشقان انجام کاریست

نهان در یکدم او روزگاریست

عاشقوں کی فریاد نتیجہ خیز ہوتی ہے ۔ عقل کی طرح بے نتیجہ نہیں ہوتی ۔ عشق کے ایک لمحے میں زمانہ پوشیدہ ہے ۔ عشق دراصل زمانے کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ زمانہ عشق کا محتاج ہوتا ہے ۔ تیسرےبند کا خلاصہ خودی کی تلاش کا واحد طریقہ عشق ہے ۔

The lamentation of the lovers is the ultimate goal, in one moment of it lies hidden a world.

225

خودی تا ممکناتش وا نماید

گره از اندرون خود گشاید

اپنے ممکنات کے حصول کے لیے خودی اپنے اندر کی گرہیں کھولتی ہے (اپنے اندر خدا کی ودیعت کردہ صلاحتیوں اور قوتوں کا جائزہ لیتی ہے) ۔

When the ego manifests its potentialities, it removes its inner knots and veil.

226

از آن نوری که وا بیند نداری

تو او را فانی و آنی شماری

تو وہ نور (ادراک) نہیں رکھتا ۔ جس سے واضح طور پر فطرت کے اسرار کا مشاہدہ کیا جا سکے اسی لیے تو خودی کو وقتی اور فانی سمجھتا ہے ۔

You do not have that light by which it sees. You look upon it as momentary and mortal.

227

از آن مرگی که میآید چه باک است

خودی چون پخته شد از مرگ پاک است

جو موت آ کر رہے گی اس سے کیا ڈرنا خودی جب پختہ ہو جاتی ہے تو وہ موت سے پاک ہو جاتی ہے (امر ہو جاتی ہے)

Why fear that death which comes from without? For when the ‘I’ ripens into a self it has no danger of dissolution.

228

ز مرگ دیگری لرزد دل من

دل من جان من آب و گل من

میرا دل تو ایک اور موت سے خوفزدہ ہے (اس موت سے) میرا دل، میری جان اور میرا جسم تینوں کانپتے ہیں ۔

There is a more subtle inner death which makes me tremble!

229

ز کار عشق و مستی برفتادن

شرار خود به خاشاکی ندادن

یہ موت کیا ہے جس سے مجھے خوف آتا ہے ۔ یہ موت یہ ہے کہ عشق اور مستی کے کام چھوڑ دینا اور اپنے شرارے (جذبہَ عشق) سے کام نہ لینا ۔

This death is falling down from love’s frenzy, saving one’s spark and not giving it away freely to the heaps of chaff;

230

بدست خود کفن بر خود بریدن

بچشم خویش مرگ خویش دیدن

اپنے ہاتھوں سے خود پر کفن چڑھانا یا پہننا ۔ اور اپنی آنکھوں سے موت کو دیکھنا ۔

Cutting one’s shroud with one’s own hands; seeing one’s death with one’s own eyes;

231

ترا این مرگ هر دم در کمین است

بترس از وی که مرگ ما همین است

یہ موت ہر دم تیری گھات میں ہے، اس سے بچ کہ یہی اصل موت ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

This death lies in ambush for thee! Fear it, for that is really our death.

232

کند گور تو اندر پیکر تو

نکیر و منکر او در بر تو

یہ موت تیرے پیکر کے اندر ہی تیری قبر بناتی ہے اور قبر میں حساب و کتاب کے فرشتے منکر و نکیر بھی تیرے ہمراہ ہوتے ہیں (اصل موت اس زندگی کو ہے جو بے سوز و عشق ہے اور خودی ناشناس ہے) لیکن خودی آشنا اور اہلِ عشق تو امر ہو جاتے ہیں ۔ تیسرےبند کا خلاصہ عشق اور خودی آشنا لوگوں کے لیے موت ہیں ۔

It digs your grave in your body; its Munkar and Nakir are with it.

بند 14
سؤال هفتم
Toggle stanza 14
233

مسافر چون بود رهرو کدام است

کرا گویم که او مرد تمام است

مسافر کیسا ہوتا ہے اور راستہ چلنے والا کون ہے میں کیسے کہوں یا کیسے شناخت کروں کہ وہ مردِ کامل ہے

Of what sort is this traveler, who is the wayfarer? Of whom shall I say that he is the Perfect Man?

بند 15
جواب
Toggle stanza 15
234

اگرچه چشمی گشائی بر دل خویش

درون سینه بینی منزل خویش

اگر تو اپنے دل کی باطنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرے تو تو اپنی منزل اپنے دل کے اندر دیکھ لے گا ۔

If you direct your eyes towards your heart, you will find your destination within your bosom.

235

سفر اندر حضر کردن چنین است

سفر از خود بخود کردن همین است

حضر کے اندر سفر کرنا ایسا ہی ہے جیسے خود سے خود کی طرف سفر کرنا ہے ۔ ایک سفر ظاہری ہے جس میں مقام تبدیل ہوتے ہیں لیکن دوسرا سفر باطنی ہے ۔ اس سفر میں ٹھہراوَ کے باوجود سفر ہوتا ہے ۔ یہ سفر اپنی ہی تلاش کا سفر ہوتا ہے ۔

To travel while at rest is: To travel from one’s self to one’s self.

236

کسی اینجا نداند ما کجائیم

که در چشم مه و اختر نیائیم

اس جگہ کسی کو معلوم نہیں کہ ہماری اصل کیا ہے کیونکہ ہم تو چاند اور تاروں کی نظروں میں بھی نہیں آتے ۔ اہل نظر (عارفان الٰہی) کے سوا ان مسافروں کے سفر اور ان کی منازل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ۔

None knows here where we are, that we look so insignificant in the eyes of moon and stars.

237

مجو پایان که پایانی نداری

بپایان تا رسی جانی نداری

اس لیے تو معر کی حد تلاش نہ کر کیونکہ تیری اپنی کوئی حد نہیں ۔ جب تو حد (اپنی معرفت کی پہچان) کو پہنچے گا تو خود نہیں ہو گا بلکہ مقامِ بقا حاصل کرے گا ۔

Don’t seek the end of the journey; for you have no end; as soon as you reach the end, you lose your soul.

238

نه ما را پخته پنداری که خامیم

بهر منزل تمام و ناتمامیم

تو ہ میں اپنی خودی میں پختہ تجربہ کار نہ سمجھ کہ ہم ابھی ناقص ہیں ۔ ہر منزل پر ہم تمام ہیں اور ناتمام ہیں ۔ یعنی ایک منزل کو پا کر دوسری کی جستجو میں روانہ ہو جاتے ہیں ۔

Do not look upon us as ripe; for we are raw, at every destination we are perfect and imperfect.

239

بپایان نارسیدن زندگانی است

سفر ما را حیات جاودانی است

حد کو نہ پہنچنا ہی زندگی ہے ۔ سفر ہمارے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے ۔

Not to reach the end is life; immortal life for us lies in constant traveling.

240

ز ماهی تا به مه جولانگه ما

مکان و هم زمان گرد ره ما

دریا میں رہنے والی مچھلی سے لے کر چاند تک ، زمین کی گہرائیوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک ہماری جدوجہد کا میدان ہے ۔ زما ن و مکان بھی ہمارے راستے کی گرد ہیں ۔

The whole world from the centre of the earth to the moon is within our reach, time and space are like dust in our path.

241

بخود پیچیم و بیتاب نمودیم

که ما موجیم و از قعر وجودیم

ہم خود پر خودی کو لپیٹتے ہیں اور نمود کی تاب تڑپ کے بغیر ہیں ۔ خودی خدا ہی کا عکس ہے ۔ اسے غیر سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ہم موج ہیں اور وجود کے سمندر کی گہرائی کے باعث زندہ ہیں ۔ موج سمندر ہی سے پیدا ہوتی ہے اور الگ نظر آنے کے باوجود سمندر ہی کا حصہ ہوتی ہے ۔ اسی طرح خودی بھی خدا ہی کا عکس ہے ۔ اور انائے مقید میں انائے مطلق کی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں ۔ اس لیے انائے مقید غیر کی محتاج نہیں ہوتی ۔

Our selves are our centres and pine for manifestation, for we are waves and rise from the bottom of Being.

242

دمادم خویش را اندر کمین باش

گریزان از گمان سوی یقین باش

ہر وقت اپنے آپ کو شکار یعنی خودی کی معرفت حاصل کرنے کے لیے گھات لگائے رکھ اور گمان (بے یقینی) سے دور بھاگتا ہوا یقین کی طرف آ تاکہ تجھے معرفتِ الہٰی حاصل ہو ۔

Lie in constant ambush against the self, fly from doubt to faith and certainty.

243

تب و تاب محبت را فنا نیست

یقین و دید را نیز انتها نیست

یاد رکھ کی محبت کی تڑپ اور حرارت لافانی ہے اس طرح یقین اور دید کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔

The fire and ardour of love are not subject to extinction; faith and ‘sight’ have no end.

244

کمال زندگی دیدار ذات است

طریقش رستن از بند جهات است

زندگی کا کمال ذات خودی کا دیدار ہے ۔ اور اس دیدار کا طریقہ چاروں اطراف یعنی زمان و مکان کی حدود کی قید سے آزاد ہونا ہے ۔

The perfection of life consists in seeing the Essence, the way of achieving it is to free oneself from the limits of time and space.

245

چنان با ذات حق خلوت گزینی

ترا او بیند و او را تو بینی

اور پھر تو محو ہو کر ذاتِ حق کی خلوت میں اس طرح دنیا سے بیگانہ ہو کر بیٹھے کہ تجھے وہ دیکھے اور تو اس کے حسن کا نظارہ کرے ۔

You should enjoy privacy with the Divine Person in such a way, that He sees you and you see Him.

246

منور شو ز نور «من یرانی»

مژه برهم مزن تو خود نمانی

اس شعر میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ من یرانی فی المنان فقدار الحق (جس نے مجھے خواب میں دیکھا گویا اس نے حق کو دیکھا ) ۔ اے شخص تو خود کو حدیث من یرانی کے نور سے منور کر اور اس طرح فنا فی الرسول ہو کر دیدارِ حق سے روشن ہو جا ۔ یہ مقامِ نازک ہے یہاں نگاہ کی ذرا سی بھی کوتاہی سے تو خود بھی نہیں رہے گا ۔ کیونکہ دیدارِ محبوب کے وقت نگاہوں کا ادھر ادھر گھومنا اچھا نہیں ۔

Become illumined by the light of ‘what you see.’ Do not wink; otherwise you will be no more.

247

بخود محکم گذر اندر حضورش

مشو ناپید اندر بحر نورش

اس خدا کے حضور ثابت قدمی سے جا ۔ اور اس کے نور کے سمندر میں ڈوب کر کہیں ناپید ہو جا ۔ جس طرح موج سمندر میں رہ کر اپنا وجود برقرار رکھتی ہے اس طرح تو بھی نور کے سمندر میں اپنا وجود برقرار رکھ ۔

In His presence, be strong and self-possessed; don’t merge yourself in the ocean of His Light.

248

نصیب ذره کن آن اضطرابی

که تابد در حریم آفتابی

اپنی ذات کے نصیب میں وہ اضطراب پیدا کر ۔ تو سورج کے گھر میں بھی اپنی ذات کی روشنی برقرار ررکھ سکے ۔ کیونکہ اپنی انفرادیت کھو کر تو فنا ہو جائے گا ۔

Bestow that perturbation to the mote that it may shine in the vicinity of the sun.

249

چنان در جلوه گاه یار میسوز

عیان خود را نهان او را برافروز

یار کی جلوہ گا میں اس طرح جل کہ تو روشن ہو جائے ، خود کو ظاہر اور اس محبوب کو پردے میں چمکا ۔ تیری چمک جلوہَ یار کی چمک ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں ۔ ذرے میں چمک نہ ہو تو سورج کی صوفشانی بے کار ہے ۔

So burn amid the splendour of the Beloved that you may illumine yourself in public and Him in privacy.

250

کسی کو دید عالم را امام است

من تو ناتمامیم او تمام است

وہ شخص جس نے جلوہَ یار کا مشاہدہ کیا وہی اس جہان کا امام ہے ۔ میں اور تو کی باتیں بے کار ہیں ۔ صرف وہی کامل ہے ۔ خلاصہ آدمی کی منزل اس کے اندر ہے ۔ خود سے خود کی طرف سفر کرنے والا مسافر ہے ۔ اپنی منزلِ مراد پا لینے والا راہرو کہلاتا ہے اور منزل پر ذاتِ حق کا شاہد مردِ کامل ہے ۔

He who ‘saw’ is the leader of the world, we and you are imperfect; he alone is perfect.

251

اگر او را نیابی در طلب خیز

اگر یابی به دامانش در آویز

تو اگر اس مردِ کامل کی تلاش میں ناکام رہتا ہے تو اس کی طلب میں جدوجہد کر اور جب تو اسے پا لے تو پھر اس کے دامن سے چمٹ جا ۔ اس کی پیروی کر ۔

If you do not find him, rise in search of him; if you find him, attach yourself to him.

252

فقیه و شیخ و ملا را مده دست

مرو مانند ماهی غافل از شست

فقیہ ، شیخ اور ملا کے ہاتھوں میں ہاتھ مت دے ۔ ان کی پیروی مت کر ۔ مچھلی کی طرح اپنی مشت (نشانے) سے یعنی اس کانٹے سے جو مچھلی پکڑنے کے لیے لگایا جاتا ہے غفلت نہ کر ۔ دنیا دار لوگوں کی بجائے کسی مردِ کامل کا دامن تھام لے ۔

Do not allow yourself to be guided by the faqih, shaikh, and mulla; like fish, do not walk about careless of the hook.

253

بکار ملک و دین او مرد راهی است

که ما کوریم و او صاحب نگاهی است

ملا اور شیخ کی طرح مردِ کامل زندگی کے صرف ایک پہلو پر نظر نہیں رکھتا بلکہ اسے ملک اور دین کے کاموں سے مکمل آشنائی ہوتی ہے ۔ وہ میرِ کاروان ہوتا ہے اور زندگی کے سفر کے نشیب و فراز سے باخبر ہوتا ہے ۔ ہم اندھے ہیں اور وہ صاحب نظر ہوتا ہے ۔

He is a man of the path in matters of State and religion; we are blind and he is a man of insight.

254

مثال آفتاب صبحگاهی

دمد از هر بن مویش نگاهی

طلوع ہوتی ہوئی صبح کے سورج کی کرنوں کی مانند جن سے روشنی پھوٹتی ہے ۔ مردِ کامل کے ہر بال کی جڑ سے نگاہ فیض پیدا ہوتی ہے ۔

Like the sun of the morning, wisdom shines from every root of his hair.

255

فرنگ آئین جمهوری نهاد ست

رسن از گردن دیوی گشادست

مغربی طرزِ جمہوریت جہاں اکثریت کی رائے تسلیم کی جاتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو اس پس منظر میں علامہ کہتے ہیں کہ فرنگیوں کے آئین جمہوری کی بنیاد رکھ کر گویا دیوکے گلے سے رسی کھول دی ہے ۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ابلیسی افکار جڑ پکڑ رہے ہیں ۔

The West has set up the rule of democracy; it has untied the rope from the neck of a fiend.

256

نوا بی زخمه و سازی ندارد

ابی طیاره پروازی ندارد

ان جمہوریت نواز لوگوں کی نوا بغیر مضراب کے ہے اور اس ساز میں موسیقیت نہیں ہے ۔ ان کی پرواز ہوائی جہاز کے بغیر ہے ۔ ان میں مادہ پرستی تو ہے لیکن روحانیت موجود نہیں ۔

It does not possess sound without plectrum and musical instruments, without a flying machine it does not possess the power of flying.

257

ز باغش کشت ویرانی نکوتر

ز شهر او بیابانی نکوتر

اس کے باغ سے ویران کھیتی ، اور اس کے شہروں سے بیابان بہتر ہیں۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

A desolate field is better than its garden, a desert is better than its city.

258

چو رهزن کاروانی در تک و تاز

شکمها بهر نانی در تک و تاز

چور کی طرح کاروان ہی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے ۔ لوٹ مار کر رہا ہے سب لوگ روح کو بھول کر شکم پرستی کی طرف مائل ہیں ۔

Like a marauding caravan it is active, its people are ever busy in satisfying their hunger.

259

روان خوابید و تن بیدار گردید

هنر با دین و دانش خوار گردید

روح سو گئی ہے اور جسم جاگ رہے ہیں ۔ اس بے روح دنیا میں ہنر دین اور دانش ذلیل و خوار ہو گئے ہیں ۔

Its soul became dormant, and its body awoke; art, science and religion all became contemptible.

260

خرد جز کافری کافر گری نیست

فن افرنگ جز مردم دری نیست

خرد سوائے کافری کے اور دوسروں کو کافر بنانے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ دنیا نے جمہوریت کی آڑ میں دین کو بھلا دیا ہے ۔ فرنگیوں کا فن سوائے آدمیوں کو پھاڑنے کے یعنی لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت سے دور کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ۔

Intellect is nothing but fostering of unbelief, the art of the West is nothing but man-killing.

261

گروهی را گروهیدر کمین است

خدایش یار اگر کارش چنین است

ایک گروہ کی گھات میں حملہ آور ہونے کے لیے دوسرا گروہ مصروف ہے ۔ ہر طرف طبقاتی اور گروہی استحصال ہو رہا ہے ۔

A group lies in ambush against another group, such a state of affairs is sure to lead to disaster.

262

ز من ده اهل مغرب را پیامی

که جمهور است تیغ بی نیامی

میری طرف سے اہلِ مغرب کو یہ پیغام دو کہ جمہور یا عام لوگ ننگی تلوار ہوتے ہیں ۔

Convey my message to the West that the ideal of democracy is a sword out of its sheath:

263

چه شمشیری که جانها می ستاند

تمیز مسلم و کافر نداند

یہ جمہوریت کیسی تلوار ہے جو قتل کرتی ہے اور اس قتل میں کافر اور مسلمان کی کوئی تمیز نہیں ۔

What a sword that it kills men and does not make a distinction between a believer and an unbeliever!

264

نماند در غلاف خود زمانی

برد جان خود و جان جهانی

یہ ایک لمحہ کے لیے بھی اپنی نیام میں نہیں رہتی ۔ یہ اپنی جان اور جہان کی جان کی دشمن ہے ۔ جمہوریت کی تلوار چلانے والا خود بھی اس تلوار سے محفوظ نہیں ہوتا ۔ خلاصہ اس بند میں مردِ کامل اور مغربی جمہوریت کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ مردِ کامل کی زندگی درجہَ کمال تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے ۔ وہ دیدارِ ذات کی منزل پر ہوتا ہے اور یہی زندگی کا کمال ہے ۔ ایسے مردِ کامل کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مغربی جمہوریت مردِ کامل تو کجا آدمی کو آدمی نہیں رہنے دیتی ۔ اسے ابلیس بنا دیتی ہے ۔

If it does not remain in the sheath for a little more time, it will kill itself as well as the world.

بند 16
سؤال هشتم
Toggle stanza 16
265

کدامی نکته را نطق است اناالحق

چه گوئی هرزه بود آن ٓرمز مطلق

کسی باریک بات یا رمز کا انا الحق بیان ہے تو کیا کہتا ہے کہ وہ رمز مطلق جو حسین بن منصور حلاج کی زبان سے نکلی تھی فضول تھی۔

What point does the aphorism ‘I am the Truth’ imply? Do you think that this mystery was mere nonsense?

بند 17
جواب
Toggle stanza 17
266

من از رمز اناالحق باز گویم

و گر با هند و ایران راز گویم

میں ایک بار پھر انالحق کی رمز کے بارے میں بات کر رہا ہوں ۔ میں ایک بار پھر ایران اور ہندوستان والوں میں راءج قصہَ منصور دہرا رہا ہوں ۔

I am once again going to explain the mystery of ‘I am the Truth’. Before India and Iran I am unfolding a secret again.

267

مغی در حلقهٔ دیر این سخن گفت

«حیات از خود فریبی خورد و من »گفت

ایک شراب کشید کرنے والے نے اپنے مندر کے لوگوں سے یہ بات کہی کہ حیات نے فریب کھایا تو من کہا ۔ ورنہ من کی کوئی حیثیت نہیں ۔

The Magi in the circle of his followers said: ‘Life was taken in by itself and uttered ‘I’.

268

خدا خفت و وجود ما ز خوابش

وجود ما نمود ما ز خوابش

خدا سو گیا اور ہمارا وجود اس کا خواب ہے ۔ ہمارا وجود اور ہماری نمود دونوں اس کا خواب ہیں (قدیم ایران اور ہندوستان کے حکماء کا فلسفہَ خیال یہی تھا کہ جہان اور اس جہان میں موجود اشیاء خواب و خیال ہیں ۔ )

God went to sleep and our being is through His dream; our existence and appearance are merely His dreams.

269

مقام تحت وفوق و چار سو خواب

سکون و سیر و شوق و جستجو خواب

جہان کے نیچے اور اوپر کے مقامات اور چاروں طرف سب خواب ہیں ۔ اس جہان کا سکون، سیر، شوق اور جستجو سب کچھ خواب ہے ۔

Down and above, all four dimensions are illusions, rest and motion, desire and search are all illusions!

270

دل بیدار و عقل نکته بین خواب

گمان و فکر و تصدیق و یقین خواب

دل بیدار اور عقل نکتہ بیں خواب ہیں ۔ گمان، فکر، تصدیق اور یقین سب خواب ہیں ۔

Wakeful heart and wise intellect, a dream; dread and anxiety, certainty and belief, a dream.

271

ترا این چشم بیداری بخواب است

ترا گفتار و کرداری بخواب است

تیری یہ چشم بیدار خواب میں جاگ رہی ہے ۔ تیری بات چیت تیرا یہ کردار اور عمل وغیرہ سب خواب ہے ۔

Your wakeful eye is in reality in a state of dream, your speech and action are all in a dream!

272

چو او بیدار گردد دیگری نیست

متاع شوق را سوداگری نیست

جب وہ (خفتہ خدا) بیدار ہو جائے گا تو اس کے سوا جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے فنا ہو جائے گا اس وقت اس متاع شوق کا کوئی سوداگر نہیں ہو گا ۔ خلاصہ ایرانی اور ہندی دانشوروں کے نزدیک کائنات ایک موہوم خواب ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ یہ سوئے ہوئے خدا کا خواب ہے جب وہ خواب سے بیدار ہو گا تو کائنات بھی ختم ہو جائے گا ۔

When He wakes up, nothing else remains; there is no customer for the merchandise of yearning.’

273

فروغ دانش ما از قیاس است

قیاس ما ز تقدیر حواس است

ہماری دانش کی ترقی کا انحصار قیاس پر ہے ۔ اور ہمارا قیاس ہمارے حواس خمسہ کی بنیاد پر ہے ۔ قیاس کے نتاءج اکثر ناقابل اعتماد ہوتے ہیں ۔

The development of our intellect is through reasoning; our reasoning depends upon the nature of the senses.

274

چو حس دیگر شد این عالم دگر شد

سکون و سیر و کیف و کم دگر شد

جب حس بدل گئی تو جہان بدل گیا ۔ سکون، حرکت، کیفیت اور کمیت کی صورت بدل گئی ۔ اسی طرح قیاس بھی بدل جائے گا ۔

When sense changes, this world becomes different: Rest and motion, quality and quantity are changed.

275

توان گفتن جهان رنگ و بو نیست

زمین و آسمان و کاخ و کو نیست

جب قیاس حواس خمسہ سے بدل جاتا ہے تو قیاس کے تحت ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جہانِ رنگ و بو نہیں ہے ۔ اور یہاں کی زمین، آسمان، محل اور گلیاں نہیں ہیں ۔

It can be said that the world of colour and smell is non-existent, earth and sky, house and street, are nothing.

276

توان گفتن که خوابی یا فسونی است

حجاب چهره آن بی چگونی است

پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جہاں خواب ہے یا فسوں ہے ۔ یہ بے مثل خدا کے چہرے کا پردہ ہیں ۔ جب وہ پردہ اٹھا دے گا تو کائنات ختم ہو جائے گی ۔ اس لیے کائنات ایک قیاس ہے وہم ہے یہاں دل لگانا فضول ہے ۔

It can be said that all these are dreams or illusions, or veils over the countenance of the Divine Person.

277

توان گفتن همه نیرنگ هوش است

فریب پرده های چشم و گوش است

یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ سب کچھ ہوش و عقل کا شعبدہ ہے ۔ آنکھ اور آنکھ کے ہر دوروں کا فریب ہے ۔

It can be said that all is sorcery of the senses, a deception produced by our eyes and ears.

278

خودی از کائنات رنگ و بو نیست

حواس ما میان ما و او نیست

لیکن خودی کا تعلق اس جہان رنگ و بو سے نہیں ۔ یہ اس سے ماورا کوئی چیز ہے ۔ خودی یہ بتاتی ہے کہ ہمارے حواس خمسہ ہمارے اورا س کائنات کے درمیان رکاوٹ نہیں ہیں ۔ خودی حواس پر انحصار نہیں کرتی ۔

But the ego does not belong to the universe of colour and smell; our senses do not intervene between us and it.

279

نگه را در حریمش نیست راهی

کنی خود را تماشا بی نگاهی

خودی کے گھر میں نگاہوں کی فریب کاری کا دخل نہیں ۔ کیونکہ نگاہ فریب کھا سکتی ہے لیکن خودی اپنا تماشا ظاہری نگاہ کے بغیر کرتی ہے ۔

Eyesight has no access to its sacred precincts; you can see ‘self’ without eyesight.

280

حساب روزش از دور فلک نیست

بخود بینی ظن و تخمین و شک نیست

اس خودی کے دنوں کا شمار گردش فلک پر نہیں ۔ یہ اس گردش سے ماورا ہے اس کی خود بینی گمان، اندازہ اور شک کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ حقیقت پر مبنی ہے ۔ خلاصہ اس بند میں کہا گیا ہے کہ قیاس میں ظن ، تخمین اور شک کا عمل دخل ہے کیونکہ اس کا تعلق حواس خمسہ سے ہے ۔ جبکہ خودی تخمین، ظن اور شک سے ماورا ہے ۔

The calculation of its days is not through the revolution of the sky; if you look within, there is no doubt or misgiving about it.

281

اگر کوئی که «من» وهم و گمان است

نمودش چون نمود این و آن است

اگر تو من کو وہم و گمان کہتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور اس کی نمود کی عام اشیاء کی مانند ہے تو ۔

If you say that the ‘I’ is a mere illusion: An appearance among other appearances.

282

بگو با من که دارای گمان کیست

یکی در خود نگر آن بی نشان کیست

مجھ سے پوچھ کہ وہ من کو گمان کہنے والی چیز کیا ہےوہی تو تیرا من ہے ایک بار اپنے اندر کی معرفت تو حاصل کر اور دیکھ کہ وہ بے نشان کون ہے ۔ وہی تو ہے تیری خودی ہے تیری انائے مقید ہے ۔

Then tell me who is the subject of this illusion; look within and discover.

283

جهان پیدا و محتاج دلیلی

نمیآید به فکر جبرئیلی

جہان ظاہری ظاہر ہے اور باوجود اپنے ہونے کی دلیل لے کر آتا ہے وہ جبرئیل جیسے فرشتے کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہے ۔

The world is visible, yet its existence needs proof! Not even the intellect of an angel can comprehend it.

284

خودی پنهان ز حجت بی نیاز است

یکی اندیش و دریاب این چه رازست

خودی پوشیدہ ہے اور استدلال سے بے نیاز ہے ۔ ایک دفعہ غور کر اور پالے کہ راز کیا ہے

The ‘I’ is invisible and needs no proof: Think awhile and see thine own secret!

285

خودی را حق بدان باطل مپندار

خودی را کشت بی حاصل مپندار

خودی کو سچ جان اور باطل نہ سمجھ ۔ خودی کو ایک ایسی کھیتی نہ سمجھ جس کی اپنی کوئی پیداوار نہ ہو ۔

The ‘I’ is Truth, it is no illusion; don’t look upon it as a fruitless field.

286

خودی چون پخته گردد لازوالست

فراق عاشقان عین وصالست

خودی جب پختہ ہو جاتی ہے تو لازوال ہو جاتی ہے ۔ اور عاشقوں کا فراق عین وصال ہوتا ہے ۔ فراق سے ہی وصال کا ظہور ہوتا ہے ۔ (خودی جو انائے مقید ہے اپنے انائے مطلق سے الگ ہو کر پھر اسی کے وصال کی آرزو میں سرگردان رہتی ہے)

When it ripens, it becomes eternal! Lovers, even though separated from the Beloved, live in blissful union!

287

شرر را تیز بالی میتوان داد

تپید لایزالی میتوان داد

شرر کو تیز بازو عطا کئے جا سکتے ہیں اور نہ ختم ہونے والی تڑپ عطا کی جا سکتی ہے ۔ (چنگاری کو خودی کی آنچ دے کر بلند پروازی عطا کی جا سکتی ہے اور خودی کی پرورش کر کے اسے خدا کا مظہر بنا کر لازوال بنایا جا سکتا ہے ۔ )

It is possible to give wings to a mere spark, and to make it flutter for ever and for ever!

288

دوام حق جزای کار او نیست

که او را این دوام از جستجو نیست

خدا کا امر ہونا اس کے اعمال یا کوشش کا نتیجہ نہیں کیونکہ ہمیشہ کے لیے امر ہونا اس کی ذات کا تقاضا ہے ۔

The Eternity of God is (elemental and) not the reward of His action! For His eternity is not through seeking.

289

دوام آن به که جان مستعاری

شود از عشق و مستی پایداری

ہمارا دوام اس لحاظ سے قابل تعریف ہے ، کہ یہ جان مستعار اللہ تعالیٰ کے عشق اور اس کی مستی کے ذریعے پائیداری حاصل کرتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

That eternity is superior, which a borrowed soul wins for herself by love’s frenzy.

290

وجود کوهسار و دشت و در هیچ

جهان فانی خودی باقی دگر هیچ

پہاڑی سلسلے، جنگل اور آبادیاں بے حیثیت ہیں ۔ جہان فانی ہے اوراس جہان کی ہر چیز فانی ہے ۔ صرف خودی کو دوام حاصل ہے ۔

The being of mountains and deserts and cities is nothing, the universe is mortal, the ego immortal and nothing else matters.

291

دگر از شنکر و منصور کم گوی

خدا را هم براه خویشتن جوی

ہندوستان کے مشہور حکیم و دانشور شنکر اور حسین بن منصور حلاج کے بارے میں گفتگو نہ کر ۔ اگر خدا کی تلاش ہے تو اپنے طریقوں سے تلاش کر ۔ (خودی کی پہچان کر کے خدا کو پہچان ۔ پنڈت شنکر کا فلسفہ تھا کہ کائنات خدا کا ایک خواب ہے) ۔

Do not talk of Shankar and Mansur any longer, seek God through seeking your own self.’

292

بخود گم بهر تحقیق خودی شو

انا الحق گوی و صدیق خودی شو

خودی کی تحقیق مقصود ہے تو اپنے آپ میں گم ہو جا ۔ انا الحق کہہ کر خودی کی تصدیق کر ۔ کیونکہ خودی کی پہچان ہی خدا کی پہچان ہے ۔ خلاصہ من یا خودی وہم نہیں حق ہے ۔ انا الحق کا بھی یہی مطلب ہے کہ خودی حق ہے نہ کہ انا الحق کہنے والا خود حق ہے ۔

Be lost in your self to find the reality of the ego, say ‘I am the Truth’ and affirm the existence of the ego.

بند 18
سؤال نهم
Toggle stanza 18
293

که شد بر سر وحدت واقف آخر؟

شناسای چه آمد عارف آخر؟

وحدت کے بھید سے آخر کون واقف ہوا ہے ۔ عارف کو آخر کس چیز کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔

Who at last became familiar with the secret of unity? Who is the wise man that is agnostic?

بند 19
جواب
Toggle stanza 19
294

ته گردون مقام دلپذیر است

و لیکن مهر و ماهش زود میر است

آسمان کے نیچے جو دنیا آباد ہے بڑی دلکش ہے لیکن اس کا سورج اور چاند جلد ہی فنا ہو جانے والا ہے ۔

The world beneath the sky is a charming place, but its sun and moon are prone to decay.

295

بدوش شام نعش آفتابی

کواکب را کفن از ماهتابی

شام کے کندھوں پر سورج کی نعش پائی جاتی ہے ۔ صبح کا طلوع شدہ سورج شام کے وقت ڈوب جاتا ہے اور ستارے چاند کا کفن پہن لیتے ہیں چاند طلوع ہوتے ہی ستارون کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے ۔

The corpse of the sun is carried on the shoulders of the evening; the stars vanish when the moon appears.

296

پرد کهسار چون ریگ روانی

دگرگون می شود دریا بآنی

پہاڑ ریت کی طرح اڑتے ہیں دریا ایک لمحے میں تبدیلی کے عمل سے گزر جاتا ہے ۔

The mountain flies like the moving sand, the river changes in a moment.

297

گلان را در کمین باد خزان است

متاع کاروان از بیم جان است

خزاں کی ہوا گلاب کے پھولوں کی تاک میں ہے ۔ کارواں کی دولت، جان کا خوف ہے ۔ اہل کارواں راہزنوں کے ڈر سے کانپ رہے ہیں ۔

Autumn lies in ambush against the flowers; the merchandise of the caravan is the fear (of loss) of life.

298

ز شبنم لاله را گوهر نماند

دمی ماند دمی دیگر نماند

لالہ کے پھول پر شبنم کا موتی نہیں ٹکتا ۔ ایک وقت یہ موتی ہوتا ہے اور ایک وقت نہیں ہوتا ۔

The tulip does not retain its beauty through dew, if it retains it for a while; it loses it the next moment.

299

نوا نشنیده در چنگی بمیرد

شرر ناجسته در سنگی بمیرد

یہ سنی جانے والی آواز رباب کے ساز ہی میں مرجاتی ہے ۔ اور پتھر سے نہ نکلنے والا شرارہ پتھر کے اندر ہی مر جاتا ہے ۔

The sound dies in the harp without being produced; the flame dies in the stone without manifesting itself.

300

مپرس از من ز عالمگیری مرگ

من و تو از نفس زنجیری مرگ

مجھ سے موت کی عالمگیریت کے بارے میں مت پوچھ میں اور تو سانس کے اعتبارسے موت کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ خلاصہ اس جہان کی ہر شے خوبصورت تو ہے لیکن فنا ہو جانے والی ہے ۔

Don’t ask me about the universality of death, you and I are tied by our breaths to the chain of death.

بند 20
غزل
Toggle stanza 20
301

فنا را بادهٔ هر جام کردند

چه بیدردانه او را عام کردند

کارکنانِ قضا و قدر نے فنا کو ہر پیالے کی شراب بنا دیا ہے اور اسے فنا کو کس رحمی سے عام کیا ہے ۔

Death is destined to be the wine of every cup, how ruthlessly has it been made common!

302

تماشا گاه مرگ ناگهان را

جهان ماه و انجم نام کردند

اس جہانِ ناگہانی اچانک مرگ کی تماشا گاہ کو انہوں نے چاند اور ستاروں کا جہان بنا دیا ہے ۔ (یہ جہان فانی ہے پھر بھی ہم سے دلکشی کا مرکز بنائے ہوئے ہیں ) ۔

The arena of sudden death has been called the world of moon and stars.

303

اگر یک زره اش خوی رم آموخت

به افسون نگاهی رام کردند

اگر اس جہان کے ایک ذرے نے بھی اس سے دور ہونا سیکھا تو انھوں نے جہان کی دلفریبیوں اور دلکشیوں نے اسے پھر اپنے جادو میں گرفتار کر لیا ۔

If any particle of it learnt to fly, it was brought under control by the spell of sight.

304

قرار از ما چه میجوئی که ما را

اسیر گردش ایام کردند

تو ہم سے ہمارے دوانی یا مستقل ہونے کی تلاش کیوں کرتا ہے کیونکہ ہمیں تو گردشِ ایام نے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے ۔ (چونکہ اس زمانے کو قرار نہیں وہ تغیر و تبدل سے گزرتا رہتا ہے اس لیے ہم بھی اس عمل سے گزرتے رہتے ہیں ) ۔

Why do you seek rest for us? We are tied to the revolutions of the days.

305

خودی در سینهٔ چاکی نگهدار

ازین کوکب چراغ شام کردند

اس جہان کی ہر شے فنا ہونے والی ہے ۔ لیکن تو خودی کی معرفت حاصل کر کے اسے اپنے عشق بھرے سینے میں حفاظت سے رکھ ۔ کیونکہ یہی وہ ستارہ ہے جس سے شام روشن کی گئی ہے ۔

Be careful of the ego within your heart, from this star, the night was illumined.

306

جهان یکسر مقام آفلین است

درین غربت سرا عرفان همین است

جہان بہر طور فنا ہونے والا باطل ہے ۔ اس غربت سرا (جہاں ) میں جہاں انسان مسافر کی طرح آتا ہے ۔ اور پھر اپنے اصلی وطن کو لوٹ جاتا ہے معرفت تو یہی کہ وہ مسافر اس جہان کو باطل سمجھے ۔

The world is absolutely a place of decay; this is the gnosis in this strange land.

307

دل ما در تلاش باطلی نیست

نصیب ما غم بی حاصلی نیست

ہمارا دل کسی باطل کی تلاش میں نہیں ہے ۔ ہمارے مقدر میں ایسا کوئی غم نہیں ہے جس کا کوئی حاصل نہ ہو ۔

Our heart is not seeking anything futile; our lot is not fruitless grief.

308

نگه دارند اینجا آرزو را

سرور ذوق و شوق جستجو را

اس جہان میں آرزو پر نظر رکھتے ہیں ۔ اس جگہ سرور و کیف، ذوق و شوق اور جستجوئے درست کو نگاہ میں رکھا جاتا ہے ۔

Desire is looked after here, and also the intoxication of the yearning of search.

309

خودی را لازوالی میتوان کرد

فراقی را وصالی میتوان کرد

خودی کو لازوال کیا جا سکتا ہے اور فراق کو وصال کیا جا سکتا ہے ۔

Ego can be made immortal; separation can be changed into union.

310

چراغی از دم گرمی توان سوخت

به سوزن چاک گردون میتوان دوخت

گرم سانس سے چراغ جلایا جا سکتا ہے ۔ جب عشق سے خودی لازوال ہو جائے تو سوئی سے آسمان کا چاک سینہ سیا جا سکتا ہے ۔ خودی کی معرفت کے بعد ہر ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔ خلاصہ باطل اور مٹنے والی جان کا عرفان یہی ہے کہ آرزو کو زندہ رکھا جائے اور جہاں کی تسخیر کے لیے ذوق و شوق اور جستجو سے خودی کو لازوال بنایا جائے ۔

A lamp can be lit by our hot breath; crack in the sky can be sewn by a needle.

311

خدای زنده بی ذوق سخن نیست

تجلی های او بی انجمن نیست

زندہ خدا گفتگو کے ذوق کے بغیر نہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے انسان کو بات کرنا سکھایا تا کہ اس سے ہمکلام ہو سکے اور اگر انجمن نہ ہوتی تو اس کے حسن کے جلوے بیکار جاتے ۔

The Living God is not without a taste for beauty; his manifestations are not without society.

312

که برق جلوهٔ او بر جگر زد؟

که خورد آن باده و ساغر بسر زد

اس کے حسن کے جلوے کی بجلی کو کس نے جگر پر گرایاکس نے اس کی محبت کی شراب پی کر پیالے کو سر پر مار کر اسے توڑ دیا ۔ اس کی محبت کی شراب پینے کے بعد کسی اور شراب کی تمنا باقی نہ رہی ۔

Who cast the lightning of His Grace on the heart? Who drank that wine and struck the cup on the head?

313

عیار حسن و خوبی از دل کیست؟

مه او در طواف منزل کیست؟

حسن اور خوبی کا معیار کس کے دل کی وجہ سے ہےاور اس کا چاند کس کی منزل کے طواف میں رواں دواں ہے ۔

Whose heart is the criterion of beauty and good? Whose house is it round which His moon revolves?

314

«الست» از خلوت نازی که برخاست

«بلی» از پردهٔ سازی که برخاست

الست بربکم (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ) کا سوال کس کی اداؤں کی خلوت سے بلند ہوا اور اس سوال کے جواب میں بلیٰ (ہاں ) کا جواب کس کے ساز کے پردہ یعنی سر سے نکلا (کس نے کہا ہاں تو میرا رب ہے) ۔

From whose privacy the cry of ‘Am I not your Lord’ arose? From whose musical strings the answer of ‘Yes’ appeared?

315

چه آتش عشق در خاکی بر افروخت

هزاران پرده یک آواز ما سوخت

عشق نے آدم کے جسم خاکی میں یہ کونسی آگ جلائی ہے ۔ کہ ہماری آواز نے ہزاروں پردے جلا دیئے ۔ اور اس حسن کے جلووں کا تماشا کر لیا ۔

What a fire Love kindled in this handful of dust; one cry from us burnt down thousands of veils.

316

اگر مائیم گردان جام ساقی است

به بزمش گرمی هنگامه باقی است

ہماری وجہ سے ساقی کا جام گردش میں ہے ہماری وجہ سے اس کی محفل میں رونق ہے ۔

It is only our presence that keeps the cup of the Saki in motion and maintain liveliness in His society.

317

مرا دل سوخت بر تنهائی او

کنم سامان بزم آرائی او

میرا دل اس کی تنہائی پر جل اٹھا ۔ اس لیے میں اس کے لیے بزم سجانے کا کام کر رہا ہوں ۔

My heart burns on the loneliness of God! In order, therefore, to maintain intact His Ego-Society.

318

مثال دانه می کارم خودی را

برای او نگهدارم خودی را

میں اپنی زندگی کی کھیتی میں خودی کو دانے کی طرح کاشت کر رہا ہوں ۔ میں اس کے لیے خودی کی حفاظت کر رہا ہوں ۔ اس کی معرفت حاصل کر رہا ہوں کیونکہ خودی کی پہچان ہی خدا کی معرفت ہے ۔ خلاصہ اس بند میں اللہ اور اسکے بندے کے درمیان وہ عہدِ محبت ہے جو بندے نے بلیٰ کہہ الست بربکم کی تصدیق کے وقت کیا تھا ۔

I sow in my dust the seed of selfhood, and keep a constant vigil over my ‘I’.

بند 21
خاتمه
Toggle stanza 21
319

تو شمشیری ز کام خود برون آ

برون آ ، از نیام خود برون آ

تو تلوار ہے اپنی نیام سے باہر آ، باہر آ، اپنی نیام سے باہر آ۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

You are a sword, come out of your cover, come out of your sheath.

320

نقاب از ممکنات خویش برگیر

مه و خورشید و انجم را به برگیر

اپنی ممکنات سے پردہ ہٹا، چاند سورج، اور ستاروں کو مسخر کر۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Remove the veil from your potentialities; take hold of the moon, the sun and the stars.

321

شب خود روشن از نور یقین کن

ید بیضا برون از آستین کن

اپنی ذات کو نور یقین سے روشن کر، اپنی آستین سے ید بیضا باہر نکال۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Illumine your night by the light of faith; take your white hand out of the armpit.

322

کسی کو دیده را بر دل گشود است

شراری کشت و پروینی درود است

جس نے دل پر اپنی نگاہ رکھی ، اس نے شرر بویا اور پروین (ستارہ) حاصل کیا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

He who has opened his eyes on the heart has sown a spark and reaped a fire.

323

شراری جسته ئی گیر از درونم

که من مانند رومی گرم خونم

میرے اندر سے اٹھتے ہوئے شرارے کو لے لے، میں رومی کی مانند گرم خون ہوں۔ (میرے اندر شرارے نکل رہے ہیں۔)

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Have a spark from my innermost heart, for my heart is as fiery as Rumi’s.

324

وگرنه آتش از تهذیب نوگیر

برون خود بیفروز ، اندرون میر

اگر مجھ سے کچھ نہیں لیتا تو پھر تہذیب نو کی آتش لے لے، اور اس سے اپنا ظاہر چمکا اور اندر سے مر جا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Otherwise get fire from the new Culture of the West, adorn your exterior and bring spiritual death on you.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به سواد دیدهٔ تو نظر آفریده‌ام من

به ضمیر تو جهانی دگر آفریده‌ام من

علامہ اقبال»زبور عجم»گلشن راز جدید»بخش 1 - به سواد دیدهٔ تو نظر آفریده‌ام من

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور