وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے —
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا —
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے؟ —
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں —
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو —
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں ) —
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا —
پانی کا قطرہ جب اندر سے چمک اٹھتا ہے —
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں —
ساحل پر بزم آراستہ نہ کر —
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں —
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول —
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ —
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو —
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا —
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں —
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں —
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے —
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں —
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے —
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے —
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے —
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے —
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے —
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا —
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ —
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے —
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل —
میں کیا کہوں کہ خیر و شر کیا ہے —
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ —
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں —
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن —
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے —
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے —
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں —
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے —
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ —
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا —