وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
وزنِ مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی) میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق
بزمِ وجود ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر گواہ ہے —
باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے —
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے —
عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے —
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے —
ہر شخص محبت کی دولت رکھنے والا نہیں —
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں —
یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے —
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا —
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں) —
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —
اے دل! توکب پروانے کی سی نادانی اختیار کیے رکھے گا؟ —
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر —
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا —
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالے کی جناب میں عرض کی —
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے —
دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا —
اے فخر سے پرواز کرتی نئی روح! —
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا —
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے —
اے دل، میرے دل، تو اُس کی راہ پر چل پڑا ہے! —
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے —
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر —
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے —
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ —
جو تجھے اپنا آپ بھلا دے —
تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا —
ہونے اور نہ ہونے کے چکر سے نکل —
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں —
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے —
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی —
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں —
اگر خدا نے تیرے بدن میں —
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں —
جب مجھے نغمے کا ذوق جلوت میں لاتا ہے —
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے —
عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا —
گرجا، مسجد، مندر اور آتشکدہ —
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا —
پرانے شرابی کو دوبارہ ہوش میں لے آئی —
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا —
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے —
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا —
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو —
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے —
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں —
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے —