وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
وزنِ مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی) میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے —
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا —
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے؟ —
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں —
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو —
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں ) —
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا —
پانی کا قطرہ جب اندر سے چمک اٹھتا ہے —
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں —
ساحل پر بزم آراستہ نہ کر —
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں —
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول —
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ —
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو —
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا —
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں —
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں —
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے —
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں —
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے —
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے —
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے —
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے —
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے —
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا —
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ —
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے —
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل —
میں کیا کہوں کہ خیر و شر کیا ہے —
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ —
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں —
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن —
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے —
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے —
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں —
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے —
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ —
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا —